غیر مشروط معافی کے ساتھ، کچھ عدالتی  امور کے حوالے سے

غیر مشروط معافی کے ساتھ، کچھ عدالتی  امور کے حوالے سے
غیر مشروط معافی کے ساتھ، کچھ عدالتی  امور کے حوالے سے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کئی بار سوچا کہ اپنے عدالتی رپورٹنگ کے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے نہایت ادب سے عدلیہ کے حوالے سے کچھ عرض کروں، لیکن توہین عدالت کے خوف سے ایسا نہ کیا، حالانکہ ان دِنوں عدلیہ کی فعالیت بھی تقاضہ کرتی ہے کہ لکھا جائے تاہم ڈر یہ ہے کہ کہیں کہی بات ناگوار نہ گزرے کیونکہ اگر عام شہری کے خلاف سوشل میڈیا پر گالی گلوچ تک ہو اور ناجائز الزام لگا کر عزت اچھالی جائے تو جرم نہیں اور اگر عدلیہ سے رجوع کیا جائے تو ہدایت ہو گی کہ یہ سول معاملہ ہے،لہٰذا عزت ہتک کا دعویٰ کیا جائے جو ضابطہ فوجداری کی دفعہ500 اور 501 کے تحت دیوانی اور فوجداری بھی ہو سکتا ہے، تجربہ کہتا ہے کہ اگر کوئی کسی محترم اور فاضل جج کے حوالے سے کوئی سوال پوچھ لے تو وہ توہین عدالت ہو جاتی ہے، حالانکہ آئین کی نظر میں سب شہری برابر اور ان کے حقوق بھی یکساں ہیں،اس کے علاوہ ریاست مدینہ کے حوالے سے یہ بڑا یادگار اور نصیحت آموز واقعہ ہے کہ خلیفہ وقت حضرت عمرؓ سے بھرے مجمع میں پوچھ لیا جاتا ہے کہ ان کا کُرتا مالِ غنیمت کی ایک چادر سے تیار ہونا ممکن نہیں، دوسری چادر کہاں سے آئی؟ تو خلیفہ وقت، فاتح عالم، کو وضاحت دینا پڑی کہ ریاست مدینہ میں توہین عدالت اور خلیفہ وقت سے سوال کی ممانعت نہیں تھی،اس کے باوجود کچھ عرض کرنا لازم ہو گیا۔

فاضل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھٹو کی سزائے موت کے حوالے سے ریفرنس کی سماعت کے بعد جو رائے دی وہ بہت ہی قابل غور ہے کہ یہ وقوعہ کب ہوا اور اِس کے حوالے سے پسماندگان کی تشفی کب ہوئی یہ بھی ایک سوال ہے اور یہ بھی کہ اِس سے پہلے یہ سب کیوں نہ ہوا،بھٹو کو بعد از مرگ قریباً چالیس سال بعد انصاف مل گیا کہ وہ معصوم اور بے گناہ تھے، انہی چیف جسٹس محترم نے اپنے منصب کی ابتداء زیر التواء مقدمات تیزی سے نمٹانے کی ابتدا کی تھی، لیکن اب اعداد و شمار سے بتایا گیا ہے کہ زیر التواء مقدمات یا اپیلوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کی رائے یہ ہے کہ اس کی وجہ سیاسی نوعیت کے مقدمات ہیں،جن کے لئے آج درخواست دائر ہو تو اگلے روز شنوائی شروع ہو جاتی ہے، ایسا ہی ایک مسئلہ گزشتہ روز کی سماعت کے بعد ختم ہوا اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا یہ ایسا اہم مقدمہ ہے کہ اس کے لئے تیرہ حاضر فاضل جج حضرات پر مشتمل فل کورٹ بنانا پڑی، اس مسئلہ کی سماعت کے دوران فاضل جج حضرات اپنے فیصلے کے ذریعے تو مشاورت کے بعد بولیں گے،لیکن دورانِ سماعت جو تبصرے، آبزرویشن یا ریمارکس بنچ کے فاضل اراکین کی طرف سے دیئے گئے وہ ان کے رجحان کا واضح اشارہ دے رہے تھے۔ایسا اسی کیس میں نہیں ہوا، ہر سیاسی نوعیت کی درخواست کی سماعت کے دوران ہوتا ہے۔بات چونکہ عدالتی حوالے سے ہو رہی ہے اس لئے یہ عرض کرنے پر بھی مجبور ہوں کہ ایک فریق کے وکیل نے بھری عدالت میں فاضل چیف جسٹس کی موجودگی پر اعتراض کیا اور خلافِ معمول فاضل چیف جسٹس کو سخت لہجہ اختیار کرنا پڑا تاہم تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سے سربراہ تک نے بہت کھلے طور پر انہی فاضل چیف جسٹس پر جس انداز سے اعتراض کیا اور الزام لگایا، کیا وہ توہین عدالت نہیں؟ شاید فاضل چیف جسٹس کے اپنے موقف کی وجہ سے نوٹس نہیں لیا گیا کہ انہوں نے خود کہہ دیا تھا کہ ان کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے، کہا جاتا ر ہے وہ برا نہیں مناتے، تاہم قانون اور آئین کے ماہر حضرات کے لئے یہ نکتہ اعتراض ہے کہ کیا اپنے فاضل چیف جسٹس کی توہین کے بارے میں کوئی بھی عدالت نوٹس نہیں لے سکتی،ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ جن فاضل جج کی توہین کے حوالے سے نوٹس لیا تو کسی دوسری فاضل عدالت نے کارروائی کی۔

یہ گذارشات بہت محتاط انداز سے ڈرتے ڈرتے کی ہیں اس کے باوجود میں اسی کالم میں غیر مشروط معافی مانگتا ہوں اور نہایت ایمانداری سے عرض کرتا ہوں کہ میرے65سالہ صحافتی کیریئر میں کوئی ایک بھی گستاخی میرے ساتھ نتھی نہیں ہوئی۔میری اِس تمام تر عرض کا مفاداتی مقصد یہ ہے کہ فاضل عدالتوں کو سیاسی مقدمات کے علاوہ بھی زیر التواء مقدمات کی سماعت کر کے انہیں مکمل کرنا چاہئے۔عدالت عظمیٰ میں  ملتان کے صحافی کارکنوں کی ایک درخواست عرصہ سے زیر التواء ہے جس میں شعیب شاہین وکیل ہیں اس درخواست کے ذریعے استدعا کی گئی ہے کہ حکومت وقتاً فوقتاً سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے ملازمین کی تنخواہ یا پنشن میں جو اضافہ کرتی رہی ہے وہ نیشنل پریس ٹرسٹ(خصوصاً روزنامہ امروز مرحوم) کے سابق ملازمین کی پنشن میں نہیں کیا گیا، ایک اور معذرت کہ طویل مدت بعد کاز لسٹ میں ایک بار نمبر آیا تو محترم شعیب شاہین صاحب پیش نہ ہوئے،حالانکہ وہ اپنی فیس کا ایک بہت معقول حصہ ہمارے ملتان والے ساتھیوں سے وصول کر چکے ہوئے ہیں یوں یہ پھر زیر التوا چلی گئی۔

ایسا ہی ای او بی آئی کے بزرگ پنشنروں کے ساتھ ہو رہا ہے، ماضی کی حکومتیں تو نظر انداز کرتے ہوئے بھی ماہانہ پنشن 10ہزار روپے ماہوار تک کر چکی تھیں، موجودہ برسر اقتدار حضرات کو ان کی فریاد پر توجہ دینے کی بھی فرصت نہیں کہ وزیر خزانہ نے تو بالکل ہی لاتعلقی کا اظہار کر دیا اور ای او بی آئی پر قابض مراعات گروپ کو اپنی مراعات سے غرض ہے، بزرگ پنشنر جو اپنی ملازمت کے دوران ہی تنخواہ کا ایک حصہ اسی آس میں خزانہ(ای او بی آئی) کے لئے دیتے رہے تھے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کو سہولت ہو گی، ان کی اب10ہزار روپے میں ادویات بھی پوری نہیں ہوتیں، یہ مسئلہ بھی عدالت عظمیٰ میں زیر التواء ہیں اور اب تو خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری پنشن ختم کرکے ای او بی آئی نظام کے ایک حصے کے نفاذ کا فیصلہ کیا اور وفاقی حکومت تمام سرکاری پنشنروں کے لئے ای او بی آئی جیسا انداز اور طریق نافذ کرنے جا رہی ہے۔ اللہ کرے کہ ان کے ساتھ یہ سلوک نہ ہو!

پیشگی معافی اور معذرت کے ساتھ عرض کیا ہے، شاید کہ اُتر جائے، کسی کے دِل میں میری بات؟

مزید :

رائے -کالم -