راشن ڈپو: بجٹ منظوری سے پہلے عوام کو مزید ریلیف دینا ہوگا

راشن ڈپو: بجٹ منظوری سے پہلے عوام کو مزید ریلیف دینا ہوگا
 راشن ڈپو: بجٹ منظوری سے پہلے عوام کو مزید ریلیف دینا ہوگا

  


طریق کار خواہ کیسا ہی اپنایا جائے، پیپلز پارٹی کا تازہ، یعنی پانچواں بجٹ عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ میں70 ارب روپے کی فراہمی یا ایک لاکھ بے روزگار نوجوانوں کے لئے ایسی ٹریننگ، جس سے انہیں نوکری مل سکے، ایسے پروگرام ہیں، جن میں عام غریبوں کی کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی ان میں شفافیت ہے۔ کل کلاں جب الیکشن مہم کا باقاعدہ آغاز ہوگا تو یہی منصوبے پیپلز پارٹی کے گلے کی رسی بن جائیں گے۔ ورلڈ بینک کے شروع کرائے گئے یہ منصوبے صرف ایسے غریب ممالک میں کامیاب ہوئے ہیں، جہاں اول تو آبادی کروڑوں میں نہیں، بلکہ لاکھوں میں ہے اور یا پھر ایسے ممالک ہیں، جہاں شرح خواندگی 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں تو ورلڈ بینک والے ابھی تک غریب خاندانوں کی مردم شماری کرانے میں بھی ناکام ہوئے ہیں۔ جب جب اس ضمن میں کوششیں ہوئیں یا فرموں کو کام دیا گیا ، تب تب دہشت گردی اور کراچی و بلوچستان میں بدامنی کی بدولت ہر قسم کے شروع ہونے والے کاموں کو رکوا دیا گیا۔ ان منصوبوں پر کام رکوانے کی وجہ سے اربوں روپے کی ایسی ایڈوانس ادائیگیاں ڈوب گئیں، جو باقاعدہ معاہدوں کے تحت کی گئی تھیں اور جن میں ڈیفالٹر ورلڈ بینک اور ان کے گماشتے ہی ٹھہرائے گئے۔ ظاہر ہے کہ الیکشن مہم میں تو یہ کچے چٹھے کھلیں گے۔ دوسری وجوہات کے ساتھ ساتھ پی پی پی کو الیکشن میں ووٹروں سے بدظن کرنے میں ان کا بھی بڑا ہاتھ ہوگا۔ ابھی بجٹ پر بحث مباحثہ ہونا باقی ہے۔ اگر پی پی پی حکومت آج بھی اپوزیشن کے مطالبات اور صنعت کاروں، تاجروں کے جائز مطالبات کو دیکھے بھالے اور سرکاری ملازمین اور پنشنروں سمیت تمام امور کو دیکھے تو وزیر خزانہ خود مانیں گے کہ گزشتہ ایک برس میں ہی گھریلو اشیائے صرف آٹا، دال، گوشت، سبزی، تیل اور گیس، بجلی، پٹرول کے نرخوں میں جتنا اضافہ ہوا ہے، اُنہیں اس بجٹ میں اس اعتبار سے ریلیف نہیں دیا گیا۔

 جہاں تک نجی شعبوں میں کام کرنے والے غریب مزدوروں کا تعلق ہے، اُن کے لئے تو سرے سے ایڈہاک ریلیف مہیا کرنے کی بات ہی نہیں کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ آپ نے بجٹ میں یوٹیلٹی سٹورز بڑھانے کی تو بات کر دی ، لیکن شاید آپ نہیں جانتے کہ دالوں، چینی، آٹا، چاول، مٹی کا تیل، صابن اور مرچ مصالحوں سمیت وہاں کی دوسری اشیاءعوام نہیں لیتے، جبکہ بیشتر سٹور یہ شرط لگاتے ہیں کہ جب تک فلاح فلاں اشیاءنہیں لی جائیں گی، وہ سستے داموں آٹا، دال یا چاول چینی نہیں دیں گے۔ اس صورت حال سے کہیں بہتر ہوتا کہ آپ50 لاکھ راشن ڈپو کھولنے کا اعلان کرتے، یہی سٹورز آپ کے خاندان کا شناختی کارڈ دیکھ کر راشن کارڈ بنا دیتے اور آپ کو ایل پی جی گیس مع سلنڈر، آٹا ، چاول، دالیں، مٹی کا تیل، چینی، کپڑے دھونے کا صابن بازار کی قیمتوں سے کم از کم25 فیصد کم قیمتوں پر مہیا کرا دی جائیں۔ حکومت کے پاس یوٹیلٹی سٹورز کا ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے۔ اس میں فی یونین کونسل دس دس راشن ڈپو نئے کھول لئے جائیں تو 3 لاکھ یونین کونسلوں میں 30 لاکھ ڈپو کھل جائیں گے، جبکہ باقی یوٹیلٹی سٹورز کو بھی راشن ڈپوو¿ں میں بدل دیا جائے۔ اس سے جہاں ایک کروڑ افراد کو نیا روزگار مل سکے گا، وہاں یوٹیلٹی سٹورز پر ہونے والا نقصان براہ راست سبسڈی میں بدل جاتا، جس سے وہاں پر گھریلو اشیاءکی تعداد کم کر دی جاتی اور راشن کارڈ والوں کو ہر ماہ خریداری میں ایک ہزار روپے سے 15 سو روپوں کی بچت ہو جاتی۔

دوسرے الفاظ میں حکومت براہ راست اپنے نادار اور غریب ووٹروں کی مدد کو پہنچ رہی ہوتی اور ہر غریب گھرانہ حکومتی امداد سے مستفید ہو رہا ہوتا۔ ایسا اب بھی ممکن ہے۔ آپ اس پر اپنے ”تھنک ٹینک“ بٹھائیں اور اُن سے نئی منصوبہ بندی کرائیں، تاکہ ووٹروں میں بھی آپ کا تھوڑا بہت بھرم قائم رہے۔ دوسرے یوٹیلٹی سٹورز کا اربوں روپے کا خسارہ اب غریبوں کی امداد کے براہ راست کام میں آسکے۔ اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ تھانیدار یا کوئی دوسرا ریاستی سیکیورٹی ادارہ ووٹروں کو بھیڑ، بکریوں کی طرح گاڑیوں میں ٹھونس کر پولنگ سٹیشنوں پر لے جائے گا اور وہاں پر ووٹوں کی پرچیوں کی کاپیاں پھاڑ پھاڑ کر ٹھپے لگوائے جائیں گے تو پھر ایسا سوچنے والے آج کے اس طاقت ور میڈیا کے دور میں شاید احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ خدارا آپ ایسی غلطی کا سوچیں بھی نہیں کہ جو 1977ء(مارچ) کے الیکشن میں زید اے بھٹو کو لے ڈوبی تھی اور جس میں پورے الیکشن کو ہی کالعدم قرار دے دیا گیا تھا اور جس کا فائدہ جنرل ضیاءالحق نے ”ضرورت وقت“ (نظریہءضرورت) کے تحت اُٹھا لیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ عوام کی یادداشت بہت کمزور ہوتی ہے، لہٰذا وہ ماضی قریب اور حال ہی کو دیکھتے ہیں، انہیں آپ اپنے پانچ برس کے کارناموں کو بھلے روزانہ ہی بار بار ٹی وی سکرینوں پر دکھائیں یا بتائیں۔ اخبارات کے سارے کے سارے صفحات بھی آپ کیوں نہ خرید لیں۔ جب تک ووٹروں کے دلوں تک پہنچیں گے، اس وقت تک کوئی معجزہ نہیں ہونے لگا۔ آپ کا 1967ءکا جیالا اب یا تو اللہ کو پیارا ہو چکا ہے یا بڑھاپے کی آخری سطح پر ہے۔ کمائی کرنے والے جیالوں کو پارٹی کی تنظیم نو وغیرہ جیسے معاملات سے کوئی غرض نہیں، جو لیڈر ارب، بلکہ کھرب پتی بن چکے ہیں، وہ بھی کم کم ہی پارٹی کو چندہ دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔

حالت تو یہ ہے، کامیابی کے چار برس پورے کرنے والی آج کی انقلابی پارٹی کا اپنا ترجمان روزنامہ، اس قدر شرمندہ شرمندہ سا شائع ہوتا ہے کہ اس کی پرنٹنگ کے معمولی بلوں کی ادائیگی بھی کھٹائی میں پڑی رہتی ہے۔ پارٹی سے تو اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ یہ اپنے فنڈز سے ہی ملک کی تین لاکھ یونین کونسلوں کے علاقوں میں رہنے والے اپنے دس فیصد ورکروں کے گھروں میں اپنا یہ پارٹی ترجمان اخبار ہی مفت پہنچا دے۔ مجھے آج بھی 1969ءکی وہ پریس کانفرنس یاد ہے جس میں روزنامہ کوہستان راولپنڈی کا دفتر اور پریس جلا دینے کے واقعہ پر میڈیا نے سوال کیا کہ ملک کا جو صدر (ایوب خان) اپنے اخبار کو جلائے جانے سے نہیں بچا سکا، وہ ملک کی حفاظت کیا کرے گا تو ایوب خان نے اسی وقت صدارت کے عہدے سے استعفے کا اعلان کر دیا تھا۔

مزید : کالم


loading...