نام نہاد بدمعاش کی فلمی انداز میں میں آمد ہوئی، اسکے ہمراہ نائب بدمعاش بھی تھا، انہوں نے ایک پرچی میرے سامنے رکھی جس پر خاتون کا نام لکھا تھا 

 نام نہاد بدمعاش کی فلمی انداز میں میں آمد ہوئی، اسکے ہمراہ نائب بدمعاش بھی ...
 نام نہاد بدمعاش کی فلمی انداز میں میں آمد ہوئی، اسکے ہمراہ نائب بدمعاش بھی تھا، انہوں نے ایک پرچی میرے سامنے رکھی جس پر خاتون کا نام لکھا تھا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:328
ایسے ہی ایک اور نام نہاد بدمعاش کی انتہائی فلمی انداز میں میرے کمرے میں آمد ہوئی جس کے ہمراہ اسی حلیے کا ایک نائب بدمعاش بھی تھا۔ سلام دعا کے بعد اس نے ایک پرچی سامنے رکھی جس پر ایک خاتون کا نام لکھا ہوا تھا، جو غالباً ہسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج تھی۔ کہنے لگا ”یہ میری منہ بولی بہن ہے، اس لیے آپ اس کو بل میں رعایت دے دیں“۔ میں نے بے نیازی سے پوچھا کہ”آپ کون ہیں“۔ یہ سن کر اس کا منہ بن گیا، آنکھیں نچائیں اور پوچھا کہ ”آپ مجھے نہیں جانتے؟“ میں نے انکار میں سر ہلایا تو اس نے بڑی شان بے نیازی سے ساتھ آئے ہوئے شخص کو مخاطب ہو کر کہا کہ”ذرا ڈاکٹر صاحب کو میراتعارف بیان کرو“۔ اس نے فر فر سبق پڑھنا شروع کر دیا کہ ”یہ لاہور کا بہت بڑا بدمعاش فلاں فلاں ٹرکاں والا ہے جس پر 6 خون کے الزامات ہیں اور پولیس ہمیشہ اس کی تلاش میں رہتی ہے“۔ میں دل ہی دل میں مسکرایا اور سوچنے لگا کہ ہفتے بھر سے تو وہ روزانہ ہسپتال کے ویٹنگ ہال میں بیٹھا یا لیٹا ہوا پایا جاتا ہے، پولیس پتہ نہیں اسے کہاں تلاش کرتی پھر رہی ہے۔ اس وقت تو میں نے اسے ٹال دیا تاہم بعد میں اکاؤنٹس مینجر عمران لطیف نے بتایا کہ”آپ کے پاس جانے سے پہلے یہ حضرت میرے پاس بھی تشریف لائے تھے اور مجھے بھی بلواسطہ بہت ساری دھمکیاں لگا کر گئے ہیں“۔ اکاؤنٹس مینجر عمران بڑا ہی شریف النفس انسان تھا، وہ ایک تیسرے درجہ کے بدمعاش کا ذکر بھی خالص لکھنوی انداز میں ’آپ جناب‘کہہ کر کر رہا تھا۔ میں بھی اس کی بیان کردہ خوبیوں کا سوچ کر کافی دیر تک مسکراتا رہا۔
میرا دل چاہتا ہے کہ میں یہاں کچھ دیر رک کر عمران کی باتیں کچھ اور تفصیل سے کرلوں۔ ورنہ ناانصافی ہوگی اگر میں اپنے اس عظیم اور قدرے جوان ساتھی کی ان تھک محنت اور حسن خلوص کو خراج تحسین نہ پیش کر سکوں۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں ذرا برابر بھی تامل نہیں ہے کہ میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اس سے زیادہ بااخلاق، نرم گفتار، تحمل مزاج اوربرف کی طرح ٹھنڈا انسان کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ کتنا ہی ناراض مریض یا اس کا کوئی عزیز،جو غصے کی انتہائی بلندیوں کو چھورہا ہوتا تھا، ایک بار اس سے مل لیتا تو مسکراتا ہوا ہی واپس آتا تھا۔ اس کی اسی خصوصیت کو دیکھتے ہوئے ایسے لوگوں کو بھی اس کے پاس بھیج دیا جاتا تھا جس کا دور دور تک اکاؤنٹس کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ بہترین لباس میں ملبوس اور ہمیشہ مسکراتا ہوا یہ شخص مجھے بہت ہی پیارا لگتا تھا۔
 پھر وہی ہوا جو ایسے شاندار لوگوں کے لیے قدرت نے اپنی کتابوں میں لکھ رکھا ہوتا ہے۔ ایک صبح جب وہ اپنی ملازمت پر جانے کے لئے گھر سے نکلا تو اللہ کی طرف سے اچانک اس کو سب کچھ بیچ میں ہی چھوڑ چھاڑ کر اپنے حضور پیش ہونے کا حکم ہوا، اور پھر چالیس پینتالیس سال کی عمر میں ہی اس نے اپنی زندگی کا سفر مکمل کر لیا۔ اپنے گھر اور ہسپتال والوں کو انتہائی افسردگی اور صدمے کے عالم میں چھوڑکر رب کے پاس پہنچ کر اپنی حاضری لگوا ئی اور کشمکش دہرسے آزاد ہوگیا۔
جنازے کے بہت ہی افسردہ سے ماحول میں ایک ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ”کسی کے چلے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتااور نہ ہی دنیا کے کام رکا کرتے ہیں“۔ میں بھی یہی مانتا ہوں لیکن بے تحاشہ محبتیں بانٹنے اور سمیٹنے والے اس شخص کی رخصتی پر اس قسم کی بات کرنے کا کوئی جواز تھا اور نہ ہی مناسب موقع۔ خوشگوار گفتگو کرنے والا یہ پیارا سا شخص ہر ایک کی آنکھیں نم کر کے منوں مٹی تلے جا سویا، اور نہ ختم ہونے والی یادوں کا ایک سلسلہ چھوڑ گیا۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
 ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
 (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -