الف انار،ب بکری،پ پتا نہیں  (3)

الف انار،ب بکری،پ پتا نہیں  (3)
الف انار،ب بکری،پ پتا نہیں  (3)

  

یہ نئی صدی شروع ہونے سے چند برس پہلے کی بات ہوگی جب اسلام آباد میں تازہ رہائش اختیار کرنے والے  ایک دوست کا بیٹا سہ پہر کو روتا روتا گھر میں داخل ہوا۔ باپ نے رونے کی وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ گلی میں کھیلتے ہوئے ایک لڑکے نے مار ا ہے۔ ”تو تم بھی اُسے مارتے۔“  ”مَیں کیہہ کردا؟ نالے ماردا سی، تے نالے اردو بولدا سی۔“ اُس وقت تو مجھے یہ ڈائیلاگ محض ایک لطیفہ لگا تھا۔ اِس لئے بھی کہ مشرقی علوم سے بہرہ مند ہمارے یہ دوست، جو قومی خبر رساں ایجنسی کے سربراہ بھی رہے، اردو کے جانے مانے صحافی اور ادیب تھے۔ پھر بھی غور کریں تو  اِس چھوٹے سے واقعے میں عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ جیسے ایک بنیادی سوال کہ آیا زبان عام تاثر کی روشنی میں صرف کمیونی کیشن کا ذریعہ ہوتی ہے یا پنجابی محاورے کے مطابق کسی پہ ’عکس‘ ڈالنے کا وسیلہ بھی۔ پھر یہ کہ بچپن میں ماں بولی کی تحصیل غیر محسوس تجربہ سہی، لیکن کیا ایک ثانوی زبان یا سیکنڈ لینگویج کی سکھلائی بھی اُتنی ہی پرسہولت ہو سکتی ہے؟

اکثر ایسا نہیں ہوتا اور اِس کا ایک سبب نامحسوس عمل اور شعوری کوشش کا فرق ہے۔  مادری زبان سے شناسائی اول اول گھر کی چار دیواری کے اندر اپنے گرد و پیش کے ذریعے ہوا کرتی ہے، چنانچہ لسانی تفہیم اور دنیا سے آگاہی ایک ہی تجرباتی سلسلہ بن جاتا ہے۔ جتنا موافق ماحول ہو اُتنی ہی فطری  یہ درجہ بدرجہ واردات ہو گی۔ ثانوی زبان سیکھنا اِس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ ایک تو یہ دنیا کے ساتھ رابطے کا اولین وسیلہ نہیں ہوتی۔ دوسرے اِس کی خاطر کسی نہ کسی شکل میں اور کسی نہ کسی سطح پہ بالارادہ  کاوش کا دخل زیادہ ہوا کرتا ہے۔ ممکن ہے کسی مادری اور ثانوی زبان کے مابین ذخیرہ ء الفاظ،  جملے کی ساخت اور آوازوں کا باہمی اشتراک اِس حد تک ہو کہ سیکھنے والا سیکنڈ لینگویج کے راستے میں سرے سے دشواری محسوس نہ کرے۔ اچھا، اگر ایسا ہے تو پھر تعارفی پیراگراف میں اسلام آباد والا واقعہ کیوں؟

اسلام آباد والا واقعہ یوں درج کرنا پڑا کہ ماں بولی کی عطا کردہ  لفظیات اور اُس سے وابستہ فکری و تخیلاتی پیرائے ایک عام فہم حقیقت تو ہیں، لیکن یہاں پہنچ کر بات ختم نہیں ہو جاتی۔ دراصل انسانی سماج میں کسی زبان کے رتبے کا تعین جن محرکات کے تابع ہوا کرتا ہے اُن میں سے بیشتر غیر لسانی نوعیت کے ہیں۔ اب ہم اِسے پسند کریں یا ناپسند، کثیر لسانی معاشروں میں اور بین الاقوامی سطح پہ ترجیحی اور غیر ترجیحی زبان کے تصور کو اِسی پس منظر میں فروغ  مِلا اور مواصلاتی انقلاب برپا ہونے پر مزید مِل رہا ہے۔  دیکھئے نا، بادشاہت اور پھر نو آبادیاتی عہد کے موثر ترین ملحوظات میں سب سے اوپر تو ہماری یہ سوچ رہی ہوگی کہ حاکم طبقے یا قوم کی زبان اپنائی جائے۔ ایک لحاظ سے یہ غیرشعوری طور پر اقتدار میں شریک ہونے کا ایک نفسیاتی حربہ ہوا۔ لیکن ہر زمانے میں انسانوں کو ماں بولی سے ’ارفع تر‘ زبان سیکھنے کی ترغیب کئی اَور پہلوؤں سے بھی ملتی ہے۔

لسانیات کی نصابی کتابوں میں اِن  عوامل کو مختلف خانوں میں بانٹا گیا ہے۔ کون سی زبان سے آپ پہ بہتر روزگار کے دروازے کھلتے ہیں؟ کِس کی بولی بول کر عالمی رابطہ، تجارتی لین دین، بیرونی یونیورسٹی میں داخلہ یا غیر ملکی اسکالر شپ کا حصول زیادہ آسان ہو جائے گا؟اسی سبب سائنس ٹیکنالوجی کے زمانے میں وہ زبانیں ہدفِ توجہ ہیں، جن کی بدولت مادی ترقی کی رفتار تیزتر ہو سکے۔ ترقی پذیر دنیا کے لئے بین الاقوامی امداد و تعاون کی منڈی میں فزیکل انفرا سٹرکچر، افسران کی تربیت و تعیناتی، علاقائی چپقلشوں میں فوجی برتری اور اب کوویڈ ویکسین کا سودا زبان کے شاپر میں لپیٹ کر دیا جاتا ہے۔ جیسے علاقائی شراکت داری کی خاطر اب چینی زبان سیکھنا ضروری ہو گیا ہے، جبکہ ہماری نوجوانی تک سرکاری اسکولوں میں چھٹی سے آٹھویں جماعت تک عربی یا فارسی میں سے ایک کی لازمی تعلیم نوزائیدہ پاکستان کے لئے تمدنی شناخت کا طاقتور حوالہ سمجھی جارہی تھی۔ فی الوقت ایسا نہیں۔

تو پھر موجودہ تناظر میں اردو زبان اور رسم  الخط کا اپنا مستقبل کیا ہوا؟ یہی وہ سوال تھا،جس کے جواب کی جستجو یونیورسٹی طلبہ کے ہاتھ سے رومن میں ٹائپ شدہ اردو خبرنامہ دیکھ کر میری اِس سلسلہ وار تحریر میں ڈھلنے لگی ہے۔ بہرحال، یہ اِس لحاظ سے ایک نیا موضوع ہے کہ ہمارے اسکول کالج کے زمانے میں والد مرحوم، جو عام طور پر ہر شعبہء زندگی میں پنجاب کی فضیلت جتانے کی فِکر میں رہتے، بڑے جوش سے بتایا کرتے کہ آزادی سے پہلے اردو سارے ہندوستان میں بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ میری دانست میں والد کے نزدیک ”بولی اور سمجھی“ جانے والی اِس رابطے کی زبان سے اردو یا اُس سے ملتی جلتی وہ بولی مراد ہوگی جسے آبادی کا ایک حصہ ہندی یا ہندوستانی کہا کرتا۔ نام کچھ بھی ہو، نیو تھیٹر کلکتہ، بمبئی ٹاکیز اور پنچولی آرٹ لاہور کی فلمیں بول چال کی اِسی زبان میں بنتیں، فلمی گیت اِس میں لکھے جاتے۔ یوں اِس منجدھار کے اندر عربی و فارسی کی رویں سنسکرت کی طاقتور لہروں کے ساتھ ساتھ چلتی دکھائی دیتیں۔ بظاہر یہ ایک فطری بہاؤ تھا۔

کوئی وطن دشمنی کا الزام نہ لگائے تو حقائق کی درستی کے لئے کچھ مزید عرض کروں۔ یہی کہ فطری بہاؤ جلد ایک ہنگامہ خیز تموج میں تبدیل ہو گیا، جس کا سبب تھا یہ نظری چیلنج کہ مسلمانانِ برصغیر کے لئے علیحدہ قومیت کے تقاضے ایک مشترکہ زبان  کے بغیر پورے نہیں ہو سکتے۔  مشترکہ زبان کی حیثیت سے اردو کی نشاندہی کر تو دی گئی، لیکن اِس کے دُور رس مضمرات کا اندازہ  نہ لگایا جا سکا۔ پاکستان بننے سے پہلے ہی ہماری اِس عوامی بولی کا دائرہ صرف مسلمانوں تک محدو د سمجھا جانے لگا۔ شدید سیاسی گروہ بندی کی لپیٹ میں کسی کو یاد ہی نہ رہا کہ  زبان کی اصل تو بول چال ہوا کرتی ہے اور یہ کہ تحریری متن،جس کے لئے مسلم اور غیر مسلم آبادی بالترتیب ترمیم شدہ عربی فارسی ابجد اور دیوناگری رسم الخط برتا کرتی، محض بول چال کا ٹرانسکرپٹ ہے۔ بالکل اِسی طرح پاکستان بننے پر ہم آزادی کے جوش میں یہ بھی بھول گئے کہ اردو کی توثیق کا مطلب دیگر مادری زبانوں اور اُن کے شعر و ادب اور تمدنی روایت کی نفی ہرگز نہیں۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ یار،  تم نے تو ایک ایسے گھر، محلے اور شہر میں آنکھ کھولی جہاں اوڑھنا بچھونا پنجابی تھی۔ اب شرمائے بغیر سچ سچ بتاؤ کہ اردو زبان بولنے اور ترمیم شدہ عربی فارسی ابجد اپنانے میں خود تمہیں کتنی دقت ہوئی۔ ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پہ پوائنٹ اسکورنگ کے عادی کئی ایک دوست میرے ’اقوالِ زریں‘ کو سیاق و سباق سے جدا کرکے اُن میں ایسے ایسے نکتے ابھارنے کی کوشش کریں،جو اِس کالم نویس کو خواب و خیال میں بھی نہیں سُوجھے، چونکہ میری لسانی آپ بیتی کا تعلق اردو رسم الخط کے سوال سے جڑا ہوا ہے، اِس لئے یہ کہانی اگلے کالم میں۔ آج تو فقط اتنا ہی انکشاف کروں گا کہ ابتدائی بچپن میں گھر کے اندر پنجابی کی تحصیل، سکول میں ایک مرتبہ انگریزی اور اردو یکے بعد دیگرے اپنانے اور پھر اِسی ترتیب سے بھُلا کر دوبارہ سیکھنے کا میرا تجربہ دلچسپ بھی رہا اور  پُرسہولت بھی۔ بالکل اُن مولوی صاحب کی طرح جن کا کہنا تھا کہ ہم نے جرمنی میں ایک میم کو یوں چپکے سے مسلمان کیا کہ اُسے پتا ہی نہیں چلا۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -