انسانوں کے ساتھ انسانوں والا سلوک کریں، غیرانسانی برتاؤ نہ کریں،جسٹس عرفان سعادت کے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم  دینے کیخلاف اپیل پر ریمارکس

انسانوں کے ساتھ انسانوں والا سلوک کریں، غیرانسانی برتاؤ نہ کریں،جسٹس عرفان ...
انسانوں کے ساتھ انسانوں والا سلوک کریں، غیرانسانی برتاؤ نہ کریں،جسٹس عرفان سعادت کے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم  دینے کیخلاف اپیل پر ریمارکس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پرجسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ انسانوں کے ساتھ انسانوں والا سلوک کریں، غیرانسانی برتاؤ نہ کریں،جسٹس امین الدین نے استفسار کیا کہ زیرحراست افراد کی اہلخانہ سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جارہی؟

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ملزمان کے ساتھ میٹنگ فکس ہیں،صرف لاہور میں ملاقات کا مسئلہ بنا تھا،حسان نیازی لاہور میں ہیں، متعلقہ حکام کو تجویز دے دی ہیں،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ انسانوں کے ساتھ انسانوں والا سلوک کریں، غیرانسانی برتاؤ نہ کریں،جسٹس امین الدین نے استفسار کیا کہ زیرحراست افراد کی اہلخانہ سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جارہی؟اٹارنی جنرل نے کہاکہ متعلقہ حکام کو بتایاتھا کہ ملاقات کرانے کا حکم عدالت کا ہے،تسلیم کرتا ہوں کہ ملاقاتوں کا سلسلہ نہیں رکنا چاہئے تھا،آج دو بچے زیرحراست افراد کو اہلخانہ سے ملوایا جائے گا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ پہلے بتاتے تھے ہر ہفتہ ملزمان کی فیملی سے ملاقات ہوتی ہے،آپ اس سلسلے کو جاری کیوں نہیں رکھتے؟اٹارنی جنرل آپ کا بیان عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ ایک ملزم کو فیملی سے نہیں ملنے دیا گیا، اس کا 5سال کا بچہ انتقال کرگیا۔

ملٹری کورٹس میں ملزمان سے ملاقاتوں کے فوکل پرسن بریگیڈعمران عدالت میں پیش ہوئے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ جیلوں میں منتقلی میں کچھ قانونی مسائل بھی ہیں ،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کام کیا ہے؟کسی بھی فیصلے میں غلطی دیکھنا،آپ نے اپیل میں جاری کئے گئے فیصلے میں غلطی بتانی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ملزمان سے ملاقات کا کیا طریقہ کار ہے،جسٹس مندوخیل نے کہاکہ اگر تفتیشی مکمل ہو گئی تو جوڈیشل کسٹڈی میں کیوں ہیں؟پھر تو معاملہ ہی ختم ہو گیا۔