وزیراعظم کوآپ بتاتے کیوں نہیں وائلڈلائف سے متعلق قوانین موجودہیں،جانوروں کے حقوق سے متعلق قوانین پرعمل ہی نہیں ہورہا، چیف جسٹس اطہر من اللہ

وزیراعظم کوآپ بتاتے کیوں نہیں وائلڈلائف سے متعلق قوانین موجودہیں،جانوروں ...
وزیراعظم کوآپ بتاتے کیوں نہیں وائلڈلائف سے متعلق قوانین موجودہیں،جانوروں کے حقوق سے متعلق قوانین پرعمل ہی نہیں ہورہا، چیف جسٹس اطہر من اللہ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چڑیاگھرسے جانوروں کی عدم منتقلی سے متعلق کیس میں اسلام آبادہائیکورٹ نے فریقین کومیٹنگ کرکے پیرتک حل نکالنے کاحکم دیدیا،عدالت نے کہاکہ جانوروں کی منتقلی،وائلڈلائف قوانین پرعملدرآمدکالائحہ عمل تیارکریں،عدالت نے وائلدلائف قوانین وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کابھی حکم دیدیا،عدالت نے کہاکہ آئندہ ہفتے تک فیصلہ کرکے رپورٹ جمع کرائی جائے،جانوروں کی محفوظ پناہ گاہ میں منتقلی کیلئے مہلت میں توسیع نہیں دیں گے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ وزیراعظم بھی کاون سے متعلق بات کرچکے کیسے اس پرظلم ہوا،وزیراعظم نے یہ بھی کہالوگوں کوپتہ ہی نہیں نیشنل پارک کیاہوتاہے،وزیراعظم کوآپ بتاتے کیوں نہیں وائلڈلائف سے متعلق قوانین موجودہیں،جانوروں کے حقوق سے متعلق قوانین پرعمل ہی نہیں ہورہا۔

اسلام آبادہائیکورٹ میں چڑیاگھرسے جانوروں کی عدم منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیاکہ کیاوجہ ہے ابھی تک جانوروں کوکیوں منتقل نہیں کیاگیا؟،سب کوبیان حلفی دینے کاکہاتھا،کیوں نہیں آئے؟۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ ہاتھی کاون سمیت تمام جانورسختیاں جھیل چکے،وزیراعظم بھی کاون سے متعلق بات کرچکے کیسے اس پرظلم ہوا،وزیراعظم نے یہ بھی کہالوگوں کوپتہ ہی نہیں نیشنل پارک کیاہوتاہے،وزیراعظم کوآپ بتاتے کیوں نہیں وائلڈلائف سے متعلق قوانین موجودہیں،جانوروں کے حقوق سے متعلق قوانین پرعمل ہی نہیں ہورہا۔

چیف کمشنراسلام آبادعدالتی احکامات سے لاعلم نکلے ،چیف کمشنر نے کہاکہ چڑیاگھرمیں جانوروں کی بہتری کیلئے جوہوسکاکریں گے،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ عدالت چڑیاگھرہی ختم کرنے کافیصلہ دے چکی ہے ،چیف کمشنر نے کہاکہ جانوروں کومتبادل جگہ لے جانے کیلئے وائلڈلائف کوزمین دیں گے،عدالت نے کہاکہ آپ جگہ دے نہیں سکتے،جانوراسلام آبادمیں کیسے رکھے جاسکتے ہیں۔

جانوروں کی محفوظ مقام پرعدم منتقلی پراسلام آبادہائیکورٹ نے اظہاربرہمی کیا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ عدالتی احکامات کوآپ سب نظراندازکررہے ہیں،چڑیاگھرسے متعلق فیصلے کوکسی نے چیلنج نہیں کیاپھرعمل کیوں نہیں ہوا؟۔

عدالت نے کہاکہ چیئرمین وائلڈلائف جانوروں کی پناہ گاہ بنانے کی پیشکش لے آئے،آپ انسانوں کاخیال نہیں رکھ پارہے جانوروں کاکیارکھیں گے۔

سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہاکہ وزارت قانون نے رائے دی رکن پارلیمنٹ کسی بورڈ کا ممبر نہیں ہو سکتا،عدالت نے کہاکہ آپ بہت بڑا بیان دے رہی ہیں کیاکوئی رکن پارلیمنٹ کسی بورڈ کا ممبر نہیں ؟سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہاکہ باقی ارکان کو میں نہیں جانتی لیکن ہمیں یہی رائے دی گئی ،عدالت نے کہاکہ ہمارے سامنے کابینہ کافیصلہ موجود ہے جوآپ نے جمع کرایاتھا،کابینہ نے جب منظوری دیدی تو آپ کیوں بار بار مختلف بیان دے رہی ہیں ؟،سادہ سی بات بتائیں کیوں ابھی تک کاون کو آزاد نہیں کیا جاسکا۔

عدالت نے استفسارکیا کہ کاون جس تکلیف سے گزر رہاہے اس کا ذمہ دار کون ہے ،چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ نے کہاکہ عدالت نے کہاتھا سری لنکن ہائی کمیشن سے رابطہ کرکے کچھ کریں ،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ وہ صرف ایک آپریشن دیاگیاتھاکہ ہوسکے تو ایسا بھی کرلیں ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ عدالت نے فیصلہ دے رکھا ہے اس پر عمل کیوں نہیں ہو رہا ،بدقسمتی سے سب سیاست کھیل رہے ہیں ۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے فریقین کومیٹنگ کرکے پیرتک حل نکالنے کاحکم دیدیا،عدالت نے کہاکہ جانوروں کی منتقلی،وائلڈلائف قوانین پرعملدرآمدکالائحہ عمل تیارکریں،عدالت نے وائلدلائف قوانین وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کابھی حکم دیدیا،عدالت نے کہاکہ آئندہ ہفتے تک فیصلہ کرکے رپورٹ جمع کرائی جائے،جانوروں کی محفوظ پناہ گاہ میں منتقلی کیلئے مہلت میں توسیع نہیں دیں گے۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -