پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بجٹ

پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بجٹ

مالی سال2012-13ءکے لئے جمعہ کو خیبر پختونخوا اور ہفتے کو پنجاب کے بجٹ بحث کے لئے دونوں صوبوں کی اسمبلیوں میں پیش کر دیئے گئے۔ پنجاب میں بجٹ صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے مسلم لیگ(ن) کی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے پیش کیا جبکہ خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت کی نمائندگی صوبائی وزیر خزانہ انجینئر ہمایوں خان نے کی۔ دونوں حکومتوں کی جانب سے مسلسل پانچویں بار بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح سے یہ پاکستان میں نئی جمہوری تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ پنجاب کے بجٹ کا کل حجم782 ارب 86کروڑ روپے ہے جو رواں سال سے13.6فیصد زیادہ ہے۔ اس میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے 250ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کی حکومت کی جانب سے 303ارب روپے کا بیلنس بجٹ پیش کیاگیا۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے97.4ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ صوبے کی تاریخ میں اس مقصد کے لئے مختص کی جانے والی سب سے خطیر رقم ہے۔ وفاقی حکومت کے بعد دونوں صوبائی حکومتوں نے بھی سرکاری ملازمین کو ریلیف دینے کے لئے تنخواہوں میں20فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ پنشن بھی 20 فیصد بڑھائی گئی ہے۔ پنجاب میں80ہزار جبکہ خیبر پختونخوا میں 8300نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے 50ہزار گریجویٹس کو انٹرن شپ فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ پنجاب میں اگلے سال مزید1,25,000 لیپ ٹاپس طلبہ وطالبات میں تقسیم کئے جائیں گے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے بھی اس سکیم سے متاثر ہو کر ”نوائے سحر“ سکیم شروع کرنے کا ارا دہ ظاہر کیا ہے جس کے تحت نوجوانوں میں25ہزار لیپ ٹاپس تقسیم کئے جائیں گے۔ پنجاب میں تعلیم کے شعبے پر31جبکہ خیبرپختونخوا میں 10.1ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ پنجاب کی جانب سے سبسڈی فراہم کرنے کے لئے 34ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، اسی طرح توانائی بحران کا مقابلہ کرنے کے لئے 10ارب روپے ر کھے گئے ہیں، جن کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبے شروع کئے جائیں گے اور جاری منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔ پنجاب کو کل آمدن780 ارب67کروڑ روپے ہونے کی توقع ہے جس میں سب سے بڑا حصہ قابل تقسیم محاصل سے حاصل ہونے والے 650ارب5کروڑ روپے کا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کو اِس مد میں وفاق سے 205 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ پنجاب میں ریونیو اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے تاہم ابتدائی طور پر یہ اتھارٹی صرف سیلز ٹیکس اکٹھا کرے گی۔

پنجاب میں بجٹ پیش کرنے والے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن کو چند روز قبل ہی وزارت خزانہ کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کے پہلے تین سال کے دوران اس منصب پر تنویر کائرہ فائز رہے تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) میں دوریاں پیدا ہونے کے بعد انہوں نے یہ عہدہ خالی کر دیا تھا۔گزشتہ سال بجٹ پیش کرنے کے لئے کامران مائیکل کو منتخب کیا گیا تھا جو اب سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔ اس سال اس کام کے لئے انتخاب تو رانا آصف کا کیا گیا تھا لیکن اُن کی دوہری شہریت منظر عام پر آنے کے بعد وہ مستعفی ہو گئے اور یہ فریضہ مجتبیٰ شجاع الرحمن کو سونپ دیا گیا۔ اس بات کا ادراک بے حد ضروری ہے کہ جمہوریت میں وزیر خزانہ کا کام محض اسمبلی میں بجٹ تقریر پڑھنا نہیں ہوتا بلکہ اس منصب پر فائز شخص صوبے(یا ملک) کے امور خزانہ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ باقی محکموں کے وزراءکی طرح وہ حکومت کی مالی کارکردگی کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اس حوالے سے ایوان اور عوام کے سامنے جواب دہ بھی ہوتا ہے۔ تاہم موجودہ دورِ حکومت میں پنجاب میں تنویر اشرف کائرہ کے بعد یہ ذمہ داری مکمل طور پر کسی کو نہیں سونپی جا سکی اور مسلسل ”ایڈہاک“ وزراءخزانہ تعینات کئے جاتے رہے ہیں۔ پنجاب میں گورننس باقی صوبوں کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے۔ امید ہے حکومت اس پہلو پر بھی غور کرے گی اور کسی ماہر معاشیات کو یہ ذمہ داری مکمل طور پر سونپنے کا فیصلہ کرے گی۔

توقع کی جا رہی تھی کہ پنجاب کے بجٹ اجلاس کی ابتداءبھی وفاق کی طرح ہنگامہ خیز ہو گی اور پیپلزپارٹی قومی اسمبلی میں کی جانے والی ہنگامہ آرائی کا بدلہ پنجاب میں اُتارے گی۔ تاہم ایک روز قبل وزیر اعظم گیلانی نے اعلان کیا کہ وہ اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیں گے اور اُن کی جماعت پُرسکون انداز میں پنجاب اسمبلی میں کی جانے والی بجٹ تقریر سنے گی پھر بھی چند حلقوں کو شک تھا کہ اس اعلان پر شاید عمل نہ کیا جائے لیکن اپوزیشن نے اپنا احتجاج محض کالی پٹیاں باندھنے تک محدود رکھا اور بے حد تحمل کے ساتھ صوبائی وزیر خزانہ کی تقریر سنی یہ رویہ اختیار کر کے اپوزیشن جماعتوں نے خوشگوار روایت کو جنم دیا ہے، امید ہے مستقبل میں ایوانوں میں موجود تمام جماعتیں ایسا ہی رویہ اپنائیں گی۔ مسائل کبھی بھی شور مچانے یا ہنگامہ آرائی کر کے حل نہیں کئے جا سکتے بلکہ اس کے لئے دوسرے کی بات سننی اور اپنی بات سمجھانی پڑتی ہے۔

یہ بجٹ دونوں حکومتوں کے آخری بجٹ ہیں اور آنے والا سال عام انتخابات کا سال ہے۔ یہ حقیقت دونوں صوبوں کے بجٹ میں بخوبی جھلکتی ہے۔ تنخواہوں میں اضافہ، نوجوانوں کے لئے ملازمتوں کے مواقع اور پنجاب میں کم آمدنی والوں کو ٹیکسوں میں دی جانے والی چھوٹ، اس بات کی عکاس ہیں کہ دونوں حکومتوں کی نظریں آنے والے انتخابی سال پر ہیں اور اس موقع پر ایسے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے عوام میں مقبولیت بڑھنے کی توقع ہو۔ دوسری جانب یہ بھی واضح ہے کہ سیاسی جماعتوں نے آئندہ انتخابات میں نوجوانوں کی اہمیت کا اندازہ کر لیا ہے۔ نئی ووٹر فہرستوں کے بعد ووٹ ڈالنے کیلئے اہل عوام میں اکثریت نوجوانوں کی ہے شاید اسی لئے دونوں حکومتوں نے خاص طور پر نوجوانوں کے لئے سکیموں کا اعلان کیا ہے۔ یہ تمام اعلانات خوش آئند ہیں کہ عوام کو جس حد تک ریلیف مل سکے دی جانی چاہئے۔ پنجاب حکومت نے پانچ ہزار سے زائد ماہانہ فیس لینے والے نجی سکولوں کو پابند کیا ہے کہ کم از کم 10 فیصد کوٹہ وہ غریب بچوں کے لئے مختص کریں جہاں انہیں میرٹ پر تعلیم دی جائے گی۔ یہ اعلان قابل تحسین ہے، اس سے کم وسائل رکھنے والے افراد کو بھی اپنے ذہین بچوں کو تعلیم کے بہتر مواقع دینے میں مدد ملے گی۔ جنوبی پنجاب کی شکایات کا بھی ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ترقیاتی بجٹ کا ایک تہائی سے زائد حصہ (85 ارب روپے) جنوبی پنجاب کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ جنوبی پنجاب میں بھی ترقی کی رفتار تیز ہونی چاہئے اور اس کے لئے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ ضروری ہے کہ مختص کی جانے والی رقم جنوبی پنجاب پر ہی لگائی جائے۔

دوسری جانب بجٹ کا اہم حصہ محصولات کا بھی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو مالی طور پر بڑی حد تک خود مختار کر دیا گیا ہے۔ آمدنی میں اضافے کے مواقع انہیں میسر کئے گئے ہیں، لیکن صوبے اس سے فائدہ اُٹھانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کو منظور ہوئے دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور اب پنجاب میں ریونیو اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے ابھی بھی اس حوالے سے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے ۔ سیلز ٹیکس کی وصولی کے لئے بھی وہ وفاق پر انحصار کرتے ہیں۔ پنجاب ریونیواتھارٹی بھی ابھی صرف سیلز ٹیکس کی وصولی کے لئے ہی ذمہ دار ہو گی۔ اگر صوبے چاہیں تو وہ ٹیکسوں سے مستثنیٰ شعبوں پر ٹیکس لگا کر اپنی آمدنی میں بے حد اضافہ کر سکتے ہیں۔ اگر زرعی آمدن پر ٹیکس کے قانون پر عمل ہی کرلیا جائے تو صرف پنجاب کو 100 ارب روپے سے زائد آمدنی حاصل ہوسکتی ہے لیکن افسوسناک بات ہے کہ دونوں صوبوں کی جانب سے آمدنی بڑھانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ صوبائی حکومتوں کو اس بات کا ادراک کرنا چاہئے کہ سارا بوجھ وفاق پر ڈال کر ملکی معیشت کی ترقی کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔ اب اٹھارویں ترمیم کے بعد ملک کا معاشی ڈھانچہ تبدیل ہوچکا ہے ضروری ہے کہ صوبے آمدنی کے ذرائع بڑھانے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اس کے لئے عملی اقدامات کریں۔

مزید : اداریہ