مسائل حل کرنے کیلئے حضور پاکؐ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہو گا،اختر قریشی

مسائل حل کرنے کیلئے حضور پاکؐ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہو گا،اختر قریشی

  

لاہور(لیڈی رپورٹر)خاتم النبین حضرت محمدؐکے ا سوہ سے رہنمائی لیکر ہی ہم اپنے انفرادی اوراجتماعی مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔ نعت خوانی ایک لازوال فن ہے جو سیکھنے سے آتا ہے۔ بچوں کو نعت اسی طرح پڑھنی چاہئے جو اسکا صحیح ادب اور تقاضا ہے جبکہ سُرسے زیادہ تلفظ پر توجہ دیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی نے نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام جاری اپنی نوعیت کے منفرد پروگرام نظریاتی سمر سکول کے 20 ویں سالانہ تعلیمی سیشن (آن لائن)کے اکیسویں روز اپنے خطاب کے دوران کیا۔

اس سکول کا ماٹو ”پاکستان سے پیار کرو“ ہے۔ الحاج اختر حسین قریشی نے کہاکہ مادیت کے اس دورمیں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پیغام کو اپنانے اور پھیلانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمکی سیرت طیبہ پر عمل پیراہو کرہی دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ اچھے نعت خواں کیلئے ضروری ہے کہ وہ مہذب اور باکردار یعنی با عمل اور سچا مسلمان ہو۔ وہ نہ صرف یہ کہ خوش الحان ہو بلکہ اسے زبان و ادب پر بھی عبور ہو، تاکہ جب وہ نعت خوانی کیلئے کسی شاعر کے کلام کا انتخاب کرے تو اسے اس کلام کا مفہوم اچھی طرح معلوم ہو۔اچھا نعت خواں تلفظ پرمکمل عبور رکھتا ہے۔بر صغیر کی تقریباً تمام زبانوں میں اور تمام علاقوں میں نعت خوانی کی محفلیں منعقد ہوتی ہیں۔ سیرتِ مطہرہ کے روشن دریچوں کی زیارت کریں تو حضرت حسان بن ثابتؓ کی نعت گوئی کیف و مستی کا ایک سیلِ بیکراں رواں کرتی دکھائی دیتی ہے۔ نعت پڑھتے ہوئے ایسا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہئے جس سے کسی بھی طرح کی بے ادبی کا شائبہ گزرتا ہو۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -