چین بھی پاکستان کو کسی سے تعلق رکھنے یا ختم کرنے کا نہیں کہہ سکتا:معید یوسف

  چین بھی پاکستان کو کسی سے تعلق رکھنے یا ختم کرنے کا نہیں کہہ سکتا:معید یوسف

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کسی کے کہنے پر کسی ملک سے تعلقات کی نوعیت تبدیل نہیں کرسکتا، حتی کہ چین بھی کسی سے تعلق رکھنے یاختم کرنے کا نہیں کہہ سکتا، افغان خانہ جنگی کا نقصان پاکستان کو بھی ہوگا، افغانستان کا فیصلہ مقامی فریقین کو بیٹھ کر طے کرنا ہے تاکہ خونریزی نہ ہو،افغانستان میں ہونے والی خانہ جنگی کا نقصان پاکستان کو ہوگا،پاکستان امریکہ کے ساتھ بغیر کسی شرط کے تمام شعبوں میں تعلقات کی بہتری کا خواہشمند ہے،۔ان خیالا ت کا اظہار انہو ں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا۔ معید یوسف کا کہنا تھا کہ افغانستان نے ابھی بہت سے مراحل سے گزرنا ہے، امریکی انخلا کا فیصلہ ہوچکا، اب طالبان اور افغان حکومت کو مل بیٹھ کر ایسا فیصلہ کرنا چاہیے کہ معاملہ خونریزی کی طرف نہ جائے۔افغانستان میں ہونے والی خانہ جنگی کا نقصان پاکستان کو ہوگا، ہم پرامن حل کے اس لیے بھی خواہش مند ہیں کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے طالبان نے خود کو میدانِ جنگ میں منوایا اور اب وہ جنگی قوت استعمال کرکے آگے بڑھ رہے ہیں، انہیں قابض طاقت کے نکلنے کے بعد جگہ ملی، اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ حصے پر اپنا اثر قائم کررہے ہیں اور موجودہ صورت حال بھی اسی کی غمازی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب طالبان کا افغان حکومت میں شامل ہونا مشکل نظر آرہا ہے کیونکہ وہ اب حکومتی شراکت داری کے موڈ میں نہیں ہیں، افغان فریق مل بیٹھ کر ایساحل نکالیں جو سب کو قابل قبول ہو، افغان طالبان کا جنگ میں ہاتھ اوپر ہے، آج طالبان جس پوزیشن میں ہیں انہوں نے گزشتہ بیس سالوں میں خود کو اتنا طاقتور نہیں دیکھا تھا تاہم سوال یہ ہے کہ افغان طالبان کیاپھرعلیحدگی میں جاناچاہتے ہیں، اگر وہ چاہتے ہیں کہ تعلقات بحال رہیں تو پھر بات چیت کی گنجائش موجود ہے، پاکستان سے زیادہ افغان امن عمل میں بطورسہولت کار کسی ملک نے اتنا متحرک کردار ادا نہیں کیا، اگر اب یہ کردار کوئی اور بھی کرے تو ہمیں اعتراض نہیں کیونکہ پاکستان کے مفادات افغانستان سے جڑے ہوئے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ اس بات کو ذہن سے نکال دیں کہ امریکا کو اڈے دینے کی کوئی پیش کش کی جارہی ہے، پاکستان امریکا کے ساتھ بغیر کسی شرط کے تمام شعبوں میں تعلقات کی بہتری کا خواہش مند ہے اور امریکا کی بھی یہی خواہش ہے، امریکا سے مختلف معاملات اور تعلقات میں بہتری پر بات چیت جاری ہے،  ہم نے اپنا نقطہ نظرسامنے رکھنا ہے اور دیکھنا ہے کتنی چیزیں ہمارے لیے قابل قبول ہیں۔جب خلا پیدا ہوگا تو کوئی نہ کوئی جگہ لینے کے لیے تو آئے گا۔

معیدیوسف

مزید :

صفحہ اول -