عبداللہ یوسف چیئرمین ایف بی آر سے میری ایک گفتگو

عبداللہ یوسف چیئرمین ایف بی آر سے میری ایک گفتگو

عبداللہ یوسف چیئرمین ایف بی آر سے میری ایک گفتگو

عبداللہ یوسف چیئرمین ایف بی آر سے میری ایک گفتگو

  

جناب پرویز مشرف صدر مملکت پاکستان کے آخری ایامِ اقتدار میں چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو،”لاہور ایوان صنعت و تجارت“ میں بطور مہمان خصوصی تشریف لائے۔ اُن کے ساتھ بورڈ کے دوسرے ممبران بھی تشریف لائے۔ مَیں بھی اِس دعوت میں شرکت کے لئے چلا گیا، کیونکہ میرا اس ایوان سے 1950ءسے تعلق رہا ہے اور مَیں اس کی مجلس انتظامیہ کا ایک فعال ممبر بھی رہا ہوں اور ایک تاریخ ساز جدوجہد کے بعد مَیں ایوان ہائے صنعت و تجارت کے قانون میں بنیادی تبدیلیاں لانے میں کامیاب ہوا، جس کے نتیجے میں ملک بھر کے تمام ایوانوں میں چھوٹے اور متوسط طبقے کے تاجروں کی بالادستی قائم ہو گئی۔ مَیں نے ایل سی سی آئی کے صدر سے درخواست کی کہ مَیں بھی معزز مہمانِ خصوصی کی خدمت میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں، مجھے بھی پانچ، دس منٹ بولنے کا موقع دیا جائے۔ جب موصوف تشریف لائے تو پہلے صدر ایوان نے ایک طویل قصیدہ سپاسنامے کی صورت میں پیش کیا پھر اس کے بعد سابقہ صدور یکے بعد دیگرے قصیدہ خوانی میں ایک دوسر سے بازی لے جانے لگے۔ مجھے ہلکا پھلکا سا بخار تھا، مَیں نے صدر مجلس سے گرجدار اونچی آواز میں کہا کہ آپ نے قصیدوں کی قوالی شروع کر دی ہے مجھے 105بخارہو گیا ہے، اگر آپ مجھے وقت دینا چاہتے ہیں تو دیں ورنہ مَیں چلا جاتا ہوں، اس پر انہوں نے بحیثیت ایک بزرگ کے میرا تعارف کراتے ہوئے بولنے کی اجازت دی۔ مَیں نے مہمان خصوصی سے مخاطب ہو کر کہا کہ اب تو میرے پاس وقت بہت تھوڑا ہے، مَیں مختصر سی بات کروں گا۔ 1963ءمیں طالب علم رہنما بارک اللہ خاں کی یونیورسٹی آرڈیننس کے تحت یونیورسٹی سے بے دخلی کے نتیجے میں ایک زور دار تحریک برپا ہونے پر مجھے بھی گرفتار کر کے قلعہ لاہور میں نظر بند کیا گیا۔ اس نظر بندی کے دوران مجھے یہ خیال پیدا ہوا اگر میری نظر بندی طول پکڑ جائے تو میرا تمام کاروبار تباہ ہو جائے گا اس وقت میرے بچے پانچویں، چھٹی، ساتویں، آٹھویں میں پڑھ رہے تھے، مَیں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میرے بچے دربدر کی ٹھوکریں کھائیں۔ مَیں نے سوچا کہ کوئی ایسا ذریعہ ¿ معاش ہونا چاہئے کہ اگر بندہ جیل جائے تو اُس کے پیچھے گھر کی دال روٹی اور بچوں کی فیسیں چلتی رہیں۔

کچھ عرصے بعد مجھے لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا، باہر آیا تو ایک پراپرٹی ڈیلر کے ذریعے لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ کی کپور تھلہ ہاﺅس سکیم میں جس میں آپ کا ریجنل آفس بھی قائم ہے، ایک نیلام شدہ پلاٹ پہلے مالکان سے خرید لیا۔ یہ بھی ایک حُسن ِ اتفاق ہے کہ میرے75فیصد کرایے دار ٹیکس پریکٹشنر ہیں۔ آپ کی تقرری سے پہلے مجھے یہ سہولت حاصل تھی کہ بحیثیت سینئر سٹیزن رینٹل انکم پر50فیصد ”ری بیٹ“ ملتا تھا، آپ نے وہ منسوخ کر دیا ہے۔ آپ بھی کسی دن ریٹائر ہوں گے اور سینئر سٹیزن بن جائیں گے۔ پھر مَیں نے یہ شعر پڑھا:

تو کہا ںجائے گا کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے

ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے

یہ شعر سن کر اراکین ایوان خاصی دیر تک ڈیسک بجاتے رہے۔ مَیں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ: یہ نیتوں کا فتور ہے۔ تم تو ایک چھوٹے افسر ہو اور یہ نیتوں کا فتور اوپر کی سطح پر ہے۔ مَیں نے صدر عبداللہ یوسف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مَیں یہ بھی جانتا ہوں کہ تاجر اور صنعتکار آپ سے Exemption کے S.R.Oسائن کروانے کے لئے رنڈیوں اور ٹی وی آرٹسٹوں کو آپ کی خدمت میں بھیجتے ہیں اور وہ آپ سے دستخط کرالیتی ہیں۔ اس پر موصوف لاجواب ہو گئے کوئی جواب نہ بن سکا ۔ جب تقریب کے اختتام پر میں باہر نکلا تو ”جیو“ کے نمائندے نے مجھ سے کہا کہ آج تو آپ نے میلہ لوٹ لیا، ہمیں بتایئے کہ آپ کی معلومات کا سورس کیا ہے؟ مَیںنے اُن سے کہا کہ جب کبھی جھنگ کی رسوائے زمانہ حسنین یوسف اینڈ کمپنی کے فارم ہاﺅس پر پرویز مشرف تشریف لاتے ہیں اور رنگ رلیاں مناتے ہیں۔ اُس وقت وہاں علاقے کا تھانیدار موجود ہوتا ہے وہ میرا کسی حوالے سے واقف کار ہے وہ مجھے اکثر وہاں پر جو طوفان بدتمیزی مچتا ہے اُس کی تفصیلات سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ اس پر ”جیو“ ٹی وی نے عبداللہ یوسف سے رابطہ کیا اوراُن سے کہا کہ ہمیں پتا چلا ہے کہ آپ کے کچھ افسر رقص و سرور کی محفلوں میں شریک ہوتے ہیں اُن کے جواب میں موصوف نے کہا کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں۔ جی¿و والوں نے کہا اچھا تو آپ کو دکھا دیں۔ تو انہوں نے جو فوٹیج پیش کی اس میں عبداللہ یوسف خود رقص فرما رہے تھے اور رقص کے ساتھ پرویز مشرف اور شوکت عزیز کی موجودگی میں گانا گا رہے تھے کہ:

ساہنوں نہر والے پل تے بلُا کے

تے خورے ماہی کتھے رہ گیا

انہوں نے پرویز مشرف کو دونوں بازوﺅں سے پکڑا اور اُٹھا کر اپنے ساتھ رقص کرنے کی دعوت دی، جو پرویز مشرف نے قبول نہیں کی۔ جی¿و یہ منظر چار روز تک ٹی وی چینل پر دکھاتا رہا اور عوام اس سے محظوظ ہوتے رہے۔ اس واقعے کے کچھ دن بعد انکم ٹیکس کے انفورسمنٹ کے شعبے سے ایک بڑے افسر کی طرف سے مجھے نوٹس موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ آپ نے موضع باگڑیاں میں نُو مرلے زمین خریدی ہے آپ کا این ٹی این نمبر کیا ہے؟ اور کیا آپ نے اس کی ریٹرن داخل کی ہے۔ مطلع کریں۔ میں نے جواب میں این ٹی این نمبر اور ریٹرن کی رسید اپنے خط کے ساتھ بھجوا دی۔ اور اس افسر کو لکھا کہ اگر یہ رجسٹری خط نسخ میں لکھی ہوتی تو آپ کہہ سکتے تھے کہ مَیں اس کو سمجھ نہیں سکا، لیکن یہ رجسٹری تو انگریزی زبان میں لکھی ہوئی ہے اور میں اس میں (Vendor) ہوں نہ کہ(Vandee) جو افسر ”وینڈر“ اور ”وینڈی“ کا مفہوم نہیں جانتا، اس کو اتنے بڑے عہدے پر براجمان رہنے کا کیا حق حاصل ہے؟

آں را کہ حساب پاک است

اُو از محاسبہ چہ باک است

مزید :

کالم -