بلو چستان کا 179ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش ،کم از کم اجرت9ہزار اور پا رٹ ٹائم 4 ہزار روپے مقرر

بلو چستان کا 179ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش ،کم از کم اجرت9ہزار اور پا رٹ ٹائم ...
 بلو چستان کا 179ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش ،کم از کم اجرت9ہزار اور پا رٹ ٹائم 4 ہزار روپے مقرر

  

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان کا ایک سو اناسی ارب 93 کروڑ اکاتیس لاکھ روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا گیا جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بیس فیصد اضافہ اور چھ ہزار پانچ سو تیس نئی اسامیاں پیدا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ بلوچستان میر عاصم کردنے بلوچستان اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں ایک سو چوالیس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ پینتیس ارب کا ہوگا۔ انہوں نے بتا یا کہ دوران امن وامان کیلئے تیرہ ارب تیرپن کروڑ، صحت کیلئے نو ارب اٹھتر کروڑ، تعلیم کیلئے تئیس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس میں ترقیاتی اخراجات کے لئے دو ارب روپے اس کے علا وہ ہیں۔ صوبے میں آئندہ مالی سال کے دوران ڈیڑھ سو نئے سکول تعمیر کئے جائیں گے۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ریکوڈک اور سیندک منصوبوں کو مارکیٹ میں پیش کر کے مالی فوائد حاصل کئے جا سکیںجبکہ ریکوڈک منصوبے کے لئے آٹھ ارب پچاس کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔عاصم کرد نے کہا کہ بلوچستان کا ایک اہم مسئلہ زمینداروں کو زرعی ٹیوب ویلوں پر سبسڈی کا ہے حکومت نے اس مد میں تین ارب روپے مختص کئے ہیں چار ارب روپے وفاقی حکومت بھی کو فراہم کرے گی اور مجموعی سبسڈی بڑھ کر سات ارب روپے ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ سو اٹھاسی ملین کی لاگت سے سولر ہوم سسٹم پراجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے جس سے توانائی کی بچت ہو گی اورآلودگی میں بھی کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی ملازمین کے مسائل کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ایڈہاک ریلیف کے علاوہ چار کول اور کنوینس الاونس میں بھی اضافہ کیا ہے اب محنت کش کی کم سے کم ماہانہ اجرت بڑھا کرنو ہزار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان سے ملنے والی آٹھہ سو ملین روپے کی گرانٹ سے پسنی فش ہاربر کو فعال کیا جائے گا۔ گوادر اور دیگر علاقوں میں پینے کے صاف پانی کے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ کہ سڑکوں کے رابطے بہتر بنانے کیلئے بجٹ میں اضافی فنڈ رکھے گئے ہیں۔ زراعت پر بھی خصوصی توجہ دی ہے میں اس مد میں پانچ ارب بیس کروڑ رکھے گئے ہیںجبکہ چھوٹے زمینداروں کو مراعاتی پیکج بھی دیئے جائیں گے۔ وزیر خزانہ نے بتایا بلوچستان کو اپنے وسائل سے پانچ ارب روپے کی اضافی آمدنی ہو گی جبکہ باقی رقم این ایف سی ایوارڈ، گیس سرچارج اور دیگر مراعات میں وفاقی حکومت سے حاصل ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے ریونیو اخراجات کا تخمینہ ایک سو سات ارب جبکہ کیپٹیل اخراجات کا تخمینہ چھتیس ارب لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس پی ڈی میں سات سو بیس جاری اور سات بتیس نئی سکیمات شامل ہیں۔ مواصلات کے لئے بارہ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں بیرونی امداد دو ارب اکسٹھ کروڑ مختص کئے گئے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیلی ویجز ملازمین پا رٹ ٹا ئم تنخواہ تین ہزار بڑھا کر چار ہزار کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموں کی تعمیر اور نہروں کی مرمت کیلئے تین ارب چوراسی کروڑ روپے مختص کئے جائیں گے۔

مزید : کوئٹہ