امریکہ میں سیاحتی سفر کا آغاز مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی سے کیا،آس پاس کے علاقوں کو دیکھنے کا پروگرام بنایا، فاصلے ہمیں پریشان نہیں کرتے تھے

 امریکہ میں سیاحتی سفر کا آغاز مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی سے کیا،آس پاس کے علاقوں ...
 امریکہ میں سیاحتی سفر کا آغاز مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی سے کیا،آس پاس کے علاقوں کو دیکھنے کا پروگرام بنایا، فاصلے ہمیں پریشان نہیں کرتے تھے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:159
 چند یاد گار سفر
مشی گن سے کیلیفورنیا  (امریکہ)
 میں نے امریکہ میں اپنے سیاحتی سفر کا آغاز مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی سے اس وقت کیا جب ہم نے ایک کار خریدی تھی اور ڈرائیونگ لائسنس حاصل کئے تھے۔ ہم نے پہلے تو اپنے آس پاس کے علاقوں کو دیکھنے کا پروگرام بنایا۔2وجوہات کی بناء پر لمبے فاصلے بھی ہمیں پریشان نہیں کرتے تھے۔ پہلی تو یہ کہ ہم اس وقت جوانی کے اس دور میں سے گزر رہے تھے جہاں ہر طرح کا چیلنج قبول کرنا ایک اعزاز ہوتا ہے اور پھر ہم امریکہ میں سفر کرنے کے لیے بہت پرجوش بھی تھے۔ دوسرا یہ کہ گاڑی چلانے کے لیے ہم2 ڈرائیور تھے۔ جس کی وجہ سے ایک ساتھی پچھلی نشست پر جا کر آرام سے سو جاتا تو دوسرا اس کی جگہ ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لیتا۔ لیکن ایک بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ میرے ساتھی ڈرائیور اور دوست شفقت کو صحیح راستے پر چلانے کے لیے ایک اور بندے کی ضرورت بھی پڑتی تھی۔
 امریکہ میں ہمارا پہلا بڑا سفر بڑا طویل مگر بے حد دلچسپ اور مہم جوئی کے احساس سے بھرپور تھا جو ہم کیلیفورنیا جا رہے تھے جس کے لیے ہمیں ماؤنٹ رشمور، اور ییلو اسٹون نیشنل پارک سے گزرتے ہوئے رینو کے راستے سان فرانسسکو میں داخل ہونا تھا اور وہاں سے ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے لاس اینجلس ٹھہرنا تھا، اور وہاں سے لاس ویگاس کی طرف جانے کا ارادہ تھا اور گرانڈ کینئن کو دیکھتے ہوئے واپس ایسٹ لانسنگ پہنچ کر سفر کا اختتام کرنا تھا۔ یہ کوئی 8000 کلو میٹر کا سفر بنتا تھا جس کو مکمل کرنے کے لیے ہمیں 3ہفتے درکار تھے۔ اس سفر میں میرے اور شفقت کے علاوہ ایک بہت ہی نفیس ہندوستانی مسلمان دوست زین الدین بھی شامل تھا۔ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ میں اور شفقت باری باری گاڑی چلاتے رہیں تو زین کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ ڈرائیور کو سونے نہ دے، اسے باتوں میں لگائے رکھے اور وقتاً فوقتاً اسے مشروبات دے اور کھانے کی ہلکی پھلکی چیزیں پیش کرتا رہے۔ غرض یہ کہ ہم نے طنابیں کسیں زادہ راہ لیا اور اس سفر پر نکل پڑے۔
یہ ستمبر 1965 کا پہلا ہفتہ تھا جب پاکستان کی فوجوں نے مقبوضہ کشمیر پر حملہ کیا اور پھر ہندوستان جوابی حملے کے لیے پاکستان پر چڑھ دوڑا۔ ہم نے ایسے میں اپنی رات ایک چھوٹے سے قصبے میں گزاری جہاں ایک مقامی اخبار میں ایک ہیڈ لائن چھپی تھی جو کچھ اس طرح تھی ”دشمن کے گوشت میں گہرائی کے ساتھ گھس جاؤ“پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ کا کنٹرول لائن پر فوجیوں سے خطاب۔ پاکستان آرمی کی پیش قدمی بہت ہوشیاری سے جاری تھی۔ لیکن تب ہی جیسے کوئی بم پھٹا ہو، میں نے ریڈیو لگایا تو وہاں بی بی سی کے حوالے سے ایک خبر چل رہی تھی کہ ہندوستانی فوجوں نے لاہور پر حملہ کرکے قبضہ کر لیا ہے۔ ہم لوگ یہ سن کر سکتے میں آگئے اور شدید صدمے کی حالت میں چلے گئے۔ مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ آیا میں نے ایکسیلیٹر پر پیر رکھا ہوا ہے یا بریک کا پیڈل دبا رہا ہوں۔ کار میں مکمل سکوت تھا اور ہر آدھے گھنٹے بعد ریڈیو پر یہی خبر دوہرائی جا رہی تھی۔ 4 گھنٹے بعد یہ خبر کچھ یوں بدل گئی ”پاکستان نے لاہور پر قبضے کی خبر کو ہندوستان کی طرف سے ایک گمراہ کن اور مضحکہ خیز پروپیگنڈا قرار دے دیا“۔ ہم لوگ یہ سن کر اتنے خوش ہوئے کہ گاڑی سے چھلانگ مار کر باہر کودے اور مجھے پتہ ہی نہ لگا کہ میں کس طرح گاڑی کی چھت پر چڑھ گیا۔ یہ حرکت کیسے سرزد ہوئی؟ مجھے ابھی تک علم نہیں ہو سکا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -