چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کا وزیراعظم پاکستان کو خط

چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کا وزیراعظم پاکستان کو خط

  

چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس (ر) عبدالرشید سلہریا نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آزاد ریاست کے انتخابات میں کسی امیدوار کی حمایت میں سرکاری وسائل استعمال نہ کئے جائیں، وفاقی وزراء کو انتخابی ضابطہ ئ  کار کی خلاف ورزی سے روکا جائے۔ چیف الیکشن کمشنر نے وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور کی طرف سے پیسوں کی تقسیم کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے لکھا ہے کہ آئندہ جس امیدوار کے حلقے میں خلاف ورزی ہوئی اُسے نااہل قرار دے دیا جائے گا،خط میں اِس بات پر زور دیا گیا کہ صوبائی وزراء کو بھی آزاد کشمیر کے انتخابات میں ضابطہ ئ  کار پر پابندی کی ہدایت کی جائے۔

آزاد کشمیر کے انتخابات میں وفاقی حکومت کی جانب سے پیسے کے استعمال کی شکایات کافی دِنوں سے منظر عام پر آ رہی ہیں یہ صرف اپوزیشن جماعتوں کا الزام نہیں،بلکہ وفاقی وزراء خود جلسوں میں پیسے لو اور ووٹ دو کے اعلانات کر رہے ہیں، ایسے ہی اعلانات گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی کئے گئے تھے، لیکن اس جانب توجہ نہیں دی گئی۔ یہ نسخہ کارگر رہا اِس لئے یہاں بھی آزمایا جا رہا ہے، تاہم یقینی نہیں کہ نتیجہ یہاں بھی ”مثبت“ ہی نکلے، کیونکہ سیاست میں ہمیشہ حسابی کلیئے نہیں چلتے، کبھی کبھار تُکہ ضرور لگ جاتا ہے، آزاد کشمیر کے ایک حلقے میں تحریک انصاف کے ایک امیدوار کی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس میں وہ لوگوں میں نقدی تقسیم کر رہے ہیں اب چیف الیکشن کمشنر نے بھی وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ کر اس جانب توجہ دلائی ہے تو ضروری ہو گیا ہے کہ اس شکایت کی تحقیقات کرائی جائیں اور  اگر یہ شکایات درست ثابت ہوں تو ان کا ازالہ بھی کیا جائے۔ کسی حجاب کے بغیر وزراء کھلم کھلا پیسہ بانٹنے کی بات کر رہے ہیں اور امیدواروں کی رقوم تقسیم کرتے ہوئے فوٹیج بھی سامنے آ  رہی ہیں، تو اندازہ ہو جانا چاہئے کہ معاملہ کس حد تک سنگین ہے۔ 

تحریک انصاف کے رہنما اعلیٰ سیاسی قدروں کے حوالے دیتے نہیں تھکتے اور وزیراعظم تو بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ملک میں جو بھی اقدامات کر رہے ہیں ان کا مقصد اگلا الیکشن جیتنا نہیں،بلکہ انہیں قوم کے مستقبل کی فکر ہے، اب جو  رہنما اتنے بلند اور ارفع خیالات رکھتا ہو اگر اس کے ساتھی جلسوں میں پیسے بانٹنے کی باتیں کریں گے اور ووٹ کا ریٹ مقرر کریں گے تو اس سے یہی نتیجہ نکالا جائے گا کہ وزیراعظم جو کچھ کہتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے ورنہ وہ خود ہی اپنے وزراء کو ایسی باتیں کرنے سے روک دیتے،لیکن اگر انہوں نے اب تک اس جانب صرفِ نظر کیا ہے اور وزراء کو ایسی باتیں کرنے کی اجازت  دے رکھی ہے تو پھر انتخابات میں مداخلت کا سوال تو اٹھے گا۔آزاد کشمیر میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات ہونے چاہئیں اور ان کے نتیجے میں تحریک انصاف سمیت جو بھی جماعت برسر اقتدار آ جائے،اس کا حق ہے کہ وہ وہاں حکومت بنائے،لیکن انتخابات میں ناپسندیدہ مداخلت کر کے وہاں برسر اقتدار جماعت کو ہر قیمت پر شکست سے دوچار کرنے کی کوششیں کرنا یہاں تک کہ کھلم کھلا امیدواروں کی جانب سے حلقے کے ووٹروں میں پیسے تقسیم کرنا کسی بھی طرح پسندیدہ روش نہیں ہے۔ آزادکشمیر میں پاکستان کی طرح سیاسی رہنما اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں، ایک جماعت چھوڑ کر دوسری جماعت میں چلے جانا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔اس وقت تحریک انصاف میں جوکشمیری رہنما پیش پیش ہیں وہ اپنے سیاسی سفر میں گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے رہے ہیں، اب اگر انہیں اپنا مستقبل تحریک انصاف میں روشن نظر آتا ہے تو مروجہ سیاسی کلچر میں وہ جو چاہیں کریں، جس من پسند جماعت میں چاہیں جائیں، لیکن الیکشن کی بنیادی اخلاقیات کو تو مجروح نہ کریں۔ چیف الیکشن کمشنر آزادکشمیر کو خط لکھنے کی ضرورت اسی لئے پیش آئی ہے کہ ان کے پاس اس امر کے شواہد موجود ہیں کہ وزیروں کی جانب سے انتخابات میں مداخلت ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی حلقے میں مداخلت ہوئی تو اس حلقے کے امیدوار کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس خط پر کارروائی ضروری ہے۔

یہ بات بار بار ثابت ہو چکی ہے کہ الیکشن جیتنے کے لئے جو بھی جماعت غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکات کرتی ہے،ہزار کوششوں کے باوجود بھی اسے سُبکی اور ندامت کا سامنا ہی کرنا پڑتا ہے۔ ڈسکہ کا ضمنی الیکشن اس کی بہترین مثال ہے۔ یہ الیکشن جیتنے کے لئے تحریک انصاف نے ہر حربہ آزمایا، انتظامی مشینری اور پولیس نے کھلم کھلا مداخلت کی، پولنگ والے دن مسلح افراد دندناتے رہے۔ دو افراد فائرنگ سے ہلاک بھی ہوئے، لیکن جب یہ سب کچھ ہونے کے باوجود یہ اطمینان نہ ہوا کہ نتیجہ حق میں نکلے گا تو 20سے زیادہ پریذائیڈنگ افسروں ہی کو اغوا کر لیا گیا یہ اغوا ثابت ہو گیا اور یہ بھی پتہ چل گیا کہ پولنگ ریکارڈ میں رد و بدل ہوا ہے تو پاکستان الیکشن کمیشن نے یہ انتخاب کالعدم قرار دے دیا، جس کے خلاف تحریک انصاف نے بھرپور عدالتی لڑائی بھی لڑی لیکن کہیں بھی اپنا کیس ثابت نہ کر سکی اور بالآخر حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے پڑے اور تحریک انصاف الیکشن ہار گئی جو کچھ انتخاب جیتنے کے لئے کیا گیا وہ اکارت گیا اور ندامت الگ ہوئی، بشرطیکہ کوئی محسوس کرے۔ ویسے بھی یہ نشست مسلم لیگ (ن) کی تھی، ضمنی انتخابات میں بھی وہ جیت جاتی تو نمبر گیم میں کوئی فرق نہ پڑتا، لیکن جو کچھ کیا گیا اس نے یہ سارے دعوے باطل کر دیئے کہ ہم الیکشن جیتنے کے لئے نہیں قوم کے مستقبل کے لئے سوچتے ہیں، آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران بھی یہ لگتا ہے کہ وفاقی حکومت وہاں ہر حالت میں انتخاب جیتنا چاہتی ہے اور اس کے لئے پیسے بھی لٹائے جا رہے ہیں یہ روش پسندیدہ نہیں ہے اور وزیراعظم کی توجہ اس جانب دِلا دی گئی ہے تو اسے روکنے کی بھی ضرورت ہے ایسے ہتھکنڈوں سے انتخاب جیت بھی لیا گیا تو ایسی جیت کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں ہو گی اور ملک میں شفاف انتخابات کے حوالے سے جو دعوے کئے جا رہے ہیں ان کی قلعی بھی کھل جائے گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -