پی سی بی کی طرف سے سزاختم کرنے سے انکار کے بعد سلیم ملک کا موقف بھی آگیا

پی سی بی کی طرف سے سزاختم کرنے سے انکار کے بعد سلیم ملک کا موقف بھی آگیا
پی سی بی کی طرف سے سزاختم کرنے سے انکار کے بعد سلیم ملک کا موقف بھی آگیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پی سی بی کی طرف سے سزاختم کرنے سے انکار کے بعد سلیم ملک کا موقف بھی آگیا۔ ان کاکہنا ہے کہ پی سی بی میرےساتھ مسلسل زیادتی کررہاہے۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق سلیم ملک نے چیئرمین پی سی بی سے اپیل کی ہے کہ احسان مانی نوٹس لیں کہ  کون میرےخلاف کارروائیاں کررہاہے۔قانونی طورپرمیری سزا ختم ہونےکےباوجودزیادتی کی جارہی ہے۔

سلیم ملک نے کہا نجم سیٹھی،سبحان احمد اور تفضل رضوی سے ملاقات میں اپنا مسئلہ اٹھایا جس پرچیئرمین نجم سیٹھی نے معاملہ حل کرنے کا کہا، میرا موقف تھا کہ میرے ساتھ غلط کیا جارہا ہے۔

انہوں نےکہاکرکٹ بورڈ میں کالی بھیڑیں بیٹھی ہیں جو معاملے کو خراب کررہی ہیں ،کرکٹ بورڈمیں کئی افسران بہتری کےبجائےخرابی میں مصروف ہیں۔پی سی بی کو ہر حال میں معاملہ خراب کرنے والوں کا پتا لگانا چاہیے۔چیئرمین پی سی بی انکوائری کرکے معاملہ خراب کرنے والے لوگوں کو سامنے لائیں ۔

سلیم ملک  نے کہاایک طرف کرکٹ بورڈ مجھ سے جواب مانگ رہا ہے اور دوسری جانب نئی کہانی سامنے لے آئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ 2014 نہیں 2013 کے آخر میں کرکٹ بورڈ کے پاس گئے تھے ، دوسرے جواب کی تیاری کررہا تھا کہ یہ 2014 کا معاملہ سامنے لے آئے۔ ای میل میں کہا گیا کہ جواب میں غلطیاں ہیں درست کریں،  کرکٹ بورڈنےمجھے ای میل کرکے ٹرانسکرپٹ کا کہا کہ جواب درست نہیں دیا۔

انہوں نے کہامیں 20 سال پاکستان کے لیے کھیلا ہوں اور کئی میچز پاکستان کو جتوائے ہیں۔ 

سلیم ملک نے اعلان کیا کہ کل نیوزکانفرنس میں مزیدانکشافات کروں گا ۔

واضح رہےسابق ٹیسٹ کرکٹردانش کنیریا اور سلیم ملک نے پی سی بی کو درخواست دی تھی کہ ان پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔

بورڈ نے دانش کنیریا کو جواب دیا کہ پی سی بی کا بحالی پروگرام کھلاڑی کی سزا مکمل ہونے کے بعد دیا جاتا ہے۔ تاحیات پابندی کی سزا بھگتنے والوں کو نہیں، دانش پر انگلش کرکٹ بورڈ نے تاحیات پابندی لگائی ہے اور تمام آئی سی سی ممبرز اس پر عملدرآمد کے پابند ہیں، دانش کنیریا بھی سزا ختم کروانے کےلیے انگلش کرکٹ بورڈ سے رابطہ کریں۔

پی سی بی نے سلیم ملک کی درخواست پر جواب دیا کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف پی سی بی کے چیئرمین کو لکھے خط میں پہلے ہی کر چکے ہیں۔پی سی بی کا مزید کہنا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے فراہم کردہ ٹرانسکرپٹ کا جواب نہ دينے سے اعتراف جرم تبدیل نہیں ہو سکتا۔

مزید :

کھیل -