وزیر اعظم صاحب،پنجاب پولیس کو کرپٹ آفیسرز سے پاک کرنے کی ضرورت 

وزیر اعظم صاحب،پنجاب پولیس کو کرپٹ آفیسرز سے پاک کرنے کی ضرورت 
وزیر اعظم صاحب،پنجاب پولیس کو کرپٹ آفیسرز سے پاک کرنے کی ضرورت 

  

پولیس عام شریف انسان کی عزت نفس کا خیال رکھے اور عوام پولیس اہلکاروں کو دل سے عزت دیں‘اس سلسلے میں بے پناہ کوششیں کی جاچکی ہیں کئی کاوشوں کا میں بذات خود گواہ اور حصہ بھی رہا ہوں مگر حکومت یا پولیس قیادت کی تبدیلی کے ساتھ ہی صورتحال اچانک دوبارہ تبدیل ہو جاتی ہے اور سفر جہاں سے شروع کیا ہوتا ہے سب اس مقام تک واپس چلے جاتے ہیں‘حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ پیسہ‘ اختیار اور طاقت انسان کو بدلتے نہیں بلکہ بے نقاب کردیتے ہیں یہی حقیقت ہے پولیس کی وردی اور قوانین میں جو اختیارات اور طاقت ہے اسکا بوجھ بہت سے پولیس اہلکار اور افسران سہہ نہیں پاتے اورجلد ہی بے نقاب ہو جاتے ہیں‘خیر تمام محکموں میں یہی حال ہے بدعنوانی اور اختیارات سے تجاوز دیکھیں تو سیاستدانوں‘ انتظامی افسران‘ محکمہ مال‘ ایکسائز‘ پٹوارخانوں‘ ہسپتال‘ محکمہ تعلیم‘ کسٹمز اور ہراس محکمہ میں لوگ اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں جہاں کسی افسر یا ماتحت کے اختیار میں کچھ ہے اور جہاں عوام کا روزانہ واسطہ رہتا ہے چونکہ پولیس کے پاس اختیارات اور طاقت دونوں ہیں اور اس کا واسطہ روزانہ براہ راست سڑکوں پر ناکہ بندیوں‘ گلی محلوں‘ بازاروں‘ دفاتر اور دیگر مقامات پر عوام کے ساتھ ہوتا ہے اس لئے شکایات بھی پولیس سے زیادہ ہیں۔یقینا محکمہ پولیس کی اکثریت ایماندار قابل اور نیک دل افسران اور اہلکاروں کی ہے یقینا ایسے تمام اہلکار تعریف کے لائق ہیں جو حق حلال کی کمائی کیلئے انصاف کی فراہمی میں اپنا بھرپور حصہ ادا کرتے ہیں۔‘عوام کو بھی اس بات کا احساس ہے اسلئے ان تمام افسران اور اہلکاروں نے جنہوں نے کسی بھی طرح عوام کی فلاح و بہبود اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے کوششیں کی ہیں اور کر رہے ہیں ان کو روزانہ میڈیا‘ سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر سراہا جاتا ہے‘خیبرپختونخوا کی سابقہ صوبائی حکومت اور پولیس سربراہان نے عوام میں فورس اور اہلکاروں کی عزت اور وقار بڑھانے اور عوامی شکایات میں کمی کیلئے2013 ء کے بعد سے کئی اصلاحات متعارف کرائیں جن میں بدعنوان اہلکاروں کے خلاف عوامی شکایات پر800 سے زائد اہلکاروں کی برطرفی اور 6ہزار سے زائد اہلکاروں کو دوسری سزائیں دینا شامل ہیں‘پولیس کے صوبائی ڈویژنل اور ضلعی سربراہ تک رسائی کانظام مرتب ہوا‘عوامی مسائل کے حل کیلئے سرکار کی نگرانی میں جرگے قائم کئے گئے جس نے ہزاروں افراد کے باہمی مسائل حل کئے‘عوام کی سہولت کیلئے دیگر اقدامات اٹھائے گئے مگر چند سال بعد موجودہ حکومت کا اقتدار میں آنے کے بعد بار بار پولیس سربراہان کی تبدیلی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے عوامی شکایات میں پھر اضافہ ہو رہا ہے‘ضروری ہے کہ اب کی بار نہ صرف پولیس میں ایسی اصلاحات کی جائیں جس سے فورس میں سیاسی مداخلت کم ہو‘۔آئی جی سے لیکر ایس ایچ او اور چوکی انچارج تک تعیناتی میرٹ پر ان اہلکاروں کی ہو جو پڑھے لکھے سمجھدار‘ ایماندار اور قابل منظم ہوں‘یہ بھی ضروری ہے کہ پولیس اہلکار کو تھانے میں اس کا جائز حق ملے اگر ایس ایچ او کو گاڑیاں‘پٹرول‘ بل اور دیگر سامان کیلئے باقاعدہ سرکاری فنڈ فراہم ہوں تو اس کو تھانہ چلانے کے نام پر بدعنوانی کا کھیل کھیلنے کاموقع نہیں ملے گا ساتھ ہی ڈی آئی جی‘ ایس ایس پی‘ ڈی پی او‘ ڈی ایس پی اور خاص کر ایس ایچ او کی تعیناتی صرف اور صرف میرٹ اور ایمانداری پر ہو تو وہ نہ صرف نظام بہتر چلائیگا بلکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تھانے میں ہر آنے والے کو مسکراہٹ کیساتھ خوش آمدید کہا جائے‘اگر کوئی حکومت اہلکار یا ادارہ پولیس میں اصلاحات کا خواہاں ہے تو اس کا آغاز تھانے سے ہونا چاہئے کیونکہ عوام کا واسطہ تھانے سے پڑتا ہے‘اصلاحات سے قبل یہ بھی ضروری ہے کہ پولیس کے نظام میں بہتری آئے اورطریقہ کار مزید موثر ہو‘ضروری ہے کہ ایماندار اور قابل افسران کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ ان کا سٹاف بھی تجربہ کار‘قابل اور ایماندار ہو۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جہاں آپ جائیں آپریٹر سے لے کر ریڈر سمیت پوری فورس ساتھ لے جائیں۔ سفارش کے بل بوتے پر لاہور سمیت پنجاب بھر میں بہت سارے ایسے افسران تعینات ہو گئے ہیں جن کی شہرت انتہائی خراب ہے  اور ان کا اوڑھنا بچھونا صرف کرپشن ہے، جب ایس پی عہدے کے آفیسرز کرپٹ ہو جائیں تو اس کا کمانڈر چاہے وہ ضلع کا ہو یا پنجاب کا  اسے دیانت داری یا تگڑا کمانڈر ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا جاسکتا مشاہدے میں آیا ہے کہ آج پنجاب پولیس کے حالا ت ٹھیک نہیں ہیں آفیسر منہ زور ہو گئے ہیں اور مبینہ طور پر انھوں نے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے افسوس ناک امریہ ہے کہ ان کے کمانڈرز کو بھی بخوبی علم ہے کہ ان کے کون کون سے آفیسرز کرپٹ ہیں مگر وہ ان کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں یہ ہی وہ آفیسرز ہیں جوحکمرانوں کے لیے بیڈ گورننس کا باعث بن رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -