بجلی کے بڑھتے بل

بجلی کے بڑھتے بل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

حکومت نے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بجلی کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے،ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے لوگ پروٹیکٹڈ صارفین مانے جاتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی کابینہ سے ہنگامی بنیادوں پر سرکولیشن سمری کے ذریعے ان صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافہ واپس لینے کی منظوری لی گئی لیکن یہ ریلیف صرف جولائی سے ستمبر 2024ء تک دیا گیا ہے،حکومت ترقیاتی بجٹ میں سے قریباً 50 ارب روپے نکال کر ٹیرف پر ریلیف کے لیے بطور سبسڈی دے گی۔ ماہانہ 50 یونٹ والے لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف 3.95 روپے جبکہ ماہانہ 51 سے 100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف 7.74 روپے برقرار رہے گا۔وزیراعظم نے یہ اعلان توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ 100 یا 200 یونٹس بجلی استعمال کرنے والے غریب لوگ ہیں،جب اُن کے نرخ بڑھے تو ملک بھر میں احتجاج ہوا،اُن کا غصہ جائز تھا تاہم حکومت معیشت کے استحکام کے لیے آئی ایم ایف پروگرام میں جا رہی ہے تو شراکت دار کے ساتھ کچھ چیزیں طے کی تھیں جس کی وجہ سے اِس اعلان سے پہلے مالیاتی ادارے کے ساتھ بات چیت ضروری تھی، اِس ریلیف سے ڈھائی کروڑ گھریلو صارفین فیضیاب ہوں گے۔ اْن کا کہنا تھا کہ بات صاف کرنی چاہیے، ن لیگ قوم سے غلط بات نہیں کرتی، گھریلو صارفین کو یہ رعایت اِس لیے دے رہے ہیں کہ تین ماہ کے بعد اکتوبر میں موسم بہتر ہو جانے سے بجلی کا استعمال کم ہوجاتا ہے، حکومت نے عام آدمی کا بھی خیال رکھا اور آئی ایم ایف کو بھی آن بورڈ رکھا، مزید ریلیف کے لیے ضروری ہے کہ کرپشن کو ختم کیا جائے، کسی نے بتایا کہ کراچی کی بندرگاہ پر درآمدی ڈیوٹی پر 1200 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے،یہ اْس 2700 ارب سے ہٹ کر ہے جو ٹربیونلز میں پڑے ہوئے ہیں۔ شہباز شریف نے اپنی جماعت کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ نے ریاست کو بچانے کے لیے سیاست کو قربان کیا، مشکل مرحلہ گزر گیا اور پاکستان بچ گیا، بجٹ میں یقینا ٹیکس لگے ہیں، پہلی بار اشرافیہ پر بعض ٹیکس لگے ہیں، پراپرٹی کے منافع پر بھی پہلی بار ٹیکس عائد کیا گیا ہے،اِن اقدامات سے 100 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے جبکہ آئندہ سال رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ٹیکس میں مزید اضافہ کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کے دوران تحریک انصاف کے دورِ حکومت پر تنقید کی اور اس کے بانی چیئرمین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ حکومت نے یہ بجٹ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مل کر بنایا ہے اور اِس میں کوئی راز کی بات نہیں ہے، حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ تین سالہ پروگرام میں جا رہی ہے۔ 

دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق پاور ڈویژن نے 200  یونٹس سے زائد پر اووربلنگ کے معاملے سے متعلق انکوائری رپورٹ تیار کر کے وزیراعظم آفس کو ارسال کر دی گئی۔اس رپورٹ میں وزارت توانائی کے حکام کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اِن کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت توانائی نے تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کو نوٹیفکیشن کے ذریعے پروریٹا سسٹم لاگو کروایا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی صارفین کے بلوں میں زائد یونٹس شامل کرنے والے افسروں اور اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے ذمہ داروں کو فوری معطل کرنے اور اُن کے خلاف فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو تحقیقات کی ہدایت جاری کی تھی۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ مصنوعی طور پر بجلی کے زائد یونٹس بِل میں شامل کرکے صارفین پر ظلم کرنے والے عوام دشمن افسروں و اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے جبکہ 200 یونٹس سے نیچے پروٹیکٹڈ صارفین کے بِلوں میں مصنوعی طور پر زائد یونٹس شامل کر کے اْنہیں غیر پروٹیکٹڈ درجے میں شامل کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے۔وفاقی وزیر داخلہ نے بھی اِس معاملے  پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کی تھی۔اب تحقیقات ہو چکی ہیں،رپورٹ بھی وزیراعظم کو ارسال ہو چکی ہے، اُمید ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی تاکہ آئندہ کوئی بھی غریب عوام پر اس طرح کا ظلم کرنے سے پہلے کئی بار سوچے۔

اب حکومت نے جو اعلان کیا ہے اس سے پروٹیکٹڈ صارف کو تو کسی حد تک ریلیف ملے گا،اِسے عوام کی طرف سے سراہا بھی جا رہا ہے لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ صرف ایک یونٹ بڑھنے سے پروٹیکٹڈ صارف نان پروٹیکٹڈ کی فہرست میں آ کھڑا ہوتا ہے درحقیقت ان دونوں کی مالی حالت میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا،اس کے لیے بھی کوئی موثر حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ویسے تو بجلی کا بل ہر طرح کے صارف کے لیے ہی ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔یہ کوئی ایسا خرچ نہیں ہے جو زندگی میں ایک ہی مرتبہ کرنا پڑتا ہے، بل تو ہر مہینے آتا ہے اور بھرنا بھی پڑتا ہے۔ مشکل تو یہ ہے کہ بجلی کے بِل میں مختلف سلیبوں اور اوقات کی قیمت میں تو فرق ہے ہی تاہم اُس پر عائد کردہ ”فردر اور ایکسٹرا“ سمیت مختلف ٹیکسوں کی بھر مار اِسے کئی گنا بڑھا دیتی ہے،امیر غریب ہر کسی کی جیب پر یہ بھاری ترین بوجھ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ عوام اِن بِلوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنے اثاثے بیچ کر سولر پینل لگوا رہے ہیں جس سے اُنہیں فائدہ بھی ہو رہا ہے لیکن اس کے بارے میں آئے روز حکومت کی پالیسی بدلنے کی خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ حکومت بجلی کے بِلوں میں لئے جانے والے ٹیکسوں کی شکل میں ہونے والی آمدن پر انحصار کر رہی ہے، اِسی لئے اسے لوگوں کا سولر پینل لگا کر خود مختار ہو جانا بھی خاص فائدے مند نہیں لگ رہا، ہو سکتا ہے مستقبل قریب میں ذاتی سرمایہ کاری کر کے سولر پینل لگانے والوں کے لیے مسائل کھڑے ہو جائیں۔ دوسری طرف پنجاب کابینہ نے 500 یونٹ تک استعمال کرنے والے 45 لاکھ صارفین کے لیے سولر سسٹم کی منظوری دی ہے جس کے لیے صارف کو 10فیصد ادا کرنا پڑے گا جبکہ 90 فیصد صوبائی حکومت ادا کرے گی تاہم نان فائلر کو یہ سہولت دستیاب نہیں ہو گی۔ نان فائلر کے حوالے سے بھی حکومت کو ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جس کی آمدن ہی اتنی نہیں ہے، تو وہ ٹیکس ریٹرن کیسے فائل کر سکتا ہے، کہا تو جاتا ہے کہ50ہزار سے نیچے والوں کو چھوٹ حاصل ہے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہو رہا، بجلی کے بلوں میں بھی نان فائلر کے لیے زیادہ ٹیکس رکھا گیا ہے۔اِس وقت سب سے بڑا مسئلہ آئی پی پیز (بجلی بنانے والے نجی ادارے) کو سینکڑوں ارب روپے سالانہ کی ادائیگیاں ہیں جس سے چھٹکارا پائے بغیر حکومت کے لیے عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دینا شاید ممکن نہیں ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالے، مقامی آئی پی پیز سے معاملات طے کرے، بجلی کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو ریلیف دے، انہیں کسی دوسری طرف دھیان دینے اور سوچنے سمجھنے کا موقع  نہ دے۔

مزید :

رائے -اداریہ -