بجٹ 2012-13ء........جائزہ

بجٹ 2012-13ء........جائزہ
بجٹ 2012-13ء........جائزہ

  

بجٹ محض حکومتی اخراجات اور آمدنی کا مزانیہ ہی نہیں ہوتا، بلکہ برسر اقتدار پارٹی کی اقتصادی کارکردگی کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے۔ اگر بجٹ عوامی امنگوں کے مطابق ہو تو لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ بصورت دیگر حکومت کو عوامی غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان ایک سخت جان ریاست ہے ،جسے پچھلے تین عشروں سے کثیر الجہتی مسائل نے گھیرا ہوا ہے ۔یہ موجودہ عوامی حکومت کا پانچواں اور جناب حفیظ شیخ صاحب کا پیش کردہ تیسرا بجٹ ہے، اس سے قبل جناب شوکت ترین اور نوید قمر وزیر خزانہ کے طور پر قوم کے لئے بجٹ بنا چکے ہیں۔ گزشتہ چار برسوں میں کس قدر خوشحالی یا بدحالی آئی ہے؟ اس موضوع پر الگ سے بحث کی جا سکتی ہے۔ سردست موضوع سخن بجٹ 2012-13ءہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو یہ ایک روٹین کا معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کسی حکومت کا پانچویں بار پارلیمان کے سامنے بجٹ پیش کرنا اچنبھے کی بات لگتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخی اعتبار سے ہمارے ہاں جمہوری یا نیم جمہوری حکومتوں کا بننا اور ٹوٹنا اتنے تواتر سے رہا ہے کہ مارشل لاءکے سوا کسی بھی حکومت کو یہ موقع نصیب نہیں ہوا۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو موجودہ حکومت خوش قسمت ہے کہ اندرون و بیرون ملک تمام مصائب و آلام کے باوجود وہ پارلیمان کی بالادستی قائم رکھنے میں کامیاب رہی۔

بلاشبہ پرویز مشرف ایک صحت مند معیشت چھوڑ کر رخصت نہیںہوئے۔ حکومت نے باگ ڈور سنبھالتے ہی حاتم طائی بننے کی کوشش کی۔ نواز شریف دور کے برطرف ملازمین کو نہ صرف بحال کیا گیا، بلکہ انہیں بقایا جات بھی ادا کئے گئے۔ لوگوں کو روزگار مہیا کرنا ہر حکومت کا فرض ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے مالی وسائل کا بندوبست کیا جائے۔ جیالوں کی ہمدردیاں تو حاصل کرلی گئیں، مگر اس کا بوجھ سرکاری خزانے پر پڑا۔ مالی انتظام کا باوقار اصول تو یہ تھا کہ توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے کے لئے کوئی حکمت عملی وضع کی جاتی، جس سے گھن چکر قرضہ جات سے نجات ملتی۔ ایسا نہیں کیا گیا، جناب شوکت ترین کی تجاویز سے اختلافات بالآخر انہیں خیر باد کہنے پر منتج ہوئے، اس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ لوگ گلیوں اور بازاروں میں پُرتشدد مظاہرے کر رہے ہیں۔ سرکاری اور نجی عمارتوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے،مسلم لیگ( ن)جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے۔ وقتی طور پر حکومت کے پاس اس کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں اقتدار صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے۔ صحت، تعلیم، لیبر، سماجی بہبود اور دیگر وزارتیں صوبوں کو سونپ دی گئی ہیں۔ اب بجلی کی پیداوار میں بھی صوبے خود مختار ہیں۔ اسی طرح صوبے اپنی باجگزار میں ٹیکس لگا کر اپنے مالی وسائل میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس سارے عمل کے نتیجے میں اصولی طور پر مرکزی کابینہ کی تعداد کم ہونی چاہئے تھی۔ حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے چند ڈویژنوں کو وزارت کا درجہ دے کر کابینہ کی فوج ظفر موج میں اضافہ کر دیا ہے.... آخر اتحادیوں کو بھی تو خوش رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ایسے اتحادی بھی ہیں، جن کے پاس ایک ٹانگے کی سواریوں جتنے بھی ممبر نہیں، تین تین وزارتوںکے مزے لے رہے ہیں۔ اس کنبہ پروری سے خزانے پر ناجائز بوجھ بڑھ چکا ہے۔ مزید برآں کرپشن اور نااہلی کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ یہ حکومت پانچ سال کی آئینی مدت پوری کر لے گی، اس کے ساتھ ہی عوام کے کندھوں پر قرضوں کا جو بوجھ پڑ چکا ہے، اسے اتارنے میں سالہا سال درکار ہوں گے۔

2008ءمیں زرمبادلہ کی بگڑتی ہوئی حالت کو سہارا دینے کے لئے عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے کشکول پھیلانا پڑا۔ مالیاتی نظم و ضبط معتدل حکومتی اخراجات اور ٹیکس اصلاحات جیسی شرائط پر ڈالروں تک رسائی تو ہو گئی، مگر تیسرے سال یہ سلسلہ بھی اپنے انجام کو پہنچا۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ بیرون ملک محب وطن محنت کش اپنی خون پسینے کی کمائی سے رواں مالی سال میں 13 ارب ڈالر بھیج چکے ہیں۔ کاش ہماری نام نہاد اشرافیہ کو بھی شرم آتی اور وہ بیرون ملک بینکوں میں پڑی ہوئی بے کار رقوم وطن میں لے آتے۔ اس دولت سے اندرون ملک سرمایہ کاری کے مواقع میسر آتے اور ہماری تعلیم یافتہ نوجوان نسل کو روزگار کی سہولتیں بھی میسر آتیں۔ اس پر کیا تبصرہ کیجئے کہ ہمارے ممبر پارلیمان بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے متبادل شہریت کا انتظام کیا ہوا ہے، انہیں جب بھی موقع ملے گا، وہ وطن عزیز کو خیر باد کہیںگے اور یہاں سے لوٹی ہوئی دولت سے بیرون ملک عیش و عشرت کی زندگیاں گزاریں گے۔

کہنے کو تو ہم دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کے معاون حصہ دار ہیں، لیکن عملاً ہماری حیثیت ایک بیگار پر کام کرنے والے ”کامے “سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ دوستی کا نہیں آقا اور غلام کا تعلق بن چکا ہے۔ کولیشن سپورٹ فنڈ (Coalition support fund) کی طے شدہ رقم میں سے 33ارب ڈالر اس لئے کاٹ لئے گئے ہیں کہ ہم نے نیٹو سپلائی لائن معطل کر دی ہے۔ یکے بعد دیگرے ایسے واقعات رونما ہوئے، جن کی بنیاد پر امریکہ سے ہمارے تعلقات کشیدہ ہوتے گئے۔ ان واقعات میں ریمنڈ ڈیوس کا لاہور میں دو جوانوں کو شوٹ کرنا، ایبٹ آباد میں نیٹو فوج کا اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنا، سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے میں ہمارے 24 جوانوں کی شہادت اور جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملوں سے بے گناہ افراد کا قتل عام اہم ہیں۔

رواں مالی سال اختتام پذیر ہونے کو ہے، اس دوران اقتصادی میدان میں جن مشکلات کا سامنا رہا ہے، ان میں سندھ اور بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ مہنگائی کی اصل وجہ حکومت کا بینکوں سے قرضہ لینا ہے۔ سٹیٹ بینک نہ صرف نوٹ چھاپ رہا ہے، بلکہ بینکوں کو کیش کی کمی کو پورا کرنے کے لئے براہ راست 250 ارب روپے دے چکی ہے، اس کے نتیجے میں پرائیویٹ سیکٹر لائن میں کھڑا ہے اور حکومت گلشن کا کاروبار چلا رہی ہے۔ امریکہ نے بھی قرضوں کی حد سے تجاوز کیا اور اس کا منفی اثر یورو زون پر پڑا۔ بدقسمتی سے ہماری حکومت کے اس فعل سے دو عددی مہنگائی میں اتنا اضافہ ہوا کہ عام آدمی چلا اٹھا۔ توانائی کے بحران اور مالیاتی بدنظمی کی وجہ سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا۔ اس وقت اندرونی قرضوں کا حجم 7.4 کھرب روپے ہے جو 2009ءمیں 2.8 کھرب روپے تھا۔ ان قرضوں میں اگر اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو 2015ءتک یہ رقم 20کھرب ہو جائے گی۔

 یہ بات بھی تشویش ناک ہے کہ مشترکہ پول سے صوبوں کو ادائیگی کے بعد جو ریونیو بچتا ہے، اس کا 75 فی صد ان قرضوں پر سود ادا کرنے میں خرچ ہو جاتا ہے.... اب گنجی دھوئے گی کیا اور نچوڑے گی کیا۔.... بجٹ کا یہ المناک پہلو ماہرین کے لئے فکر کا باعث ہے، کیونکہ یہ اخراجات اور محصولات میں عدم توازن کا باعث بنتا ہے۔ حکومت کے یہ لچھن کب تک چلیں گے؟ مہنگائی کا گدھ سر پر منڈلا رہا ہے۔ ڈالر 95 روپے کا ہو چکا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو اگست 2008ءکا وقت لوٹ آئے، جب مہنگائی کی شرح 25 فی صد تک پہنچ گئی تھی۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ لوگ غم و غصے میں آپے سے باہر ہو رہے ہیں۔ حزب مخالف کے پاس نہ کوئی ٹھوس پروگرام ہے، نہ حکمت عملی۔ لوگ آزمائے ہوو¿ں کو کیا آزمائیں گے۔ پچھلے کئی برسوں سے دو سیاسی جماعتیں باری باری اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ رہی ہیں۔ بے منزل مسافت طے ہو رہی ہے۔ شاید آئندہ انتخابات میں ترکی کی طرح ہمارے ہاں بھی تیسرے فریق کو موقع مل جائے۔

اوپر بیان کئے گئے پس منظر میں بجٹ کا تجزیہ کیا جائے تو صحیح صورت واضح ہو گی۔ ہماری برآمدات جن ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ہوتی ہیں، وہ خود کساد بازاری کا شکار ہیں۔ امریکہ جیسا امیر ملک نیٹو سپلائی پر ڈیوٹی دیتے ہوئے بخیلی سے کام لے رہا ہے۔ یورپ کی حالت بھی اچھی نہیں ہے۔ بجٹ تقریر اور بجٹ دستاویز میں اعداد و شمار کا تضاد سمجھ میں نہیں آیا۔ مثال کے طور پر فنانس بل میں (Total outlay) کل اخراجات 3203 ارب روپے بتائے گئے ہیں، جبکہ وزیر خزانہ صاحب نے یہ رقم 2960ارب روپے بتائی ہے۔ اسی طرح اور اعداد میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ بجٹ میں اخراجات کو کم اور محصولات میں مبالغہ بیانی کی روایت کو جاری رکھا گیا.... چونکہ یہ انتخابات کا سال ہے۔ گورنمنٹ ملازمین بشمول پاک فوج کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے، اس سے ووٹروں کی تعداد میں ضرور اضافہ ہوگا، لیکن ساتھ ہی مہنگائی کا طوفان اس عنایت کو بہا لے جائے گا۔دو صوبوں نے تنخواہیں بڑھا دی ہیں۔پرائیویٹ سیکٹر کو بھی ملازمین کی تنخواہیں بڑھانی پڑیں گی، جس سے ان کے بجٹ متاثر ہوں گے۔ نجی شعبے میں روزگار کے مواقع کم ہو جائیں گے۔ ترقیاتی کاموں کے لئے 591 ارب روپے کی کثیر رقم رکھی گئی ہے، جس میں سے 360 ارب روپے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کو نظر انداز کیا گیا ہے، حالانکہ ہماری برآمدات میں یہ پہلے نمبر پر ہے، جس سے ہمیں خاطر خواہ زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔

عالمی منڈیوں میں کاٹن کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے، اس سیکٹر کے لئے جو فنڈ مہیا کئے گئے ہیں، ان کی وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا ان سے پچھلے واجبات ادا ہوں گے یا موجودہ گرتی ہوئی صورت حال کو سنبھالا جائے گا۔ فارمیسی (دوا ساز ادارے) سیکٹر میں رواں مالی سال کے دوران بہتری آئی ہے۔ 95اجزا پر ٹیرف میں 5فی صد کمی اس شعبے کی کارکردگی پر مثبت اثر ڈالے گی۔جہاں تک سبسڈی کا تعلق ہے، اس کے لئے 209 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن میں سے 135 ارب روپے صرف پاور سیکٹر کی مد میں رکھے گئے ہیں۔ یہ رقم سرکولر ڈیٹ کا پچاس فی صد بنتی ہے۔ جناب وزیر خزانہ نے تقریر کے دوران فرمایا ہے کہ کابینہ کی طرف سے انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ پاور سیکٹر کے لئے جتنے فنڈز کی ضرروت ہو ،وہ مہیا کئے جائیں۔ اس بات سے ایک اہم سوال ذہن میں آتا ہے کہ آیا وزیر موصوف یہ فنڈز بجٹ کے علاوہ کہیں سے لائیں گے؟ گیس اور بجلی کی قلت جاری رہے گی۔ یوریا کھاد پر سبسڈی حکومت کی مجبوری ہے۔ حکومت کا یہ دعویٰ کہ نئے ٹیکس نہیں لگائے گئے، کسی حد تک درست ہے۔ البتہ دو سال کے دوران جائیداد کی فروخت پر جوگین (Gain)حاصل ہوگا، اس پر 5,10 فی صد کی شرح سے کیپٹل گین ٹیکس لاگو ہوگا۔

بجٹ بناتے وقت آئندہ الیکشن کی ترجیحات کو مدنظر رکھا گیا ہے اور حزب مخالف کے سیاسی اثر اور دباو¿ کو کم کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ بجٹ تقریر کے دوران مسلم لیگ(ن)نے مہنگائی، کرپشن اور توانائی کے بحران پر بھرپور احتجاج کیا اور حسب روایت واک آو¿ٹ بھی کیا، لیکن بے سود۔

حکومت کچھ ایسے سیکٹرز کو جن کی استعداد بھی ہے، ٹیکس نہیں لگانا چاہتی، جن میں ہول سیل، ریٹیلرز اور رئیل سٹیٹ شامل ہیں۔ اسی طرح بینکوں نے موجودہ دور میں غیر معمولی منافع سمیٹا ہے۔ حکومت کو قرضوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے ایف بی آر بھرپور فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا ہے۔ ڈیٹا بینک میں ڈیٹا کا انبار لگا ہوا ہے، جسے استعمال کر کے منطقی انجام تک پہچانا تو دور کی بات ہے، متعلقہ فیلڈ فارمیشن تک رسائی کو بھی ممکن نہیں بنایا گیا۔ کسٹم اور ان لینڈ ریونیو کے لئے سیلز ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ عدالتی نظام میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آئی، جس سے ٹیکس ریکوری میں بہتری آ سکے گی۔ ٹیکس کے بڑے بڑے کیس سالہا سال سے عدالتوں میں التوا میں پڑے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیکس ریکوری رکی ہوئی ہے۔

بینکوں سے کیش نکلوانے پر 0.2 فی صد ٹیکس لگتا ہے، اس کی حد 25000 روپے سے بڑھا کر 50,000 روپے کر دی گئی ہے، اس سے کرنسی کی گردش کو کم کرنا مقصود تھا، لیکن ود ہولڈنگ ٹیکس سے پہلے اس کی شرح 20 فی صد تھی، جو اب بڑھ کر 34 فی صد ہو گئی ہے۔ قابل ٹیکس آمدنی کی حد چار لاکھ روپے تک بڑھا دی گئی ہے، اس سے مارجن انکم والے ٹیکس گزار ٹیکس نیٹ سے خارج ہو جائیں گے۔ یہ عمل ٹیکس اساس بڑھانے کے اصول کے خلاف ہے۔ آخر میں یہ بات پھر دہرا رہا ہوں کہ یہ الیکشن کے سال کا بجٹ ہے، جس میں نئے ٹیکس لگانا ممکن نہیں تھا۔ ممکن ہے ٹیکس ایمنسٹی سکیم بھی منظر عام پر آ جائے تاکہ لوگ اپنی ناجائز کمائی کو سفید دھن میں بدل سکیں۔ یہ بجٹ حرف آخر نہیں، اس کے بعد منی بجٹ بھی آئیں گے اور آنے والی حکومت اپنے حالات کے مطابق اقتصادی تبدیلیاں بھی کرے گی ،لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ پورا سچ ہو۔ ٭

مزید : کالم