وزیرزراعت سے پی سی جی اے وفد کی ملاقات، مسائل پرتبادلہ خیال

وزیرزراعت سے پی سی جی اے وفد کی ملاقات، مسائل پرتبادلہ خیال

  

ملتان (سپیشل رپورٹر) وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی سے پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے کمیٹی روم میں ملاقات کی۔جننگ انڈسٹری کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔وزیر زراعت کو کاٹن سیڈ آئل پرعائد سیلز ٹیکس کی چھوٹ بارے وفاقی حکومت کوسفارش کرنے کا کہا۔ا س موقع پر سیکرٹری(بقیہ نمبر7صفحہ6پر)

 زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل،ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس بارک اللہ خان،ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر محمد انجم علی،ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ ڈاکٹر محمد اسلم،جننگ انڈسٹری سے سہیل محمود،عاصم سعید،آصف خلیل،خواجہ ارشد،ڈائریکٹر کاٹن ڈاکٹر صغیر احمد،اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت انفارمیشن عبدالصمد سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے کہا کہ جننگ انڈسٹری کو ٹیکس میں چھوٹ دلوانے کیلئے وفاقی حکومت سے بات کی جائے گی۔ فیئر ٹریڈ سے ہی جننگ انڈسٹری ترقی کرے گی۔روئی کی گانٹھوں کے سائز اوروزن پر کسی قسم کا سمجھوتانہیں کیا جائے گا۔کاٹن کنٹرول ایکٹ پر عملدرآمد سے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔اس سلسلہ میں متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ جاری کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ کاٹن انسپکٹرز مذکورہ ایکٹ کے تحت منڈیوں اور جننگ فیکٹریوں میں آلائشوں سے پاک کپاس کی آمد یقینی بنائیں اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں ہوگی۔آلائشوں سے پاک کپاس کی خریداری کیلئے کاٹن فیکٹریوں اور منڈیوں کے باہر بینرز آویزاں کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی روئی پیداکرنے سے مقامی سطح پرضرورت پوری کرنے کے ساتھ ایکسپورت میں بھی اضافہ ہوسکے گا۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی بحالی کیلئے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اپنی اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر اداکرناہونگی۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ یہ کپاس کا سال ہے بین الاقوامی سطح پر روئی کی قیمتیں بہت بہتر ہیں جس سے ہمارے کاشتکاروں کو بھی فائدہ ہوگا۔صوبائی وزیر نے فیلڈ افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ کپاس کیلئے نازک وقت ہے اس وقت پھل لگنے اور ٹینڈے بننے کا اہم مرحلہ جاری ہے لہٰذا روزانہ کی بنیاد پر فصل کا معائنہ کیا جائے اور کاشتکاروں کو ہفتہ میں دوبار پیسٹ سکاؤٹنگ بارے آگاہی دی جائے کیونکہ آئندہ دنوں میں پیسٹ پریشر بڑھ سکتا ہے۔مارکیٹ میں معیاری زرعی مداخل کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے سخت مانیٹرنگ کی جائے۔اس موقع پر وزیر زراعت نے مزید کہا کہ کسان دوست پالیسیوں کے اثرات کا نتیجہ ہے کہ مختلف فصلوں کی ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی ہے۔سابقہ حکومتوں میں زراعت پر صرف زبانی جمع خرچ ہوتا تھا جبکہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب زراعت کی ترقی کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔وزیر اعظم کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے ٹریکٹروں ودیگر زرعی مشینری پر عائد ٹیکسز میں چھوٹ سے قیمتوں میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔موجودہ حکومت نے زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کیلئے زراعت کے ترقیاتی بجٹ میں 300فیصد سے زائد اضافہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے سبسڈی کے نظام کو شفاف بنانے کیلئے کسان کارڈ متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے اس سال 4ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں مزید کہا کہ پیداواری لاگت میں کمی لانے کی خاطرکھاد،بیج، زرعی ادویات کی خریداری،بیمہ سکیم،آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی پر سبسڈی بڑھا کر 7ارب60کروڑ روپے کردی ہے جس کے زرعی پیداوار پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

حسین جہانیاں 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -