کورونا وبا تیزی سے پھیلنے میں چین کا بھی کردار؟ ملک سے فرار ہونیوالی ڈاکٹر نے بھی الزام لگا دیا

کورونا وبا تیزی سے پھیلنے میں چین کا بھی کردار؟ ملک سے فرار ہونیوالی ڈاکٹر نے ...
کورونا وبا تیزی سے پھیلنے میں چین کا بھی کردار؟ ملک سے فرار ہونیوالی ڈاکٹر نے بھی الزام لگا دیا

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے چین پر الزام عائد کیاجا رہا تھا کہ اس نے کورونا وائرس سے متعلق درست اور بروقت معلومات دنیا کو فراہم نہیں کیں جس کی وجہ سے وباءاتنی تیزی سے دنیا بھر میں پھیل گئی۔ اب چین سے فرار ہونے والی وبائی امراض کی ایک ماہر نے بھی چینی حکومت پر یہی الزام عائد کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اس ماہر کا نام ڈاکٹر لی منگ ژن ہے جو چین کی عالمی شہرت یافتہ ویرالوجسٹ ہیں اوریونیوسٹی آف ہانگ کانگ سے وابستہ رہی ہیں۔ ڈاکٹر لی منگ بھی ان چند چینی ماہرین میں سے ایک ہیں جنہوں نے کورونا وائرس پھیلتے ہی اس کی اصلیت دنیا کو بتائی تھی۔

اب ڈاکٹر لی منگ ہانگ کانگ سے فرار ہو کر امریکہ جا چکی ہیں۔ فرار ہونے کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ”میں جانتی ہوں کہ چینی حکومت ان ماہرین کے ساتھ کیا سلوک کر سکتی ہے جنہوں نے کورونا وائرس کے متعلق حقائق دنیا کو بتائے۔ چنانچہ میں ہانگ کانگ سے فرار ہو گئی۔“ڈاکٹر لی نے مغربی ممالک کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”چینی حکومت نے کورونا وائرس سے متعلق حقائق دنیا سے چھپائے۔ ہمیںوباءپھیلنے کے ابتدائی دنوں میں ہی معلوم ہو گیا تھا کہ کورونا وائرس انسان سے انسان کو منتقل ہو سکتا ہے لیکن چینی حکومت نے دنیا سے جھوٹ بولا اور کہا کہ یہ انسان سے انسان کو منتقل نہیں ہوتا۔ اگرچینی حکومت یہ غلط بیانی نہ کرتی تو باقی دنیا چین کے ساتھ بروقت مواصلاتی رابطہ ختم کرکے خود کو وائرس سے بچا سکتی تھی۔“

انٹرویو کے دوران ڈاکٹر لی کا کہنا تھا کہ ”ایسا نہیں ہے کہ چینی حکومت کو یہ معلوم نہیں تھا۔ وہ بہت پہلے سے جانتی تھی کہ وائرس انسان سے انسان کو منتقل ہو سکتا ہے تاہم اس نے یہ بات مخفی رکھی۔“ ڈاکٹر لی نے کہا کہ ”کورونا وائرس کے متعلق میری اور میرے کولیگزکی تحقیق میں جو بات سامنے آئی تھی اس پر عمل کرکے لاکھوں زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔ اب مجھے اپنی جان بچا کر فرار ہو کر امریکہ آنا پڑ گیا ہے اور میں جانتی ہوں کہ شاید باقی پوری زندگی میں ہانگ کانگ واپس نہیں جا سکوں گی۔“

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -