کورونا کی چوتھی لہر؟کیوں اور کیسے؟ 

کورونا کی چوتھی لہر؟کیوں اور کیسے؟ 
کورونا کی چوتھی لہر؟کیوں اور کیسے؟ 

  

این سی او سی کے سربراہ وفاقی وزیر اسد عمر نے تو باقاعدہ طور پر کہہ دیا کہ کورونا کے ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے عیدالاضحیٰ کے موقع پر سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان سے قبل خود وزیراعظم   عمران خان نے کہا کہ کورونا کی چوتھی لہر کا خدشہ ہے اگر عوام نے احتیاط نہ کی تو پھرسے پابندیوں کی طرف جایا جا سکتا ہے،  وزیراعظم اور وفاقی وزیر کے ارشادات ہوا میں اڑانا تو درست نہیں، لیکن یہ پوچھنا تو فرض ہوگا کہ حکومت نے جب حالات بہتر ہونے پر پابندیوں میں نر می کی تو اس سے پہلے اپنی سرکاری مشینری کو خبردار کیا کہ وہ اب پہلے سے کہیں زیادہ دھیان سے خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے تیاررہیں، عوام سے یہ شکوہ کہ وہ ایس او پیز کی پروا نہیں کرتے اور اگر ان کا وطیرہ یہی رہا تو پھر سے لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑے گا، اس صورت میں زیادہ موثر ہوتا اگر حکومت اپنی مشینری کو تیار کرتی کہ بہت زیادہ احتیاط سے دیانت داری کے ساتھ ایس او پیز پر عمل کرایا جائے، لیکن یہاں ایسا بالکل نہیں ہوا، بلکہ سب کچھ عوام پر چھوڑ کر انہی سے توقعات وابستہ کرلی گئی ہیں۔ حالانکہ یہ امر بھی بالکل واضح ہے کہ عوام میں شعور کی کمی ہے جس کی کئی وجوہ ہیں۔ بعض لوگ پروپیگنڈے سے متاثر کہ سب جھوٹ ہے اور کورونا کے نام پر سیاست ہو رہی ہے۔ اس کا ثبوت وہ خود محترم اسد عمر کے اس بیان کو بناتے ہیں، جو وہ ہر انتخاب کے وقت جاری کرتے ہیں۔ ان کی درخواست ہوتی ہے کہ انتخابی جلسوں سے کورونا پھیلنے کے خدشات ہیں، اس لئے انتخابات ملتوی کر دیئے جائیں۔ ایسا ہی انہوں نے اب آزاد کشمیر الیکشن کمیشن سے کہا تو لوگ یہی تاثر لے رہے ہیں کہ وہ انتخابات ملتوی کرانا چاہتے ہیں، اس کے لئے مثال خود تحریک انصاف کی دی جاتی ہے، جس کے وفاقی وزراء بھی جلسے کر رہے اور اب یہ اعلان بھی کیا گیا کہ خود وزیراعظم عمران خان تحریک انصاف کے چیئرمین کی حیثیت سے تین مختلف انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے اور یہ پروگرام بھی جاری کر دیا گیا۔ مسلم لیگ(ن) کا تو یہ کہنا ہے کہ وفاقی وزیر نے انتخاب ملتوی کرنے کی تجویز اس وقت دی، جب مریم نواز جلسوں سے خطاب کرنے جا رہی تھیں، ورنہ گلگت، بلتستان کے انتخابات بھی تو ہو گئے تھے اور ان کے بعد ہی سے کورونا کی حالت بہتر ہوئی، چنانچہ ایسے بیانات کو سیاسی بھی بنا دیا گیا۔

میں ان خدشات سے انکار نہیں کروں گا، لیکن یہ عرض کرنے کی جسارت ضرور کرتا ہوں کہ اگر اب چوتھی لہر آئی یا موجودہ حالت میں بہتری کی بجائے ابتری پیدا ہوئی تو اس کے ذمہ دار سرکاری اہلکار ہوں گے اور ان کی لاپروائی، غفلت اور فرائض کی عدم ادائیگی کا بوجھ براہ راست صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر ہوگا کہ ان اہل کاروں سے کام کیوں نہیں لیا جا رہا، اعلانات تو کئے جاتے ہیں لیکن عمل کیا ہوتا ہے؟ اس سلسلے میں ایک مثال عرض کر دیتا ہوں، وہ یہ کہ فیڈر روٹ سپیڈو بس، میٹرو بس اور میٹرو اورنج ٹرین میں ماسک کے بغیر سفر کی مکمل ممانعت ہے۔ بسوں اور ٹرین کے باہر بھی لکھا ہوا ہے کہ ماسک کے بغیر سفر منع ہے۔ اس کے علاوہ بس اور ٹرین میں کمپیوٹر کے ذریعے یہ بھی اعلان کیا جاتا ہے کہ بس یا ٹرین میں سفر کے دوران ماسک اتارنا منع ہے۔ خلاف ورزی پر لاکھوں روپے جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ اس اعلان کی کھلم کھلا خلاف ورزی یوں ہوتی ہے کہ چار، پانچ فی صد مسافر ماسک کے بغیر سوار ہو جاتے ہیں، ان کو روکا نہیں جاتا کہ کنڈکٹر بروقت ایسا نہیں کرتے شاید ان کے لئے مممکن نہیں۔ بہرحال جب وہ متوجہ ہو کر ایسے مسافرسے ماسک کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو وہ انکار کر دیتے، پھر اس مسافر کو اتارنا مشکل ترین عمل ہے۔ اسی طرح ماسک والے حضرات باہر سے ماسک پہن کر سوار ہوتے اور اندر آکر اطمینان سے ماسک اتار دیتے ہیں اور پھر ایسے ہی سفر ہوتا ہے۔ بعض کنڈکٹر ماسک کے لئے اصرار کرتے ہیں تو بعض مسافر عمل کرتے اور اکثر نہیں مانتے۔ یوں یہ پابندی نہیں کی جاتی اور پھر مسافروں کی تعداد بھی زیادہ ہو جاتی ہے، خصوصاً مصروف روٹ پر بس بھر جاتی ہے۔

یہ تو بس اور ٹرین کا عمومی ماحول ہے۔ بازاروں اور رہائشی علاقوں کی حالت اور بھی خراب ہے کہ یہاں نوے فیصد افراد احتیاط نہیں کرتے، حالانکہ گزشتہ دنوں جب پوچھ گچھ ہو رہی تھی تو اکثریت ماسک کی عادی ہو گئی تھی۔ ان میں سے اب بھی بڑی تعداد پابندی کر رہی ہے، تاہم یہ حضرات نکو نظر آتے ہیں۔ آیئے  ذرا میرے ساتھ چلئے، میں آپ کو روزمرہ کے حالات سے آگاہ کروں، میری رہائش مصطفےٰ ٹاؤن وحدت روڈ پر ہے، صبح دفتر جانے کے لئے نکلوں تو سب سے پہلے گندگی کے ڈھیروں سے واسطہ پڑتا ہے۔ پھر اگر کوئی سودا لینا ہو تو کوئی بھی دکان دار ماسک پہنے نظر نہیں آتا اس حالت میں، میں ماسک کے ساتھ عجیب فرد نظر آتا ہوں، اس کے بعد سڑک پر سفر کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ میں کسی کچی آبادی میں آ گیا ہوں، سڑک تو ٹوٹ کر گڑھے بن ہی گئے ہیں، لیکن ہمارے والے اور دوسرے بلاکوں کی سڑکوں کے کنارے والے گھروں کی گرین بیلٹیں، پختہ فرش یا گیراج بن چکے یا بن رہے ہیں، یہ سب ایل ڈی کی مہربانی ہے۔ ان بلاکوں میں ہی دکانوں کو فیس یا نذرانہ لے کر کمرشل کر دیا گیا ہے، چلیں اسے یہیں رہنے دیں، ذرا آگے بڑھیں تو مرکزی سڑک کے پہلے ہی آج کل قربانی کے لئے لائے گئے جانوروں (بکرے، گائے، اونٹ) کے کئی ریوڑ نظر آ جاتے ہیں، یہ جگہ کھلے بندوں بکر منڈی کی شکل اختیار کر چکی اور اب تک ہے۔ ان کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو کوئی روکے وہ ”مٹھی گرم“ کرنے کے لئے ایسا کرتا ہے، ان کا کام چلتا رہتا ہے۔

مصطفےٰ ٹاؤن کی مرکزی سڑک دو رویہ ہے، ان سڑکوں کے درمیان بہت چوڑی گرین بیلٹ ہے، اس میں درخت بھی ہیں، لیکن جگہ جگہ سے گنجی ہو چکی، جس کی وجہ بھی سرکاری اہلکاروں کی لاپروائی ہے کہ یہ گرین بیلٹ باقاعدہ چراگاہ بن چکی ہے، دن کے 10سے گیارہ بجے کے دوران اس میں 20،25 مویشی جگالی کرتے ہیں۔ دوپہر کے بعد دوسرا گوالہ اپنی بھینسیں لے آتا ہے اور مغرب سے پہلے واپس لے کر جاتا ہے، اس کے علاوہ جھگیوں والے چھترے پالتے ہیں تو ان کی خوراک بھی اسی گرین بیلٹ سے پوری ہوتی ہے، گرین بیلٹ میں دو تین جگہ باقاعدہ تجاوز کرکے قبضہ کیا گیا، کہیں گاڑیاں پارک ہوتی ہیں تو کسی  جگہ گارڈ بیٹھے نظر آتے ہیں۔ یہ تجاوزات ایسی ہیں کہ کھلے بندوں ہوئیں اور نظر آ رہی ہیں، ان کو کوئی نہیں پوچھتا، اسی طرح وحدت روڈ کے دونوں کناروں پر تعلیمی اداروں اور شادی گھروں کی بھرمار ہے۔ ان سب نے گرین بیلٹ ہی کو پارکنگ بنا رکھا ہے، صبح شام گاڑیاں نظر آتی ہیں، آج تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، گرین بیلٹوں کے جنگلے چوری ہو چکے، دیواریں مسمار ہیں، محکمے بے خبر ہیں۔

کورونا کے حوالے سے یہ بھی عرض کروں کہ زیادہ تر دینی مدرسوں کے طالب علم اور خود مدرس احتیاط نہیں کرتے اسی طرح اکثر پرہیز گار حضرات لاپروا ہیں، مساجد میں سماجی فاصلہ کی پروا بھی نہیں کی جاتی،نماز جمعہ میں حالات زیادہ خراب ہوتے ہیں، یہ سب عرض کر دیا اور گزارش یہ مقصود ہے کہ اعلان سے کام نہیں چلے گا،پابندی کرنا اور کرانا لازم ہے، ورنہ چوتھی کیا، پانچویں لہر بھی آ سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -