کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے پاکستان میں پیدا ہونیوالے ہر بچے کو دی جانیوالی ایک صدی پرانی دوا موثر ہتھیارنکلی

کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے پاکستان میں پیدا ہونیوالے ہر بچے کو دی جانیوالی ...
کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے پاکستان میں پیدا ہونیوالے ہر بچے کو دی جانیوالی ایک صدی پرانی دوا موثر ہتھیارنکلی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں سائنسدانوں نے بڑے پیمانے پر کی جانے والی ایک تحقیق میں ایک صدی پرانی ویکسین کو کورونا وائرس کے خلاف مو¿ثر ہتھیار قرار دے دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اس ویکسین کا نام ’بیسیلس کالمیٹی گیورین ‘ (بی سی جی)ہے جو ٹیوبرکیولوسس سے تحفظ کے لیے دی جاتی ہے۔ یہ ویکسین 1924ءمیں بنائی گئی تھی اور تب سے دنیا بھر میں ہر پیداہونے والے بچے کو دی جا رہی ہے۔ کئی ممالک اب اس کا استعمال ترک کر چکے ہیں جن میں برطانیہ بھی شامل ہے۔ برطانیہ میں یہ دوا 1953ءسے 2005ءتک ہر بچے کو دی جاتی رہی لیکن ملک سے تپ دق کے مکمل خاتمے کے بعد اس کا استعمال روک دیا گیا۔ پاکستان سمیت بیشتر ممالک میں آج بھی یہ دوا بچوں کو دی جاتی ہے۔

امریکی سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ جن بچوں کو یہ ویکسین دی گئی تھی ان کو کورونا وائرس لاحق ہونے اور اس کی علامات سنگین ہونے کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج میں معلوم ہوا ہے کہ جن ممالک میں آج بھی بچوں کو بی سی جی ویکسین دی جا رہی ہے وہاں کورونا وائرس سے شرح اموات دوسرے ممالک کی نسبت 10.4فیصد کم دیکھی جا رہی ہے۔ برطانیہ او ردیگر ایسے ممالک جو اب بی سی جی کا استعمال ترک کر چکے ہیں، وہاں بھی گزشتہ جن نسلوں کو یہ ویکسین دی گئی تھی ان میں شرح اموات کم پائی گئی۔واضح رہے کہ یہ دوا بچوں کو انجکشن کی صورت میں دی جاتی ہے جس سے ان کے جسم میں تپ دق اور دیگر کئی طرح کی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -