کچھ کرنے کا وقت

کچھ کرنے کا وقت

کچھ کرنے کا وقت

  

امن عامہ کی مخدوش صورت حال سے سہمی ہوئی قوم انتخابی عمل کے کڑے امتحان سے گزری۔ الیکشن سے پہلے تجزیوں ، تبصروں اور قیاس آرائیوں کی یلغار کا کچھ نہ پوچھیں، الیکٹرانک میڈیا اور حالات حاضرہ کے نشہ کے عادی ناظرین کو کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ جتنے مُنہ اتنی باتیں، لیکن انتخابی نتائج نے کئی نام نہاد دانشوروں اور سیاسی نجومیوں کو ناصرف ورطہ ¿ حیرت میں ڈال دیا، بلکہ انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، جو نتائج سامنے آئے یار لوگ سر پکڑ کر بیٹھ گئے، کیونکہ وہ ان کے بالکل برعکس دیکھنے کی ”خواہش“ میں مبتلا تھے۔ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی لاگو نہیں ہو سکتی، لیکن اکثر خدا کے نیک بندوں سے یہ کہتے سنا ہے کہ ہر خواب کو بے نقاب نہیں کرنا چاہئے۔ متاثرین اپنے خواب نشر کر چکے، اس لئے مایوسی دامن گیر ہوئی۔ ہمیں یاد ہے میاں محمد نواز شریف کو اِسی قوم نے بھاری مینڈیٹ سے نوازا تھا۔ عوام پُرامید تھے کہ اُن کی دیرینہ امیدیں اب حقیقت کے روپ میں رنگ لائیں گی، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسا ممکن نہ ہوا۔

 حکومت پر شب خون مارا گیا اور مینڈیٹ دینے والوں کے خواب پارہ پارہ ہوئے۔ سب کچھ بکھر بکھر گیا، قومی سلامتی اور جمہوری تقاضے اُلجھ اُلجھ گئے۔ جمہوریت تھر تھر کانپ اُٹھی۔ موصوف تیسری بار قصر وزارت عظمیٰ کے حصول میں کامیاب ہو چکے۔ میاں صاحب اور اُن کے رفقاءکار کے لئے مسائل اور مشکلات کا ایک جم غفیر ہے، جو میاں محمد نواز شریف اور اُن کے ہم رکابوں کے استقبال کے لئے پوری آب و تاب سے مُنہ کھولے ہمہ وقت تیار ہیں۔ مانا کہ درپیش مسائل کے حجم اور وزن میں میاں صاحب نے حصہ نہیں ڈالا، لیکن وہ بطور وزیراعظم ان سے کسی طور، کسی صورت آنکھیں نہیں چرا سکتے۔ اگرچہ کچھ مسائل کا حل فوری ممکن نہیں، جیسا کہ باشعور حلقوں کے علم میں ہے، لیکن ان کے حل کے لئے شفافیت کے ساتھ بطور ایک زمینی حقیقت کوشش تو ہوتی نظر آئے۔ نعروں کا، وعدوں کا دور بیت گیا۔ اب تو کچھ کر گزرنے کا وقت ہے۔ شیروانی سلوانا یا پہننا کوئی معیوب بات نہیں، لیکن شیروانیوں میں ملبوس ان قائدین سے سوال ہے کہ جس کی تقلید میں شیروانی پہن کر حلف لیا جاتا ہے۔ کیا آج کا پاکستان اس شیروانی پہننے والے کا پاکستان ہے؟ جواب، نہیں، نہیں، ہر گز نہیں۔ نئے قائد نئے پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ ایسے نعرے سن کر ڈر لگتا ہے۔ قائداعظم ؒ ہمیں معاف کر دینا۔

آپ محمد علی جناح ؒ کی نجی سماجی اور سیاسی زندگی کا مطالعہ کرتے رہیں۔ مَیں وثوق سے کہتا ہوں کہ آپ کو کسی افلاطون، کسی میکاولی یا کسی گاندھی کے سبق کی ضرورت نہیں رہے گی۔ آپ کا تیسری بار وزارت عظمیٰ کی مسند پر بیٹھنا کوئی معمولی بات نہیں، ایک منفرد اور مثالی اعزاز ہے، جو عوام نے آپ کو ان کے مسائل کے حل کے لئے عطاءکیا ہے اور یہ اقتدار اللہ اور عوام کی امانت ہے، اس اعزاز کے بے شمار تقاضے ہیں۔ آپ کے وعدے ہیں، دعوے ہیں، جنہیں شرمندہ¿ تعبیر کرنا پوری دیانت اور تدبر سے ہی ممکن ہو گا۔ نئے اور پرانے پاکستان کے چرچے ہیں، آئندہ اس پر ضرور بات ہو گی۔ یہ نعرے سن کر نظریہ¿ پاکستان کے حامیوں کے لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ”مت پوچھ کہ دل پر کیا گزری“۔    ٭

مزید :

کالم -