وزیراعلیٰ کا چائلڈپر وٹیکیشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے سربراہ کی تعیناتی میں تاخیرپر برہمی کا اظہار

وزیراعلیٰ کا چائلڈپر وٹیکیشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے سربراہ کی تعیناتی میں ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے چائلڈ پروٹیکیشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے سربراہ کی تعیناتی میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ سماجی بہبود کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق کمیشن کے چیف پروٹیکیشن آفیسر کی کم سے کم ممکنہ وقت میں تعیناتی کو یقینی بنایا جا ئے تاکہ اس ادارے کو مکمل طور پر فعال بنایا جا سکے۔ اور اس کے قیام کے مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ صوبے کے تمام اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کو بھی مکمل طور پر فعال بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے جائیں۔ یہ ہدایات اُنہوں نے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے ایک اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے جاری کی۔ اجلاس کو مذکورہ کمیشن کے سربراہ کی تعیناتی میں تاخیر کی وجوہات، خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکیشن یونٹس کے اعراض و مقاصد اور کارکردگی، کمیشن کے سروس ریگولیشنز میں ترامیم اور دیگر اُمور پر تفصیلی بریفینگ دی گئی۔صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود ہشام انعام اللہ، ممبران صوبائی اسمبلی اور کمیشن کے ممبران پیر فدا محمد، ڈاکٹر سمیرا شمس اور عائشہ بانو کے علاوہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری سماجی بہبود ادریس خان، ڈپٹی چیف چائلڈ پروٹیکشن اعجاز خان اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت کی کہ کمیشن کے سربراہ کی جلد تعیناتی کی راہ میں حائل پیچیدگیوں کو دور کرنے کیلئے متعلقہ قواعد وضوابط میں ترمیم کرکے پندرہ دنوں کے اندر اندر طریقہ کار وضع کیا جائے اور اس مقصد کیلئے جلدسرچ اینڈ نامینشن کونسل تشکیل دی جائے۔ بچوں کے خلاف تشدد اور استحصال کے تدارک کیلئے چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے قیام کو قت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام اضلاع میں ان مراکز کو مکمل طور پر فعال بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے جائیں اور ان مراکز کیلئے درکار عملے کے لئے بھرتیوں کا عمل تیز کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی کہ محکمہ کمیشن کے سربراہ کی تعیناتی سمیت چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کو فعال کرنے کیلئے لائحہ عمل اور طریقہ کار ہر لحاظ سے مکمل کرکے منظوری کیلئے کمیشن کے اگلے اجلاس میں پیش کرے۔ اجلاس میں کمیشن کے چیف پروٹیکشن آفیسر کی تعیناتی تک کمیشن کے اُمور کو چلانے کیلئے ڈپٹی چیف چائلڈ پروٹیکیشن کو چیف پروٹیکشن آفیسر کی اضافی ذمہ داری تفویض کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی۔بچوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے کمزور طبقوں کے خلاف تشدد کی روک تھام، اُ ن کے حقوق کے مکمل تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کو اپنی حکومت کی ترجیحات کا حصہ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے پشاور میں نئے تعینات ہونے والے افغان قونصل جنرل نجیب اللہ احمد زئی نے تعارفی ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے مختلف اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ کمشنر افغان مہاجرین اور قونصل خانے کا دیگر عملہ بھی اس موقع پر موجود تھا۔اس موقع پرباہمی دلچسپی کے دیگر اُمور کے علاوہ صوبے میں مقیم افغان مہاجرین سے متعلق اُمور پر بات چیت کی گئی۔ افغان قونصل جنرل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے کہاکہ افغانستان اور پاکستان برادر اسلامی ملک ہیں، دونوں ملکوں کے لوگ مذہبی،ثقافتی اور نسلی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کیلئے ناگزیر ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کرنے پر حکومت پاکستان اور خصوصاً خیبرپختونخوا حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے افغان قونصل جنرل نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام نے پختون روایات کے عین مطابق اپنے افغان بھائیوں کی مہمان نوازی کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے بحیثیت قونصل تعیناتی پر نجیب اللہ احمد زئی کو مبارکباد دیتے ہوئے اُن کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

مزید :

صفحہ اول -