پاکستانی پلیئرز ایک دوسرے کا زور بازو پھر آزمانے کیلئے تیار

پاکستانی پلیئرز ایک دوسرے کا زور بازو پھر آزمانے کیلئے تیار
پاکستانی پلیئرز ایک دوسرے کا زور بازو پھر آزمانے کیلئے تیار

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ووسٹر میں موجود پاکستانی پلیئرز ایک دوسرے کا زور بازو پھر آزمانے کیلئے تیار ہیں اور دوسرا 2 روزہ انٹرسکواڈ پریکٹس میچ ہفتے کو شروع ہوگا، یہاں صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے بعد ٹیم پیر کوڈربی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق میزبان انگلینڈ سے 3 ٹیسٹ اور اتنے ہی ٹی 20 میچز پر مشتمل سیریز کیلئے پاکستانی سکواڈ ووسٹر میں بائیو سیکیور ماحول میں قرنطینہ کر رہا ہے، وہاں ہیڈ کوچ مصباح الحق اور معاونین کے زیرنگرانی ٹریننگ اور انٹرا سکواڈ پریکٹس میچز کا سلسلہ بھی جاری ہے، 14 روز قرنطینہ میں گزارنے کے بعد مہمان کرکٹرز اور آفیشلز پیر کو ڈربی روانہ ہوں گے، وہاں بھی ٹریننگ کے ساتھ پریکٹس میچز بھی شیڈول ہیں، یکم اگست کو مانچسٹر روانگی ہوگی جہاں پہلا ٹیسٹ 5 سے 9 اگست تک اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلا جائے گا۔

گزشتہ روز شیڈول کے مطابق اختیاری ٹریننگ سیشن ہونے کے باوجود بیشتر کھلاڑیوں نے میدان کا رخ کرتے ہوئے سخت مشقوں کا سلسلہ جاری رکھا، مصباح الحق کے اسسٹنٹ شاہد اسلم نے بیٹسمینوں کو پریکٹس کرانے کیلئے ماربل سلیب کا استعمال کیا، پھسل کر تیزی سے آنے والی گیندوں کا سامنا ایک چیلنج رہا، بابر اعظم نے طویل سیشن کیا، عابد علی، امام الحق، شان مسعود اور اظہر علی نے میدان کے وسط میں بھی اپنا سٹروک پلے بہتر کیا، پیسرز نے لائن اور لینتھ بہتر بنانے کا سلسلہ جاری رکھا، شاداب خان اور عماد وسیم سمیت سپنرز نے سپن باﺅلنگ کوچ مشتاق احمد سے عمدہ باﺅلنگ کے گر سیکھے، بیٹ کی مدد سے اچھالی جانے والی گیندوں پر سلپ میں کیچز کی مشق بھی کرائی گئی، ووسٹر میں قرنطینہ ٹریننگ کا سلسلہ مکمل ہو گیا، یہاں شیڈول دوسرا اور آخری 2روزہ میچ ہفتے کو شروع ہوگا۔

دریں اثنا قومی کرکٹ ٹیم کے سپن باﺅلنگ کوچ مشتاق احمد نے پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ انٹرویو میں کہاکہ دورہ انگلینڈ غیرمعمولی حالات میں ہورہا ہے، یہاں کرکٹرز کا حوصلہ بڑھانے کیلئے تماشائی نہ ہی تجزیہ کرنے کیلئے میڈیا نمائندگان موجود ہوں گے، لہٰذا ان کو اپنے گروپ سے ہی مدد لیتے ہوئے ایک دوسرے کی بھرپور حوصلہ افزائی کرنا ہے، ٹیم مینجمنٹ کو کھلاڑیوں کی ذہنی مضبوطی پر خاص توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے 3 ماہ بعد گراﺅنڈ کا رخ کرنے والے پلیئرز کا جوش و جذبہ دیدنی اور وہ بھرپور لگن سے نیٹ پریکٹس کرنے میں مصروف ہیں، ایک سوال پر مشتاق احمد نے کہا کہ کھلاڑیوں کو کورونا کے پروٹوکول سے مکمل آگاہ کررہے ہیں۔

ان میں گراﺅنڈز مین سے فاصلہ رکھنا، گیند کو تھوک سے نہ چمکانا اور دیگر احتیاطی تدابیر شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ ماضی میں سپنرز عموماً گیند کو تھوک سے ہی چمکاتے تھے تاہم ان حالات میں باﺅلرز کو متبادل آپشنز کا عادی بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ سب سے خوش آئند عمل یہ ہے کہ قومی سکواڈ میں شامل تمام کھلاڑی اور سپورٹ سٹاف ایک دوسرے کی مکمل حوصلہ افزائی کررہے ہیں، یقین ہے کہ بتدریج کھیل میں واپسی کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ یاد رہے کہ کوچنگ کا وسیع تجربہ رکھنے والے مشتاق احمد 2016ءکے دورہ انگلینڈ میں بھی پاکستان ٹیم کی مینجمنٹ کا حصہ تھے، مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے یہ سیریز 2-2 سے برابر کی تھی، سابق لیگ سپنر کو انگلش کنڈیشنز پر باﺅلنگ کاوسیع تجربہ ہے جنہوں نے8 ٹیسٹ میں 28.81 کی اوسط سے 32 وکٹیں لی ہیں۔

مزید :

کھیل -