پھانسی گھاٹ

پھانسی گھاٹ
 پھانسی گھاٹ

  

سپریم کورٹ نے قتل کیس میں سزائے موت کے قیدی کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے  22 سال بعد  بری کر دیا  بعد میں معلوم ہوا کہ قیدی 10 سال  پہلے جیل میں فوت ہو چکا ہے  ۔ عدالت میں استغاثہ کیس ثابت نہیں کر سکا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ پولیس اصل ملزم تک پہنچ جاتی ہے مگر جھوٹےگواہ بنائے جاتے ہیں۔ سچی گواہی کے بغیر نظامِ عدل نہیں چل سکتا۔فیس بک پر یہ نیوز پڑھ کر مجھ کو  چند سال  پہلے اکتوبر کے مہینےمیں ایک جاننے والے سے نہ بھولنے والی گفتگو جس میں گفتگو کے ساتھ عکسِ و منظر نامہ اور ساتھ ساتھ اس دوران محسوس کی جانے والی ذہنی اذیت اور مایوسی کی یاد تازہ ہو گئی جو ایک یاد گار  منظر نامہ کے طور پر بیان کرنا چاہوں گا۔

کسی کی موت اچانک آ جائے تو سن کر خود کو تسلی دی جاتی ہے کہ  وقت آ چکا تھا اور آئی کو ٹالا نہیں جا سکتا ہے ۔یہ الفاظ  کہنےکےبعد سب مختلف ٹولیوں میں بٹ کر دنیا داری کی باتوں میں اتنے زیادہ مشغول ہو جاتے ہیں کہ ارد گرد کے ماحول کو نظر انداز کر کے ہلکی پھیکی مسکراہٹ سے وقت گزار کر اپنی راہ لیتے ہیں اور آخر میں بھی یہی الفاظ ہوتے ہیں کہ أئی کو کون ٹال سکتا ہے کچھ لوگ وہ بھی ھوتے ھیں جو کچھ آنجہانی اموات کو آنکھوں سامنے دیکھتے ہیں اور  ان کے لئے ایسے واقعات عمر بھر  یاد رکھنے والے چند لمحات کا حصہ بن جاتے ہیں ـ لیکن کچھ اموات ایسی ہوتی ہیں جس سے دشمن کے بھی رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ ایسی اموات  ہیں کہ جن کا موت آنے سےپہلے ہی  ملک الموت کے طے شدہ  وقت کا علم ہو جاتا ہے ـ ایسی اموات میں  سے چند اموات جو اُس رات  ٹھیک 55  منٹ بعد:بوقت 3 بجکر 45  منٹ پر بروز منگل تاریح  13 اکتوبر 2015 کو ڈسٹرکٹ جیل گجرات میں سلسلہ شروع ہونے والا تھا جس میں دوسگے بھائیوں کو بھی ایک ہی وقت پھانسی دی جا رہی تھی ـ

 اس رات بیلجیم سے بذریعہ فون ایک جاننے والے قیدی سے محوِ گفتگو تھا ان دنوں جیل میں روابط بذریعہ موبائل فون عام سی بات تھی کیونکہ پیسہ بولتا تھا ۔ دوران گفتگو جاننے والے قیدینے جو کچھ بتایا  اس کے الفاظِ گفتگو کچھ اس طرع تھے یار عمران! آج چاہتے ہوئے بھی نیند نہیں آ رہی ہے کیونکہ آج راتاندرونِ جیل   جاننے والے کچھ  قیدیوں کو پھانسی دی جا رہی ہے  اور  میری   بارک سے پھانسی گھاٹ کا فاصلہ صرف ایک روشندان کی دوری کا ہے ۔۔۔اگر چاہوں تو ساتھ بیٹھے ساتھی کے سہارے وہ لمہات  اپنی آنکھوں سی بھی دیکھ سکتا ہوں ۔۔لیکن کیسےدیکھوں! دونوں بھائی جب بھی مجھے ملتے تھے ان کے چہرے پر اپنائیت جیسی خوشی رہتی تھی اور ان کو موت کا لقمہ بنتے کیسے دیکھسکتا ہوں۔ اور پھر اگر دیکھ بھی لوں تو دوہرے خوف کا سامنا کرنا مشکل ہو جائے گا ایک ان کی طے شدہ اموات کا حقیقت کاروپ دھارنا اور دوسرا ملک الموت  جس کا میں انتظار کر رہا ہوں یوں نا جانے کب میرا بھی پیام نامہ لے کر  آ جائے  آج سب سے پہلے ایک بے گناہ قیدی کو  پھانسی دی جا رہی ہے اُس قیدی کے ساتھ بھی جیل کے باغیچے میں اکثر مسکراہٹ سے سلام دعا ہوتی تھی  اس نے آج آخری ملاقات کے دوران سب قیدیوں کے سامنے حلفیہ اقرار کیا تھا کہ  بے گناہ ہو کر بھیسزا اس کے مقدر میں ٹھہری  ہے اور مرنے سے پہلے سچ بولنے کو ترجیع دینا چاہتا ہے  اس  سے پہلے اس کا مکمل تعارف نہیں ہواتھا لیکن آج اس کی آنے والی موت کے پیام نامے کے ساتھ اس کا مکمل نام ، ولدیت اور گاؤں کے نام کا بھی معلوم ہو گیا تھا ـچند ہفتے پہلے 17 ستمبر کو اسی پھانسی گھاٹ کے قریب سستانے کے لئے بیٹھ گیا تھا اور ایک عجیب سی چیخ کی آواز سن کر سہم گیاتھا شائد یہ میرا وہم تھا لیکن اُس یوم  رات کو میں نے نیند میں  اچانک چیخنا شروع کر دیا اور بارک میں ساتھی قیدیوں  نے مجھےجگایا  دلاسہ دیا اور پھر تھوڑی دیر بعد سب قیدی ساتھی تھوڑی سی گفتگو کرنے کے بعد دوبارہ سو گئے لیکن میں سو نہ سکا اور یہی سوچتا رہا کہ نا جانے کتنے بے گناہ بھی اس بظاہر نظر آنے والے منصف پھانسی گھاٹ کا شکار ہو چکے ھوں گےـ لیکن اس عمل میں پھانسی گھاٹ کا قصور نہیں کیونکہ یہ اپنے فرض کی ادائیگی کر رہا ہے اور قصور تو اس جج صاحب کا ہے جس نے صرف ثبوت اور گواہکی روشنی میں اپنا فیصلہ لکھنا ہوتا ہے ـ اب ٹھوس ثبوت ؛ مہنگے وکیل اور مطلب پرست  گواہ روپیوں مال و دولت  سے بھی خریدے جا سکتے ہیں  اور اگر یہ پھانسی گھاٹ نا ہوتے تو گھروں اور محلوں سے زیادہ جیل خانے بنائے جاتےـ اور شریف بننا گناہ اورنامور ڈکیت اور سب سے زیادہ قتل کرنے والا قاتل سردار ہوتا اور جج صاحبان اور وکیل ان کے مویشیوں کو چارہ ڈال رہےہوتے ۔  ھاھاھا ! چپ کیوں ھو گئے ـ یار عمران !  آوازیں آنا شروع ہو گئی ھیں۔۔ لگتا ھے انتظامات مکمل ہو گئے ہیں ان کو پھانسی گھاٹ کی طرف لایا جا رہا ھے ـ 9 منٹ رہ گئے ہیں اب میرا دل بھی گھبرا رہا ہے میں وضو کرنے لگا ہوں نماز کا وقت ہو گیاہے أج نماز ہی پڑھ لوں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ لوں نہ جانے کب میری باری آ جائے گی اور ادھر نہیں تو قبر اور آخرتمیں اللہ کے عذاب سے شائد بچ جاؤں ۔ لگتا ہے ان کے گلے میں رسے ڈال دئے گئے ہیں اور اب 1 منٹ بعد پھٹے کھینچ لئےجائیں گےـ ٹائم ہو گیا ہے ٹخ کی آواز آئی ہے لگتا ہے بے گناہ قیدی موت کی بازی ہار گیا ۔ ۔۔فون کال

بھی بند ؛ہیلو ہیلو

آئی کو کون ٹال سکتا ہے

بزرگوں سے سنا تھا کہ ان کے زمانہ میں جب کوئی قتل ہوتا تو سرخ آندھی طوفان اور بارش آتی تھی اور   اس حقیقت کو بھی جان لیا تھا  کہ اس دن بروز 13 اکتوبر 2015 کو گجرات سنٹرل جیل میں 3 بندوں کو پھانسی لگنے والی تھی مجرم اس لئے نہیں لکھا کیونکہ ان 3میں سے ایک میرے دوست تھا اسکے الفاظ کے مطابق وہ بے گناہ تھا اور اس کا ثبوت گجرات شہر میں سنٹرل جیل کے اردگرد مکینوں میں جو صبح اس وقت جاگ رہے تھے کو معلوم ہو گا کہ ادھر ان 3 میں سے اس بے گناہ کو ڀھانسی گھاٹ کی طرف لایا جارہا تھا اور اچانک بہت ہی تیز آندھی اور بارش کا سلسلہ جاری ھو گیا تھا جیل سے باھر رہنے والے لوگوں کے لیے یہ معمول کاخراب موسم تھا لیکن سنٹرل جیل کے اندر رہنے والے لوگوں کے لیے ایک ان دیکھے مگر قیدی کے آخری لمحوں میں حقیقت سےجُڑے مگر دب جانے والے وہ الفاظ تھے ـ

جن کو وہ دو صدیاں پرانے رائج الحال انگریزی نظام کے وجہ سے  ہار چکا تھا جھوٹے گواہ ـ بیش قیمت ترازو ـ قبضہ گروپ پراپرٹی ڈیلر ؛ مہنگے وکیل اور گھٹیا طرز کی دشمن دار پارٹیاں، ضمیر فروش سیاست دان  اور اصل مجرمان جو دبئی یورپ اور دیگر ڈیرے داری میں مشغول بدمعاش صفت افراد کو  باہمی گفتگو کے دوران اکچر کو یہ الفاظ کہتےسنا ہے کہ پاکستان کا کیا بنے گا؟

مزید آخر پر زاتی رائے اس لیے نہیں لکھ سکتا کیونکہ یہ غیر آئنی اور خلاف قانون ہے کیونکہ انصاف کے ادارے کی توہین ناقابلبرداشت ہو گی مگر ایک بات ضرور کہوں گا کہ  جج صاحب کے ریمارکس تاریخی خطبات کا حصہ تو بن جائیں گے مگر ان الفاظ بیان کو عملی شکلدینے پر کسی کی توجہ نہ ہو گی اور نہ ہی جج صاحب نے فیصلے کے بعد اس شخص کے 12 سال کے تاریک مستقبل کو روشن کرنےکے لئے کوئی اقدام کیا ہو گا اور ان کی سوچ سے یہ بات بالاتر ہو گی  کہ وہ شخص جیل میں عرصہ دراز رہنے اور پھر  رہائی  کے بعداپنے ذریعہ معاش کا بندوبست کیسے کرے گا؟ بڑی احتیاط اور ڈر سے جان کی امان چاہتے ہوئے ایک بات عرض کرنا چاہوں گا کہ اگرانگریزی نظام کو ہی رائج رکھنا ہے تو ان کے  جدید نظام ِ انکوائری و قانون کو لاگو کیا جائے جس کے تحت  ان ممالک میں گناہ گارجیل میں اور بے گناہ عزت و آبرو سے زندگی گزار رہا ہے۔ اور اگر اسلامی نظام کو رائج کرنا ہے تو ملک میں اسلامی اصلاحات کاعملی نظام لایا جائے ۔ اور اس کا ایک مکمل زیرِ نگرانی سیٹ اپ ترتیب دیا جائے ۔ جس میں انکوائری کرنے والے کو بھی اسنظریہ سے زیرِ نگاہ رکھا جائے کہ بے انصافی کی صورت میں وہ بھی سزا کا حق دار ٹھہرے ۔ مگر پاکستان کا قانون تو  مفاد پرست افراداپنی ضروریات  کے مطابق پارلیمنٹ سے حلال کرواتے ہیں ۔ جس میں امیر عزت دار ملزم اور غریب بے وجہ مجرم قرار پاتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں ایک بے گناہ اگر کچھ عرصہ کے لئے قید کیا جاتا ہے تو اس کو  بلاوجہ گرفتار کرنے پر اس کی آمدنی سے بڑھ کراس کو محصوص  عرصہِ قید میں رکھنے کی مد میں بے تخاشا معاوضہ دیا جا تا ہے اور ساتھ ساتھ معاشرے میں اس کی مشکوک ہو جانےوالی شخصیت کو دوبارہ باعزت بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں جب تک انصاف کرنے والوں کا احتساب نہیں ہو گا اس وقت تک منصف اور فرعون ایک ہی تخت پر براجمان نظرآئیں گے۔

اگر انصاف کی فراہمی ناقص ہو تو ملک تباہی کے دھانے پر چلا جاتا ہے۔انصاف کی غیر یقینی صورتحال ایسی ہے کہ  منصف فرعونکی صف میں کھڑے ہیں جو صرف حکم کرتے ہیں سنتے نہیں۔ججز کا بھی احتساب ہونا چاہئے ۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -