80 فیصد اضلاع پر قبضہ مکمل، صرف مرکز باقی رہ گیا، طالبان نے اعلان کردیا

80 فیصد اضلاع پر قبضہ مکمل، صرف مرکز باقی رہ گیا، طالبان نے اعلان کردیا
80 فیصد اضلاع پر قبضہ مکمل، صرف مرکز باقی رہ گیا، طالبان نے اعلان کردیا
سورس: Screen Grab

  

دوحہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) افغان طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کا کہنا ہے کہ طالبان نے افغانستان کے 80 فیصد اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے اور اب صرف مرکز باقی رہ گیا ہے۔ جن اضلاع پر قبضہ کر رہے ہیں وہاں اپنا نظام بھی نافذ کر رہے ہیں۔

نجی ٹی وی بول نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا کہ ہمارا کسی کے ساتھ کوئی شخصی یا ذاتی مسئلہ نہیں ہے، ہم نے جن حالات کی وجہ سے جہاد شروع کیا تھا وہ حق اورباطل کا معرکہ تھا۔ حق اور باطل کے معرکے کے آخر میں فتح حق کی ہوتی ہے۔ جو اقوام ہم پر حملہ آور ہوتی ہیں وہ ہماری روایات سے متصادم ہوتی ہیں اس لیے ظاہر سی بات ہے کہ ہم انہیں شکست ہی دیں گے۔ ہم اپنی زمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم افراتفری نہیں پھیلائیں گے جس کی وجہ سے خانہ جنگی نہیں ہوگی۔

ڈاکٹر نعیم نے کہا کہ طالبان نے افغانستان کے 80 فیصد اضلاع پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے، یہ بھی واضح کردیں کہ جو اضلاع ہمارے قریب ہیں ان پر بھی ہمارا کنٹرول ہے، اب صرف مرکز باقی رہ گیا ہے۔

قبضے میں لیے گئے اضلاع کے انتظام و انصرام کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ڈاکٹر نعیم نے کہا کہ جن علاقوں میں طالبان کا اثر و رسوخ تھا وہاں عوام کی آسانی کیلئے قانون سازی کی، ہم نے قاضی کورٹس قائم کیں تاکہ انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے، جو بھی اضلاع قبضے میں لے رہے ہیں وہاں انصاف کا نظام قائم کر رہے ہیں۔ 

انہوں نے افغان فوج اور عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ افغان فوج ہتھیار ڈال دے تو ہم ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ ہماری حکومت سے عوام کو کوئی تشویش نہیں ہے، امریکہ کے خلاف جہاد میں عوام کی مدد سے امریکہ کو شکست دی، عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان سے کوئی خوف نہ رکھیں، دراصل امریکی لوگ عوام کو گمراہ کرتے ہیں، جونہی امریکہ افغانستان سے جانے لگا ہے تو عوام بھی کھل کر ہمارا ساتھ دینے لگے ہیں۔

مزید :

اہم خبریں -بین الاقوامی -