’آبادی میں اضافے کو قابو نہ کیا گیا تو بنیادی سہولیات کی فراہمی مشکل ہوگی‘اسد عمرنے خبر دار کردیا

’آبادی میں اضافے کو قابو نہ کیا گیا تو بنیادی سہولیات کی فراہمی مشکل ...
’آبادی میں اضافے کو قابو نہ کیا گیا تو بنیادی سہولیات کی فراہمی مشکل ہوگی‘اسد عمرنے خبر دار کردیا
سورس: File Photo

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے کہا ہے کہ آبادی میں تیزی سے ہونے والے اضافہ کو قابو نہ کیا گیا تو ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی مشکل ہو گی، اگر آبادی میں اضافہ بنگلا دیش کی طرح کم ہو تو آئندہ دس سال میں ہر بچے کو پرائمری جبکہ 15سال میں ہر بچے کو سکینڈری تعلیم فراہم کر سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر اپنے ایک ٹویٹ میںوفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ پاکستان میں 2 کروڑ 72لاکھ افراد 50سال یا اس سے زائد عمر کے ہیں، اس عمر کے افراد کو کورونا سے متاثر ہونے کے سنجیدہ خطرات ہو سکتے ہیں، ان افراد میں سے اب تک 56لاکھ نے کورونا ویکسین کی ایک یا دو خوراکیں لی ہیں، اس عمر کے افراد کو جتنی جلد ممکن ہو سکے ویکسین کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

اسد عمر نے کہا کہ پاکستان میں ایک بڑا چیلنج آبادی میں تیزی سے اضافہ ہے، ان افراد کو تعلیم، صحت، روزگار کے علاوہ بجلی، گیس سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی دیگر ترقیاتی کاموں کے ساتھ انتہائی مشکل ہے، ہمارے ترقیاتی عمل پر اس کے اثرات کم کرنے کیلئے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی آبادی میں اضافہ کو کم کریں اور اسے اپنی اولین قومی ترجیحات میں رکھیں۔اسد عمر نے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنے نصف بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی استعداد رکھتا ہے، اگر پاکستان میں آبادی میں اضافہ بنگلہ دیش کی طرح گرے تو دس سال میں پاکستان اپنے ہر بچے کو پرائمری سکول تک کی تعلیم اور 15سال بعد اپنے ہر بچے کو سکینڈری سکول کی تعلیم دے سکے گا۔

مزید :

قومی -