بلوچستان کے متعلق چشم کشا انکشافات

بلوچستان کے متعلق چشم کشا انکشافات
بلوچستان کے متعلق چشم کشا انکشافات

  


جہاں پاکستان کو گزشتہ دس سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عفریت کا سامنا ہے، وہاں اندرونی طور پر بھی پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ کوئٹہ اور کراچی جیسے شہروں میں، جو کبھی امن کا گہوارہ تھے، ٹارگٹ کلنگ اور لوٹ مار تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ ہر روز امنِ عامہ برباد کیا جا رہا ہے۔ کراچی میں اچانک خون و غارت گری کا کھیل شروع کر دیا جاتا ہے، پھر حالات کچھ دن کے لئے نارمل بھی ہو جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کراچی ایسے شہر کی کنجی بعض ایسے عناصر کے ہاتھ میں ہے جو جب چاہیں وہاں امن قائم کر دیں اور جب چاہیں وہاں طبلِ جنگ بجا دیں۔ اسی طرح کوئٹہ میں بھی گزشتہ کچھ عرصے سے جس طرح ٹارگٹ کلنگ ایسے ناسور کو ہوا ملی ہے، اس سے پورے صوبے کا امن برباد ہو کر رہ گیا ہے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کراچی، کوئٹہ ، پشاور یا ملک کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی یا تخریب کاری کا واقعہ ہو اور اُس کا اثر پورے ملک پر نہ پڑے۔ ایسے میں بعض نام نہاد تجزیہ کار اس صورت حال میں قوم کو امید و آس سے بیگانہ کرنے کے لئے بھی سرگرم ہیں، لیکن دوسری جانب دیکھا جائے تو افواج پاکستان کے جوان اور افسر دفاعِ وطن کی خاطر مسلسل قربانیاں پیش کر رہے ہیں اور بگڑے ہوئے حالات میں امید کی کرن بنے ہوئے ہیں۔ کراچی میں رینجرز اور پولیس کے جوان امن عامہ کی بحالی کے لئے اپنی جانوں کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ پختونخوا میں تو پولیس فورس کے آئی جی سطح کے آفیسرز تک اپنی جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں۔ اسی طرح کوئٹہ میں بھی ایف سی اور پولیس فورس کے جوان اپنی جان پر کھیل کر وہاں امن بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اُن کے لئے اس طرح سے آواز نہیں اُٹھائی جاتی، جس طرح سے بعض واقعات کو میڈیا میں اُجاگر کیا جاتا ہے۔اس تناظر میں وزیراعظم پاکستان جناب یوسف رضا گیلانی کا یہ بیان کہ بیرونی طاقتیں بلوچستان کے وسائل پر نظریں جمائے بیٹھی ہیں، بہت معنی خیز ہے۔ ظاہر ہے جو بیرونی طاقتیں بلوچستان کے اندر اپنے مقاصد کا حصول چاہتی ہیں، وہ نا جائز حربے استعمال کرنے سے گریز کیوں کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز ایف سی بلوچستان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے بیرونی طاقتیں جانتی ہیں کہ ایف سی جیسی منظم فورس کی موجودگی میں بلوچستان کے اندر وہ اس طرح سے کھل کر نہیں کھیل سکتیں، جس طرح سے وہ کھیلنا چاہتی ہیں۔ بلاشبہ امن عامہ قائم کرنا صوبائی سول حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے، اگر پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہو اور صوبائی حکومتیں خود کسی فورس کو امن عامہ کی ذمہ داری سونپیں تو پھر فورسز کو امن کی بحالی کے لئے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردارادا کرنا ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں روایت مختلف ہے کہ جو ادارہ اپنا کردار بخوبی ادا کر رہا ہو، اُسے اتنا ہی ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے۔ بسا اوقات تو تنقید زچ کرنے کی حد تک بڑھ جاتی ہے۔ ان اداروں پر بے جا تنقید کی کڑیاں وزیراعظم کے حالیہ بیان کے ساتھ ملائی جائیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کس طرح بیرونی عناصر کی سرپرستی میں بعض مقامی عناصر ایک منظم کاوش کے طور پر سیکیورٹی اور امن عامہ سے متعلق اداروں پر الزامات لگا کر انہیں عوام کی نظروں میں بدنام کر رہے ہیں۔ظاہر ہے ان اداروں کو بدنام کر کے ہی وہ اس قابل ہوں گے کہ مقامی لوگوں کو اس امر پر اُبھار سکیں کہ سیاسی حکومتیں اور سیکیورٹی ادارے خدانخواستہ اپنے اپنے کردار کی ادائیگی میں ناکام ہو چکے ہیں، لہٰذا ان کے ایجنڈے پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔ شرم الشیخ میں وزیراعظم پاکستان نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ بھارت کے علاوہ درجنوں ممالک ہیں جو بلوچستان میں خلفشار کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں پاک فوج کی چھاو¿نیاں قائم کرنے کے خلاف ہوا کھڑا کیا گیا، حتیٰ کہ چمالانگ اور کاسہ ماربلز جیسے ترقیاتی منصوبوں پر بھی شدت پسندوں کے ذریعے حملے کروائے جاتے ہیں، حالانکہ ان منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدن سے مقامی لوگوں کو ملازمتیں، علاقائی ترقی اور مقامی آبادی کے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خرچ کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے پڑھے، لکھے اور باشعور افراد کو ورغلانا مشکل ہوتا ہے۔ عوام جتنے اَن پڑھ اور بے شعور ہوں گے، بیرونی عناصر اپنے قبیح عزائم کے لئے انہیں اتنی ہی آسانی سے استعمال کر سکیں گےآئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل عبید اللہ بیگ نے بھی کہا ہے کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت ہو رہی ہے اور وہاؒں121 فراری کیمپ کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان، ملک بھر کے عوام کے ترجمان ہیں، اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ بیرونی قوتیں بلوچستان کے وسائل پر نظریں جمائے بیٹھی ہیں اور اگر آئی جی ایف سی جو ذاتی طور پر بلوچستان میں ملک دشمنوں کی سازشوں سے نمٹتے ہوئے صوبے کاامن بحال کرنے میں اپنا کردار کر رہے ہیں، خود کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان میں20 سے زیادہ ممالک کی ایجنسیاں سرگرم عمل ہیں۔ تو یہ ایک لمحہءفکریہ ہے۔ قوم کو بھی اپنی آنکھیں کھولنا ہوں گی اور حکومتی اداروں کو ہدفِ تنقید بنانے کی روش ترک کرتے ہوئے ان اداروں کے ہاتھ مضبوط کر کے بین الاقوامی اور مقامی عناصر اور ان کی سازشوں کا قلع قمع کرنا ہوگا۔

مزید : کالم


loading...