انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ میں امپائرز کے ایسے ’کارنامے‘ کہ ناقدین نے طنز کے تیر برسا دئیے، جان کر پاکستانی کھلاڑی بھی بے اختیار کہہ اٹھیں’ یہ تجربہ ہمارے خلاف سیریز میں نہ کرنا‘

انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ میں امپائرز کے ایسے ...
انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ میں امپائرز کے ایسے ’کارنامے‘ کہ ناقدین نے طنز کے تیر برسا دئیے، جان کر پاکستانی کھلاڑی بھی بے اختیار کہہ اٹھیں’ یہ تجربہ ہمارے خلاف سیریز میں نہ کرنا‘

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ساؤتھمپٹن ٹیسٹ میں لوکل امپائرز کا تجربہ ناکام ثابت ہونے لگا البتہ ریویو سسٹم کام آ گیا، ابتدائی دو دن میں رچرڈکیٹل برو 3 اور رچرڈ النگورتھ 2 غلط فیصلوں کے مرتکب ہوئے جس پر ناقدین طنز کرتے ہوئے درست ریویو لینے والے مہمان کپتان جیسن ہولڈر کو ہی بطورامپائر کھڑا کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) گائیڈ لائنز میں مقامی امپائرز کے تقررکی حوصلہ افزائی ہوئی تھی، ساؤتھمپٹن ٹیسٹ میں انگلینڈ کے دونوں امپائرز رچرڈ النگورتھ اور رچرڈ کیٹل برو ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، میزبان ٹیم کی باﺅلنگ کے دوران امپائرنگ پر انگلیاں اٹھائی گئی ہیں، مہمان کپتان جیسن ہولڈر نے رچرڈ کیٹل برو کے 3 فیصلوں کیخلاف ریویو لیا اور تینوں بار درست ثابت ہوئے، شینن گبریل نے روری برنز کو 30 پر ایل بی ڈبلیو کیا تو امپائر ٹس سے مس نہ ہوئے، جیسن ہولڈر نے ریویو کا سہارا لیتے ہوئے ان کو غلط ثابت کر دیا۔

کپتان نے خود زیک کرولی کو 10 پر ایل بی ڈبلیو کیا تب بھی رچرڈ کیٹل برو نے انگلی کھڑی نہیں کی، یہ فیصلہ بھی ریویو پر تبدیل ہوگیا، میزبان امپائر تیسری بار بھی غلط ثابت ہوئے، جیسن ہولڈر نے جوفرا آرچر کو کھاتہ کھولنے سے قبل ایل بی ڈبلیو کیا تو ان کو ایک بار پھر تھرڈ امپائر سے رجوع کرکے وکٹ حاصل ہوئی،بعد ازاں ویسٹ انڈیز کی اننگز میں جیمز اینڈرسن کی گیندوں پر جان کیمبل کو 12 اور 24 پر ایل بی ڈبلیو کے فیصلے غلط ثابت ہوئے، رچرڈ النگورتھ کو سبکی اٹھانا پڑی،میزبان امپائرز کا چھٹا ایل بی ڈبلیو فیصلہ درست ثابت ہوا جب النگورتھ نے جان کیمبل کو آﺅٹ قرار دیا۔

اس بار ریویو بے کار گیا، عام طور پر قابل بھروسہ امپائرز میں شمار کئے جانے والے رچرڈ کیٹل برو اور رچرڈ النگورتھ کی جانب سے سنگین غلطیوں پر سخت تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، مبصرین اور ناقدین کی جانب سے سوشل میڈیا پر پیغامات جاری کئے گئے کہ بائیو سیکیور ماحول میں ہونے والے میچز میں کورونا کلیئرنس کے بعد نیوٹرل امپائرز کو خدمات کیلئے متعین کیا جاتا تو بہتر ہوتا، چند ایک نے تو طنز کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ درست فیصلے کرنے والے جیسن ہولڈر کو ہی ایک امپائر کی جگہ پر کھڑا کر دیا جائے، چند صارفین نے ایک امپائر ویسٹ انڈیز سے بلانے کا مطالبہ کر دیا۔

مزید :

کھیل -