جہیز کی وجہ سے شادیوں میں تاخیر

جہیز کی وجہ سے شادیوں میں تاخیر

جہیز کی وجہ سے شادیوں میں تاخیر


  



آج جب لکھنے کے لئے قلم اُٹھایا تو ایک عجیب سا بوجھ اپنے اندر محسوس کیا اور ایک نارمل انسان کی حیثیت سے آپ بھی اس مسئلے سے دوچار ہوں گے۔مَیں نے اپنی زندگی میں، بچپن سے لے کر آج تک بہت سی شادیوں میں شرکت کی، کچھ تو اُن میں سے بہت بہترین لگیں، مجھے اور میری طرح کے دوسروں لوگوں کو بھی.... لیکن.... پریشان کن بات مجھے یہ لگی کہ ہمارے معاشرے کے ایسے لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے بہت مال و زر سے نوازا ہے، وہی لوگ ایک بڑا بگاڑ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مال و زر کے باعث وہ تو اپنی زندگی کے سارے کام بہت آسانی سے کر لیتے ہیں، لیکن آج کے برعکس ہمارے معاشرے کا غریب طبقہ آئے روز ایک نئی مشکل اور پریشانی سے گزر رہا ہوتاہے۔ پہلے پہل یوں ہوتا تھا کہ غریب لوگوں کی زندگی کا ایک اہم مقصد اپنے فرض کی ادائیگی کرنا ہوتا تھا اور ان کی فرض کی ادائیگی کیا ہے۔ اپنی بچیوں کی صحیح عمر میں شادی کرنا جو آج کل اتنا مشکل ہوگیا ہے کہ ایک غریب یا ایماندار شخص اپنے اس فرض کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ اب شادی معاشرے پر ایک بوجھ بن گئی ہے کیونکہ پہلے شادی کا مطلب ایک خوبصورت رشتے کو استوار کرنا تھا، لیکن اب اس کا مطلب گھر بھرنا ہے، جسے جہیز کا نام دیا گیا ہے۔

ہمارے معاشرے میں کسی بھی لڑکی کی شادی کا ذکرتے ہی ذہن میں جو سب سے پہلے خیال آیا ہے وہ ہے ”جہیز“ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شادی اور جہیز کے بغیر والدین کے لئے لڑکی کو رخصت کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ جہیز کی لعنت ہمارے جیسے مسلمان معاشرے میں ایک ایسی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جس کا علاج آسان نہیں۔ کتنی جوانیاں جہیز پورا کرنے کے انتظار میں بابُل کے گھر بیٹھے بیٹھے بڑھاپے کی دہلیز پر جا پہنچتی ہیں۔ ایک معاشرے میں جہاں آئے روز غیرت کے نام پر کبھی ماں، کبھی بہن اور کبھی بیٹیوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ وہاں جہیز کے لین دین کے معاملے پر ہمارے غیرت بے خبری کی چادر اُوڑھ کر سو جاتی ہے، جبکہ بعض واقعات میں تو یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ جہیز کی آگ شادی کے بعد بھی بجھنے میں نہیں آتی۔ اس زمانے میں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ قرآن و سنت میں جہیز کی رسم پذیرائی دی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اس طرح کی تمام رسول پر پابندی لگاتا ہے اور مذکورہ رسم تو کسی طرح سے بھی اسلامی تعلیمات کی رُو سے جائز نہیں اور اس رسم سے حاصل ہونے والی رقم سے کھانا، پینا کسی طرح بھی حلال نہیں۔

دیکھا جائے تو یہ سراسر بیٹی کے باپ پر ظلم ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تو شادی کے موقع پر بیٹی کے باپ کا تو ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہونا چاہئے، نہ جہیز کے نام پر اور نہ کسی قسم کے بے جا اخراجات کے نام پر۔

اس زمانے میں ایسے حالات کو بدلنے کے لئے شادی اور بیاہ کے معاملات سادگی اور خوشی سے طے ہونے چاہئیں۔ اس زمانے میں ایسے سخت قوانین وضع کئے جانے چاہئیں، جس سے جہیز کے لین دین کو روکنا ممکن ہو سکے۔ ویسے بھی اس زمانے میں لڑکے کا کردار بہت ا ہم ہے۔ اگر ہر لڑکا اپنی شادی کے وقت یہ کہہ دے لڑکے گھر والوں سے کہ اسے جہیز کے نام پر لڑکی والوں سے کچھ نہیں چاہئے تو اس رسم کے خاتمے کی امید کی جا سکتی ہے۔ دوسرا لڑکے کے گھر والوں کو بھی اس بات کا احساس کرنا پڑے گا کہ اگر آج وہ اپنے لڑکے کی شادی میں جہیز لینے سے انکار کر دیں تو کل ان کی بہن، بیٹیاں بھی آسانی سے اپنے اپنے گھروں کی ہو جائیں گی۔ ویسے بھی ہوش رُبا مہنگائی کے اس بدترین دور میں جتنی جلدی ہو سکے، ہمیں ”جہیز کی لعنت“ جیسی ناسور بیماری سے چھٹکارا حاصل کر لینا چاہئے، اس میں ہماری اور ہمارے معاشرے کی بھلائی ہے۔      ٭

مزید : کالم