ایف بی آر کی نئی سہولت سکیم‘ سٹیک ہولڈرز‘ ایکسپورٹرز سے رائے طلب 

ایف بی آر کی نئی سہولت سکیم‘ سٹیک ہولڈرز‘ ایکسپورٹرز سے رائے طلب 

  

ملتان (سپیشل رپورٹر)فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے نئی ایکسپورٹ سہولتسکیم 2021 کے قوانین مرتب کر لئے ہیں  اور تمام سٹیک ہولڈرز بشمول صنعت سے وابستہ افراد اور ایکسپورٹرز سے ان قوانین پر آراء طلب کر لی ہے۔نئی ایکسپورٹ سہولتی سکیم کو وفاقی (بقیہ نمبر44صفحہ7پر)

حکومت نے منظورکیا ہے اور فنانس ایکٹ 2021 کے تحت پارلیمنٹ نے بھی منظوری دے دی ہے۔ یہ سکیم 14 اگست 2021 سے نافذالعمل ہو گی اور مو جودہ جاری سیکموں جیسے مینوفیکچرنگ بانڈ، ڈی ٹی آر ای اور ایکسپورٹ اورینٹڈ سکیموں کے ساتھ جاری رہے گی۔ موجودہ سکیموں کو مرحلہ وار دو سالوں کے اندر ختم کر دیا جائے گا جس کے بعدنئی ایکسپورٹ سہولتی سکیم 2021 مکمل طور پر لاگو ہو جائے گی۔نئی ایکسپورٹ سہولتی سکیم 2021 کے ڈرافٹ قوانین کو ایف بی آر ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔نئی ایکسپورٹ سہولتی سکیم کے تحت کم از کم ڈاکیومینٹیشن کی ضرورت ہو گی جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے اینٹر پرائزز کی حوصلہ افزائی ہو گی۔یہ سکیم وی بوک اور پاکستان سنگل ونڈو کے تحت مکمل طور پر خودکار ہو گی۔ اس سکیم کی نمایاں خصوصیت میں پوسٹ کلیرنس آڈٹ اور کنٹرول شامل ہے۔ اس سکیم کو استعمال کرنے والوں میں مینوفیکچررز و ایکسپورٹرز، کمرشل ایکسپورٹرز، ان ڈائیریکٹ ایکسپورٹرز، کامن ایکسپورٹ ہاو?سز، وینڈرز اور انٹرنیشنل ٹول مینوفیکچررز شامل ہیں۔ اس سکیم کو استعمال کرنے والوں کے ان پٹس کی منظوری کسٹمز کولیکٹر اور ڈائیریکٹر جنرل ان پٹ آو?ٹ پٹ آرگنائیزیشن دے گا۔ ان پٹ میں ایسی تمام اشیاء شامل ہیں جو کہ باہر سے درآمد کی گئی ہوں یا مقامی طور پر بنائی گئی ہوں تاکہ اشیاء کی پیدوار کو برآمد کیا جا سکے۔ان پٹ اشیاء میں خام مال، سپیر پارٹس، کمپونینٹس، سازوسامان، پلانٹ اور مشینری شامل ہیں۔ ان پٹ کی درآمد پر کوئی ڈیوٹی یا ٹیکس لاگو نہیں ہو گا اور مقامی طور پر ان پٹس کی فراہمی بھی زیرو ریٹیڈ ہو گی۔ اس سکیم کے تحت کامن ایکسپورٹ ہاو?س کے خیا ل کو تقویت دی گئی ہے  جس کی وجہ سے خام مال کو ڈیوٹی اور ٹیکس فری درآمد کیا جائے گا اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے اینٹرپرائزز کو فروخت کیا جائے گا۔اس سکیم نے انٹرنیشنل ٹول مینوفیکچرینگ کو بھی متعارف کیا ہے۔ اس سکیم کے تحت استعمال کردہ عرصہ کو  ایکسپورٹرز کی پروفائل کو دیکھتے ہوئے دو سال سے بڑھا کر پانچ سال تک کردیا گیا ہے۔توقع ہے کہ اس نئی سکیم کی وجہ سے کاروباری لاگت میں کمی آئے گی، ٹیکس تعمیل آسان ہوگی، تجارتی آسانی فراہم ہو گی، ایکسپورٹرز کے لیکویڈیٹی مسائل کم ہوں گے اور تجارت کو فروغ ملے گا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -