جب تک ہم نوعمری کی حدود سے باہر نہیں نکل جاتے زیادہ تر دوسرے افراد والدین، اساتذہ کے زیر اثررہتے ہیں، ہم اپنی قسمت کے قیدی ہوتے ہیں 

جب تک ہم نوعمری کی حدود سے باہر نہیں نکل جاتے زیادہ تر دوسرے افراد والدین، ...
جب تک ہم نوعمری کی حدود سے باہر نہیں نکل جاتے زیادہ تر دوسرے افراد والدین، اساتذہ کے زیر اثررہتے ہیں، ہم اپنی قسمت کے قیدی ہوتے ہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:146
بیکی کے چہرے پر حیرانی کے آثار نمودار ہوئے اور اس نے جواب دیا ”میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میرے مسئلے کا تعلق میرے بچپن سے ہوسکتا ہے لیکن ناممکن بھی نہیں ہے۔ ایک بچے اور پھر ایک نوجوان کی حیثیت سے کچھ تلخ یادیں ابھی تک میرے ذہن میں موجود ہیں۔“
میں نے وضاحت چاہی ”ان میں سے کچھ کے متعلق مجھے بتاؤ“
اس نے جواب دیا ”7 برس کی عمر میں میری ایک خواہش کو نہایت سختی اور شدت سے ٹھکرا دیا گیا۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ 2 ہفتوں پر مشتمل سیر و تفریح کے ایک دورے پر جانا چاہتی تھی لیکن میرے والدین نے میرے جذبات و احساسات کا خیال کیے بغیر میری خواہش رد کر دی۔ انہوں نے میری خواہش مسترد کر نے کی وجہ بھی نہیں بتائی۔ پھر ایک دفعہ یہ ہوا کہ میں بانسری بجانا سیکھنا چاہتی تھی لیکن میری خواہش بھی بغیر کسی وجہ کے مسترد کر دی گئی۔ اور پھر 16 سال کی عمر میں، میں نے اپنی کلاس کے ایک لڑکے کے ساتھ سلسلہئ رومان شروع کرنا چاہا لیکن پھر بھی میرے والدین نے میری خواہش کو در خور اعتنا نہ سمجھا۔ جب بھی مجھے کسی چیز کی واقعی ضرورت ہوتی، مجھے انکار میں ہی جواب ملتا۔ اور اب میرے دل میں والدین کے لیے بہت حد تک نفرت پیدا ہوچکی ہے۔“
میں نے کہا ”صبر کرو اور ایسی بات نہ کہو، اپنے والدین کے ساتھ ناراض نہ ہو، ممکن ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ تمہاری بہتری کے لیے کہا ہو۔“
میں نے اسے سمجھانا شروع کیا اور کہا کہ میرے مطابق اس آزاد معاشرے میں لوگ دو قسم کی سرگرمیوں اپناتے ہیں، ایک تو یہ کہ وہ بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال کرتے ہیں اور دوسرے وہ انتخابات کے موقع اپنے ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں اور اپنی ان سرگرمیوں کے ضمن میں لوگ دوسروں کی ہدایات پر کم ہی کان دھرتے ہیں۔
میں نے بیکی سے کہا ”مجھے معلوم ایسے ہوتا ہے کہ تمہارے والدین نے ہر ممکن طور پر وہی کچھ کیا، جو تمہارے لیے بہتر تھا، برائے مہربانی اس نکتے کو سمجھنے کی کوشش کرو۔“
بیکی مسکراتے ہوئے کہنے لگی”ممکن ہے کہ تم صحیح کہتے ہو، لیکن اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ اس وقت میری عمر 30 سال ہے اور میری خواہشات بھی کافی ہیں، لیکن ابھی تک میں اس ہولناک خوف میں مبتلا ہوں کہ کہیں میری خواہشات مسترد نہ ہو جائیں۔“
میں نے اسے اپنے تجربے اور مشاہدے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ”جب تک ہم بچپن اور نوعمری کی حدود سے باہر نہیں نکل جاتے، ہم زیادہ تر دوسرے افراد مثلاً والدین، اساتذہ وغیرہ کے زیر اثررہتے ہیں، ہم اپنی قسمت کے قیدی ہوتے ہیں، ہم اپنی قسمت خود نہیں بنا سکتے او رنہ ہی اپنی قسمت کا رخ اپنی مرضی کے مطابق موڑ سکتے ہیں۔“
پھر میں نے بیکی کے سامنے 4 تجاویز رکھیں ”پہلے تو یہ بچپن میں پیدا شدہ روئیے سے قطع نظر اب تم ایک بالغ فرد کی حیثیت سے اپنے روئیے میں تبدیلی لاؤ۔ یہ تو صحیح ہے کہ اکثر افراد کے روئیے، ان کے بچپن میں موجود حالات وواقعات کا عکس ہوتے ہیں لیکن بچپن اور نوعمری کی حدود سے باہر نکلنے کے بعد افراد، اگر واقعی چاہیں تو وہ اپنے روئیے اور رحجان میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔“
میں نے زور دیتے ہوئے کہا ”یہ طریقہ نہایت کارگر اور مفید ہے۔ اپنی خواہش کے مسترد ہونے کا خوف اپنے دل سے نکال دو۔ جیسا کہ تم نے اپنی نوجوانی کے عالم میں یہ پڑھا اور سنا کہ جب آپ کس سے کچھ مانگتے ہیں اپنی کوئی خواہش ظاہر کرتے ہیں یا کوئی سوال کرتے ہیں تو بدترین واقعہ جو آپ کے ساتھ پیش آسکتا ہے وہ ”انکار“ اور‘’نہیں“ ہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -