پر امن لوگ ہیں تشدد پر یقین نہیں رکھتے،صدیق آفریدی

  پر امن لوگ ہیں تشدد پر یقین نہیں رکھتے،صدیق آفریدی

  

جمرود(نمائندہ خصوصی)جمرود،شاہ کس زمین سارخیل قبیلے سے فی جرب 20 لاکھ روپے خریدی ہے الحاج خاندان اور سارخیل قبیلے کا مشترکہ پریس کانفرنس الحاج خاندان نے سارخیل قبیلے کے مشران کے ہمراہ جمرود پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان پر لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خاندان نے شاہ کس میں سارخیل قبیلے سے 90جرب زمین 20 لاکھ روپے فی جرب خریدی ہے جن کا معاوضہ سارخیل قبیلے کے مشران کو دیا گیا ہے تاہم سارخیل قبیلے کے کچھ افراد ہٹ دھرمی پر اتر آئے ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الحاج خاندان کے مشران الحاج صدیق افریدی، حاجی عابد افریدی، الحاج سید نواب افریدی، الحاج خان افسر افریدی، جاوید افریدی، گل نواب افریدی، حاجی ریاض افریدی، سارخیل قبیلے کے مشران حاجی سلیم افریدی، حاجی خالد افریدی نے کہا کہ عدالت میں مخالف کچھ افراد نے سٹے آرڈر رکھا تھا جب سٹے آرڈر ختم ہوا تو ہم نے تعمیرات شروع کی جس پر سار خیل قبیلے کے کچھ افراد نے فائرنگ کردی جس سے الحاج خاندان کے حاجی جمال شیر افریدی شدید زخمی ہوا ہے جو اب بھی ہسپتال میں ہے انہوں نے کہا کہ ہم پر امن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کریں گے عدالت اور جرگہ ممبران سے اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے تیار ہے،انہوں نے کہا کہ الحاج شاہ جی گل افریدی سینٹر الحاج تاج محمد افریدی، الحاج قابل شیر افریدی اور ان کے بھائیوں پر جانبداری کا الزام سراسر غلط ہے کیوں کہ ان کے مزکورہ زمین میں ایک انچ بھی نہیں اس لیے اس تنازعہ میں ان کا کوئی کردار نہیں اس لیے ان پر الزامات نہ لگائی جائے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سارخیل قبیلے کے کچھ افراد کے خلاف قانونی کاروائی کریں، سارخیل قبیلے کے مشران حاجی سلیم افریدی، خالد افریدی،زالب گل افریدی و دیگر نے کہا کہ سارخیل قبیلے نے الحاج خاندان پر مزکورہ زمین فروخت کی ہے اگر ایک والد اپنے بیٹے کو پیسے نہیں دیتے اس پر ہماری کوئی ذمہ داری نہیں،جب تک عدالت فیصلہ نہ سنائے مزکورہ زمین کے تنازعہ میں شر اور امن خراب بنانے سے باز رہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -