رہائشی آبادیوں میں غیر قانونی فیکٹریاں

رہائشی آبادیوں میں غیر قانونی فیکٹریاں

صوبائی دارالحکومت میں رہائشی آبادیوں میں غیر قانونی طور پر قائم چھ ہزار سے زائد فیکٹریوں کو بند کرنے اور رہائشی علاقوں سے باہر منتقل کرنے کے احکامات کے باوجود مبینہ طور پر یہ فیکٹریاں رہائشیوں کے لئے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔اطلاعات ہیں کہ چند ماہ قبل سانحہ کھاڑک ملتان روڈ میں واقع ایک میڈیسن فیکٹری میں بوائلر پھٹنے کا جو جان لیوا حادثہ ہوا تھا اس پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ڈی سی او لاہور نے شہری علاقوں کا سروے کروا کے ایسی تمام ناجائز فیکٹریاں بند کرنے اور انہیں رہائشی ا ٓبادیوں سے باہر منتقل کرنے کے احکامات جاری کئے تھے مگر شہری حکومت کے کار پروازوں کی ملی بھگت سے 6ہزار فیکٹریوں کی بجائے صرف تیرہ سو کی نشاندہی کی گئی اور باقی فیکٹریوں کو مبینہ طور پر محکمہ ماحولیات کے افسران کی مہربانی سے این او سی جاری کر دیئے گئے ہیں۔ یہ صورتحال شہریوں کے لئے مسلسل خطرہ کا باعث ہے حکومت کو عدالتوں سے جاری این او سی خارج کروانے کے ساتھ ساتھ خطرناک نوعیت کا کام کرنے والی فیکٹریوں کو فوری طور پر رہائشی آبادیوں سے باہر منتقل کروانے کے لئے عملی اقدامات کرنا چاہئیں تاکہ سانحہ کھاڑک جیسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔

مزید : اداریہ