وزیراعظم کا نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کیلئے بھاری سبسڈی دینے کا اعلان، رقم اتنی کہ یقین کرنا مشکل

وزیراعظم کا نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کیلئے بھاری سبسڈی دینے کا اعلان، رقم ...
وزیراعظم کا نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کیلئے بھاری سبسڈی دینے کا اعلان، رقم اتنی کہ یقین کرنا مشکل

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ اسکیم کیلئے 30 ارب روپے سبسڈی دی جائے گی۔وزیراعظم عمران خان نے ہاﺅسنگ وتعمیرات سیکٹر کی ترقی کے لیے مراعات و سہولیات کا اعلان کرتے ہوئے نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ کے لئے 30 ارب روپے کی سبسڈی مختص کردی ہے، پہلے ایک لاکھ گھروں کی تعمیر پر فی گھر تین لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی، قرضے کی صورت میں مارک اپ کی شرح پانچ مرلہ مکان کے لیے پانچ فیصد اور 10 مرلہ مکان کے لیے 7 فیصد ہو گی، این او سی اور دیگر سہولیات کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر ون ونڈو آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سستے گھروں کی تعمیر پر ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے۔ گھر کی خریداری پر ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے، تمام لوگ31 دسمبر تک سہولیات سے استفادہ کرسکیں گے، عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی کی مد میں31 دسمبر تک مہلت ملی ہے، اس کے بعد یہ سہولت ختم ہو جائے گی۔

ہاو¿سنگ اور تعمیرات کی قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہاﺅسنگ و تعمیرات کے شعبہ کو ترقی دینے سے ملکی معیشت کو استحکام ملے گا۔ نجی بینک سستے گھروں کی تعمیر کیلئے330 ارب روپے کے قرضے دینگے۔ ہاﺅسنگ و تعمیرات کے شعبہ میں ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں اور مشکلات دور کرنے کے لئے قومی رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے مختلف جہتوں میں کام کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہاﺅسنگ و تعمیرات کے شعبہ کی ترقی سے جہاں عام لوگوں کو اپنا گھر بنانے کی سہولت حاصل ہو گی، وہاں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، تعمیراتی صنعتوں کا پہیہ چلنے سے ملکی معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کا مقصد غریب اور کم آمدنی والے لوگوں کو گھر بنانے میں مدد دینا اور ملک میں روزگارکے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس سہولت سے کم آمدنی والے طبقات کو اپنا گھر بنانے میں آسانی ہو گی اور مکان کی لاگت میں بھی واضح کمی آئے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے بینکوں کو آمادہ کیا ہے کہ وہ اپنے پورٹ فولیو کا پانچ فیصد تعمیرات کے لئے مختص کریں۔ اس طرح ہاﺅسنگ و تعمیرات سیکٹرکیلئے 330 ارب روپے مختص ہوں گے۔ اس شعبہ کے لئے ٹیکسوں میں بھی کمی کی گئی ہے جس سے تعمیرات کی لاگت کم ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی حکومت نے ہاﺅسنگ اور تعمیرات کے شعبہ اور کم آمدنی والے طبقہ کواپنا گھر بنانے میں سہولت دینے کے لئے اتنا کام نہیں کیا۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -