مزمل اسلم کی زیر صدار ت محکمہ توانائی و بر قیات اور خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کا اجلاس

مزمل اسلم کی زیر صدار ت محکمہ توانائی و بر قیات اور خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                            پشاور(سٹاف رپورٹر)مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کی زیر صدارت محکمہ توانائی و برقیات اور خیبرپختونخوا ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کا ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تیار کردہ سستی بجلی کو صوبے کی صنعتوں کو فراہم کی جائے تاکہ صوبے کے صنعتوں کو فروغ مل سکے اور عوام کو روزگار کے مواقع مل سکیں۔ اجلاس میں سیکرٹری توانائی و برقیات محمد نثار خان، ایڈیشنل سیکرٹری توانائی و برقیات، چیف ایگزیکٹو آفیسر خیبرپختونخوا ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی محمد ایوب، انجنئیر طلا محمد خان سمیت متعدد حکام نے شرکت کی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ نیپرا کے ویلنگ چارجز کا مطالبہ ناانصافی پر مبنی ہے اور اسکے لئے نیپرا حکام سے ترجیی بنیادوں پر بات چیت کی جائے گی تاکہ صوبے کے صنعتوں کو سستی بجلی جلد ازجلد فراہم ہوسکے۔ اجلاس میں اسکے علاؤہ دیگر مختلف آپشنز کو زیر غور لایا گیا جس سے خیبرپختونخوا کی سستی بجلی کو صوبے کی ترقی کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر خیبرپختونخوا ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی نے پیڈو کے ہائیڈرو پاور منصوبوں سے ٹرانسمشن لائن بچھانے کے بارے میں تفصیلی بریفینگ دی جس میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کی طرف سے کچھ ترامیم کی تجویز پیش کی گئی جس پر مزید کام کرنے کا کہا گیا۔ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جبوڑی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مانسہرہ 10 میگاواٹ، کروڑا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شانگلہ11 میگاواٹ اور کوٹو لوئر دیر ہائیڈرو پاور 40 میگاواٹ منصوبوں پر 90 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اسی طرح لاوی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ چترال 69 میگاواٹ، گورکن مٹلتان سوات 84 میگاواٹ منصوبے پر 50 فیصد سے زیادہ کام ہو چکا ہے۔