اسلام آباد واقعہ، حکومت اور پولیس کے لئے ٹیسٹ کیس

اسلام آباد واقعہ، حکومت اور پولیس کے لئے ٹیسٹ کیس
اسلام آباد واقعہ، حکومت اور پولیس کے لئے ٹیسٹ کیس

  

قانون کا خوف ختم ہو جائے تو انسان وحشی درندہ بن جاتا ہے، انسانی معاشروں میں قانون اسی لئے بنائے جاتے ہیں کہ انسان کو ایک تہذیب، اخلاق اور ضابطے کے دائرے میں رکھا جائے۔ ہمارے ہاں قانون کی بے توقیری کوئی نئی بات نہیں،یہاں طاقتوروں نے قانون کو ہمیشہ موم کی ناک بنا کر رکھا ہے، جسے جب چاہا جس طرف کو چاہا موڑ دیا۔ہمارے ہاں سیاست میں اس لئے آتے ہیں کہ اس کے ذریعے اقتدار حاصل کریں اور قانون کو بے اثر کر دیں۔ کسی اور ملک میں یہ نہیں کیا جاتا، ”پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرائیں گے“۔ صرف پاکستان ہی میں اسے سیاسی و انتخابی نعرے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مختلف طبقوں نے قانون کو گھر کی لونڈی سمجھ رکھا ہے،وہ نہ صرف قانون سے خود کو ماورا سمجھتے ہیں،بلکہ انہوں نے ایسے گینگ بھی پال رکھے ہوتے ہیں، جن کی سرپرستی کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں اُن سے معاشرے پر لاقانونیت کی دھاک بٹھانے کا کام لیتے ہیں، بااثر خاندان اور بااثر افراد کی اصطلاح بھی ہمارے معاشرے ہی میں استعمال کی جاتی ہے، حالانکہ ہر مذہب معاشرے میں صرف قانون بااثر ہوتا ہے اور سب اُس کی نظر میں برابر ہوتے ہیں۔

مَیں سوچ رہاہوں سوشل میڈیا پر اسلام آباد واقعہ کی وڈیو اگر وائرل نہ ہوتی تو کیا قانون اسی طرح حرکت میں آتا جیسے آیا ہوا ہے،کیا وزیراعظم عمران خان اس کا نوٹس لیتے اور ملزم گرفتار ہوتے؟ وہ شخص،جو پہلے بھی کئی مقدمات بھگت رہا ہے، قانون کا تمسخر اڑاتا ہے اس مقدمے میں نامزد ہوتا؟ مرکزی ملزم عثمان مرزا وڈیو میں جس طرح بے خوفی کے ساتھ اپنی بربریت کی وڈیو بنوا رہا ہے اس سے بالکل واضح ہے اسے قانون کا کوئی خوف نہیں تھا۔ یہ تو اللہ کی پکڑ ہے، جس میں وہ آ گیا ہے اور پورا معاشرہ اُس کی درندگی پر اُسے عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔فرض کیجئے یہ سب نہ ہوا ہوتا،اُس کی وڈیو سامنے نہ آتی اور دونوں لڑکا لڑکی از خود کسی تھانے میں اس زیادتی کی رپورٹ لکھوانے گئے ہوتے توکیا ہوتا؟پولیس بااثر ملزمان کا نام سن کر انہیں تھانے سے واپس بھیج دیتی، کارروائی کرتی بھی تو اتنی کمزور کہ ملزمان پہلی پیشی پر ضمانت لے کر باہر آ جاتے اور پھر ان دونوں کی زندگی اجیرن کر دیتے۔یہ مَیں کوئی ہوا میں باتیں نہیں کر رہا، یہ ہمارے سامنے کی حقیقتیں ہیں،اخبارات ایسی دُہائیوں سے روزانہ بھرے نظر آتے ہیں، جن میں پولیس کی بے حسی،کمزوری اور ملزمان کی لاقانونیت اور بے خوفی کا اظہار کیا ہوتا ہے۔

شاید اس واقعہ پر ہلچل اِس لئے بھی مچی کہ یہ واقعہ ملک کے دارالخلافہ کی حدود میں پیش آیا، وہ شہر جس میں اقتدار کا ہر ستون موجود ہے۔ ذرا سوچئے یہ واقعہ راجن پور، کشمور، مالا کنڈ اور سبی کے کسی علاقے میں پیش آیا ہوا تو کیا ہوتا، کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگنی تھی۔ اُلٹا لڑکی اور لڑکا شاید غائب ہی کر دیئے جاتے، یا اُن پر جھوٹے مقدمے درج کروا کے انہیں نشانِ عبرت بنا دیا جاتا۔عدل  تو یہ ہوتا ہے ملک کے کسی کونے میں بھی کوئی ظلم ہو تو ریاست اور اُس کے ادارے خود کار طریقے سے متحرک ہو جائیں، ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں اور مظلوموں کو انصاف اور تحفظ فراہم کریں۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے یہ واقعہ کسی چھوٹے شہر میں ہوتا تو پولیس نے دونوں لڑکے لڑکی کو نازیبا حرکات کا  مجرم بنا کے انہیں ہی دھر لینا تھا۔ اسلام آباد میں بھی کیسے کیسے قانون شکن پڑے ہیں، اس واقعہ سے اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ ملزم عثمان مرزا، اس کے بھائی اور دیگر شریک ملزمان کی جرأت، بے خوفی اور قانون کو بیکار شے سمجھنے کا اندازہ اِس بات سے لگائیں، انہوں نے زیادتی و ظلم کے بعد وڈیو بھی بنائی اور اس وڈیو میں خود کو ہیرو بنا کے پیش کیا۔ مجھے ضیا الحق دور میں تھانہ الپہ ملتان کے علاقے کا ایک واقعہ یاد آ گیا، جس میں ملزمان نے خواتین کو برہنہ کرکے بازار میں گھمایا تھا۔ مارشل لا دور میں یہ واقعہ بڑی جرات کا کام تھا، مگر جیسا کہ میں نے کہا ہے قانون کا خوف ہمارے ہاں کبھی موجود نہیں رہا۔ اس زمانے میں الیکٹرانک میڈیا بھی نہ تھا اور سوشل میڈیا بھی ناپید تھا، صرف پرنٹ میڈیا تھا۔ایک دور دراز کا شہر اور شہر کا بھی مضافاتی علاقہ، لیکن اس واقعہ کی گونج ایوان صدر تک پہنچ گئی، فوراً سرکاری مشینری حرکت میں آئی، درندہ صفت ملزمان گرفتار ہوئے، ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوا اور چند دِنوں میں مجرموں کو نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔اس واقعہ کے بعد ایک عرصے تک پھر درندگی کا کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔

اب دور ہے جمہوریت کا اور واقعہ ہے دارالخلافہ اسلام آبادکا۔ مجھے یقین ہے یہ واقعہ کسی دور دراز علاقے میں ہوتا تو اس کی فریاد بھی اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچنی تھی۔ یہ واقعہ ہوا ہے اقتدار کے مرکز میں اور اس پر حکومت بھی پوری طرح متحرک ہو گئی ہے، وزیراعظم عمران خان آئی جی اسلام آباد کو بلا کر ان سے ساری تفصیلات معلوم کر چکے ہیں اور یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں تمام ثبوت پوری مہارت سے اکٹھے کئے جائیں، تاکہ ملزمان سزا سے بچ نہ سکیں۔ اس واقعہ میں گن پوائنٹ پر عورت کے کپڑے اتروانے کی دفعہ بھی لگائی گئی ہے، جس کی سزا موت ہے اور اس کی آسانی سے ضمانت بھی نہیں ہوتی۔ گویا ملزمان پہلی بار اللہ کے انصاف کی پکڑ کے شکنجے میں آ گئے ہیں، انہوں نے اس سے پہلے بھی کئی جرم کئے ہیں اور ایف آئی آرز بھی درج ہیں، تاہم وہ اپنے پیسے اور بااثر ہونے کی وجہ سے بچتے رہے، اب انہیں اتنے بڑے جرم کے بعد بچنا نہیں چاہئے۔ امید ہے قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، کوئی سیاسی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا، سب سے اہم بات یہ ہے اسلام آباد پولیس کی پراسیکیوشن برانچ اس مقدمہ کا کیا چالان تیار کرتی ہے اور اس کے ساتھ کیا ثبوت لگاتی ہے۔ اس ملک میں بااثر  افراد بڑے سے بڑا وکیل کر لیتے ہیں اور قانونی موشگافیوں کا فائدہ اٹھا کر بچ جاتے ہیں۔یہ پولیس کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے، اسے ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہئے۔امید ہے کہ اس کیس میں ملزموں کو عبرتناک سزا ہو گئی، تو تھانہ الپہ کیس کی طرح یہ کیس بھی ایک مثال بن جائے گا اور پھر ایک عرصے تک کسی بگڑے نوابزادے یا بااثر افراد کو ایسا ظلم کرنے کی جرأت نہیں ہو گی۔

اس وقت پورے ملک میں اسلام آباد واقعہ کے حوالے سے غم و غصے کی فضا موجود ہے۔ کیا ہم جنگل میں رہ رہے ہیں،جہاں جس کا جی چاہتا ہے وہ گن پوائنٹ پر جو چاہے کر سکتا ہے۔ معاشرے میں جرائم کیوں بڑھ رہے ہیں، صرف اِس لئے کہ ملزموں کو  عبرتناک سزائیں نہیں ملتیں اور وہ قانون کے سامنے دندناتے اور وکٹری کا نشان بناتے جیلوں سے رہا ہو کر آ جاتے ہیں۔ اس کیس کے پیچھے تو اب وزیراعظم ہیں، اِس لئے پولیس کسی غفلت کا مظاہرہ نہیں کرے گی، مگر کیا ضروری ہے کہ جس کیس کے پیچھے وزیراعظم نہ ہو اس میں پولیس مجرموں کی سہولت کار بن جائے؟

مزید :

رائے -کالم -