ملک میں منافرت ، شدت اور انتہا پسندی کیوں ؟

ملک میں منافرت ، شدت اور انتہا پسندی کیوں ؟

ملک میں منافرت ، شدت اور انتہا پسندی کیوں ؟

  

عوام کو جان مال عزت کا تحفظ نہیں ۔ امن و امان کی صورت حال خطرناک حد تک خراب ہے ،لیکن ملک میں علاقائی ، صوبائی ، لسانی ، نسلی اور مذہبی منافرت قومی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے ۔ نائن الیون کے بعد تو ان نفرتوں کا سیلاب امڈ آیا ہے۔ اس کے لئے ملک میں رہنے بسنے والے سب ذمہ دار ہیں ،لیکن حالات پر جو زیادہ قوت اور اختیار رکھتا ہے وہ اتنا ہی ذمہ دار ہے ۔ بلاشبہ اس میں سیاسی و دینی جماعتیں ، سیاسی کارکنان ، مساجد کے خطیب ، علما اور اساتذہ کی بھی ذمہ داری ہے ،لیکن سب سے زیادہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔ خصوصاً انٹیلی جنس ادارے ، قانون نافذ کرنے والے ادارے ، پالیسی سازی کے ذمہ داران اس صورت حال سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے ۔ گزشتہ بارہ سالوں میں شدت جذبات اور نفرتوں کا طوفان امڈ تا چلا آیا ہے بحیثیت ملت ہم نے اس کے مقابلے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی ۔ ان نفرتوں کو محبتوں میں بدلنے اور اس کے اسباب جاننے کی حقیقی کوشش نہیں ہوئی کہ یہ لاوا کیوں پھٹا ہے ۔ وہ کونسے عوام ہیں جو اس آگ کو بھڑکارہے ہیں اور ہم سب کس طرح مل جل کر اس آگ کو بجھا سکتے ہیں ۔ ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنا، جس قوم کا شیرازہ بکھر رہاہے، اسے دوبارہ بنیان مرصوص ، ایک قوم اور ایک وحدت کیسے بناسکتے ہیں یہ کام کرنے کا تھا او را ب پہلے سے زیادہ شدت سے اس کی ضرورت ہے ۔

 آج ایک آدمی کے لئے عزت سے رہنا ، حصول انصاف ناممکنات میں ہے ۔ایک عام انسان کے لئے کرپشن ، بدعنوانی کے ہر عنوان اور اقربا پروری نے جینا مشکل تر بنادیاہے ۔ یہ عجیب و غریب منظر ہے کہ حکومتیں سرکاری ادارے ، تجزیاتی ادارے اعلان کرتے ہیں اور ٹھوس اعداد و شمار پیش کرتے ہیں کہ ملک کے اربوں کھربوں روپے کرپشن کی نذرہو گئے ہیں ۔ ہر اپوزیشن اور ہر آنے والی حکومت ماضی کی حکومتوں کو کرپٹ گردانتی ہوئی تھکتی نہیں، لیکن سدباب کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں ہوتا۔ سرکاری تحقیقاتی ادارے ، انکوائری کمیشن ، بلیک منی کا تعین تو کرتے ہیں ،لیکن معیشت کو صاف ستھرا بنانے کے لئے عوامی اعتماد کی بحالی کے لئے کچھ بھی تو نہیں ہوتا۔ صنعت ، زراعت ، سمگلنگ اور غلط پالیسیوں کا شکار ہور ہی ہیں ۔ کمیشن ، کمیٹیاں بنتی ہیں ، خرابیوں کو نشان زد کیا جاتا ہے ،لیکن سب کچھ کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ، کوئی محاسبہ نہیں ، کوئی بھی تو موثر اقدام نہیں ہوتا ۔ چوریاں ، ڈکیتیاں، مال مویشی کی چوری ، ڈاکہ زنی او ر ڈاکو زنی میں عزتیں تار تار ہونا اور بے گناہ انسانوں کی جانیں ضائع ہونا معمول بن گیاہے، لیکن عملاً ایسی بے بسی ، ایسی بے حسی الامان الحفیظ ... !

کرپشن اور بدانتظامی نے جیسے اعصاب شل کر دیئے اور انسانوں کو حیوان اور بے حس بنا دیا گیاہے۔ گجرات پنجاب کے گاﺅں مانگووال راجیکے میں سکول وین میں جس طرح ٹیچر اور بچے زندہ جل گئے ، گھروں خاندانوں اور والدین پر قیامت بیت گئی، لیکن کوئی ہے جو ایسے المناک حادثات کے سدباب کے لئے تیار ہو ۔ پولیس ، ٹریننگ پولیس ، ضلعی انتظامیہ ، موٹر وہیکل ، ایگزامینیشن غرض تمام ادارے عوام کی خدمت کی بجائے اپنے آپ کو عوام پر ظلم جبر اور نفرت مسلط کرنے پر مامور ہیں ۔ ریاستی نظام کی بے حسی ، لاقانونیت ، ریاستی اداروں کی جانب سے قانون آئین ضابطوں کی پامالی ہے ملک میں نفرت ،شدت اور انتشار پیدا کر رہاہے، اسی لئے ملک دشمن قوتوں کے لئے شیطانی کھیل آسان بنادیا گیاہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی نفرتوں کی آگ ، عدم برداشت ، شدت اور انتہا پسندی کی سات وجوہات ہیں ان کا سدباب کر کے ہی ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتاہے اور مستحکم بنیادوں پر آزاد ، باوقار ، خود مختار ملک کے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں ۔

1۔سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ اجتماعی طور پر اور من حیث القوم ہم نے اسلام سے روگردانی کی ہے ۔ اسلام کے بارے میں سب نے ہی زبانی جمع و خرچ بہت کیاہے، لیکن اسلامی تعلیمات اور احکامات کے حوالہ سے جن رویوں ، اقدامات کے تقاضے ہیں ہم نے اس سے یکسو روگردانی کی ہے ۔ اللہ کے ہاں غلط لوگوں کی معافی ہے، لیکن بغاوت ، منافقت کو برداشت نہیں کرتا، انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں عمومی طور پر اسلام سے بے وفائی کا رویہ اختیار کیا گیاہے اس وجہ سے پاکستان میں تیسری نسل جو تعلیم اور تربیت پاکر نکل رہی ہے اس کی اسلام ، پاکستان اور معاشرتی اقدار سے محبت کی بنیادیں بہت کمزور ہوتی جارہی ہیں ۔ نوجوان نسل اور عامة الناس میں یہ رویہ پختہ ہو گیاہے کہ معاشرہ اور اس میں ہونے والے عوامل اور یہاں کی چیزیں اپنی نہیں ہیں ۔ مجموعی طور پر یہ احساس کمزور ہوگیاہے کہ ان چیزوں کو تباہ کرنے کے معنی اپنے گھر کو تباہ کرنے کے مترادف ہے اس کی بنیادی وجہ اسلام سے روگردانی ہے ۔

2۔دوسری وجہ یہ ہے کہ افراد ، ذاتی خاندان ، شخصیات کے استحکام پر توجہ مرکوز رہی ہے، لیکن اداروں کو مستحکم کرنے اور انہیں پروان چڑھانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ،بلکہ ایک ایک کر کے اداروں اور اجتماعی سوچ ، ملک و ملت کے نقصان کے احساس کا خاتمہ کیا گیاہے ۔ تعلیم ، صحت ، عدلیہ ، انتظامیہ ، بلدیاتی ادارے ، صحافت ، سیاسی جماعتیں ، جمہوری ادارے ، یہ وہ تمام ادارے ہیں جن سے کوئی معاشرہ باقی رہتا ہے ۔ معاشرہ ترقی کرتاہے اور جمہورمیں اطمینان و اعتماد کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں، لیکن ہم نے ان اداروں کی فکر نہیں کی استحکام اور تربیت کے لئے نظریہ پاکستان ، آئین کی ہدایات اور رہنما اصول اپنانے کی بجائے ان اداروں کو تباہ کیا ۔ حل یہیہے کہ شخصیات اور ذاتی خواہشات کو تحفظ دینے کی بجائے قومی اداروں اور قومی رویوں کو درست کیا جائے ۔

3۔تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ بار بار جمہوری ، آئینی اور قانونی عمل معطل کیا جاتارہاہے، لیکن اب ملک میں ایک طویل صبر آزما جدوجہد ، قربانیوں کے بعد آئین ، عدلیہ ، جمہوری عمل حاصل ہواہے ، ماضی میں آئین توڑے گئے ۔ عدلیہ مفلوج اور قید کی گئی ، فوج بار بار مسند اقتدار پر زبردستی بیٹھ جاتی رہی جس سے ملک کا مزاج بگڑ گیا اور ادارے تباہ ہو گئے ۔ جب تک ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہو اس وقت تک معاشرہ مہذب اور عوام میں برداشت کی جڑیں مضبوط نہیں ہوسکتیں ۔ عدلیہ ،قانون اور دستور کا احترام از حد ضروری ہے، لیکن ملک میں سیاسی ، انتظامی اور فوجی مقتدر طبقات اس سے عاری ہیں ۔ جب تک دستور اور عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کے احترام کی روایت قائم نہ ہو گی اس وقت تک عام قوانین کا احترام بھی پیدا نہ ہو سکے گا۔

4۔چوتھی وجہ یہ ہے کہ دینی اور سیاسی جماعتیں اصول ، جمہوری روح ، قومی ترجیحات کی بجائے مسالک ، پاور پالیٹکس اور ہر قیمت پر اقتدار کے حصول پر کاربند ہیں اس رویہ نے علاقائی عصبیتیں پروان چڑھانے ، برادریوں کو اہمیت دینے ، مقامی مفادات کو مضبوط کرنے اور اپنے اپنے مسلک کے تحفظ کے لئے شدت جذبات کی پرورش کرنے کا کردار ادا کیا ہے ۔ ملکی مفادات اور قومی نقطہ نظر کی بجائے دینی و سیاسی جماعتیں وقتی مفادات کو ہی عزیز رکھتی ہیں ۔ شخصیات کے بت کھڑے کئے جاتے ہیں۔ پسند و ناپسند کی بنیاد پر عوام کو بند گلی میں دھکیل دیا جاتاہے۔ اس سے دینی اور سیاسی جماعتوں کے لئے محدود کامیابی کے راستے تو ضرور کھل جاتے ہیں، لیکن عوام میں منافرت ، شدت اور انتہا پسندی پیدا کر دیتے ہیں ۔ قومی مفاد کی بجائے مقامی اور گروہی مفاد جب زیادہ عزیز ہو تو یہی بھیانک نتائج ہی ملیں گے ۔ یہ تجربات نہایت ہی ناکام رہے ہیں اس نے ملک کو نئی آگ کی طرف دھکیل دیاہے ۔

5۔پانچویں وجہ یہ ہے کہ ملک میں بنائے گئے قوانین غیرمنصفانہ ہیں ۔ قانون کے احترام کے لئے ضروری ہے کہ قانون بھی منصفانہ ہو ۔ برے قوانین میں سے کچھ کی تومجبوری کے تحت پابندی کی جاسکتی ہے، لیکن اس کا احترام نہیں کیاجاسکتا۔ جب تک قوانین انصاف پر مبنی نہ ہوں، قانون اچھا نہ ہو، اس وقت تک اس کی اطاعت کس طرح ہوسکتی ہے ۔ یہی فرق ہے اسلامی اور عام قوانین کے درمیان کہ اسلامی قوانین کے بارے میں انسان یہ جانتا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں دیئے ہیں ایسے قوانین مفاد مصلحت و مجبوری پر مبنی نہیں ہیں ان کی اطاعت محض قانون کی نہیں، بلکہ اللہ اور رسول کی اطاعت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی قانون کا زیادہ احترام ہوتاہے ۔ دوسرے قوانین خاص طور پر ایسے قوانین جو انصاف پر مبنی نہ ہوں ان کا احترام نہیں کیا جاتا ۔ 1973 ءکے آئین میں اسلامی نظریاتی کونسل بہت اہم ادارہ ہے اس ادارہ نے قوانین کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کے لئے مسلسل تحقیق اور تجاویز تیار کی ہیں، لیکن آج تک پارلیمنٹ میں ان رپورٹس پر بحث نہیں ہوئی اور نہ ہی قوانین کو دین کے سانچے میں ڈھالنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے ۔ قانون پر عملدرآمد سب کے لئے ایک جیسا نہیں کمزور اور لاوارث پر قانون کا نفاذ ہے ،لیکن باوسیلہ ہر قانون سے بالاتر ہے ۔ یہی ماحول افراد میں ذہنی بغاوت اور جذبات میں شدت کی آگ بھڑکا رہے ہیں ۔

6۔چھٹی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اندرونی اور بیرونی عوامل اپنا اپنا شیطانی کھیل کھیل رہے ہیں ۔ امریکہ نے ہمارے ملک کو اپنے چنگل میں لیا ہواہے ۔ اس کے ایجنٹ ، جلوس ، این جی اوز ، خوف اور لالچ کی بنیاد پر ان کے ذہنی غلام پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں جو ہمیں اس کا غلام بنا کر اس کے ڈو مور ، کِل مور کے ہر حکم کو ماننے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ حکمرانوں نے ایک پرائی جنگ کو اپنی جنگ بنا کر ہماری فوج کو اپنے ہی عوام سے لڑا دیاہے ۔ امریکہ اور اس کے حواری ہماری حاکمیت اور خود مختاری کو پامال کر کے ملک کے اندر من مانی کارروائیاں کر رہے ہیں ۔ ڈرون حملے روز افزوں ہیں امن کی ہر کوشش کو امریکہ سبوتاژ کر دیتاہے اور ہمارے احتجاج پر معذرت کی بجائے دھڑلے سے کہتاہے کہ ہم یہ کرتے رہیں گے اور اس کے ساتھ یہ طعنہ دیتاہے کہ ہم سے پیسے لیتے ہوتو ہمارا حکم بھی مانو عملاً قوم کو ایک دلدل میں پھنسا دیا گیاہے جس سے نکلنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہورہی ۔ سابقہ دور حکومت میں نیٹو سپلائز بند کر کے قومی غیرت کا مظاہرہ ہوا ، امریکی کارروائیوں ، ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں لاہور میں المناک ہلاکتوں ، ایبٹ آباد امریکی آپریشن ، سلالہ پوسٹ پر امریکہ کی قتل و غارت گری جیسے واقعات پر پارلیمنٹ کے اجلاس ہوئے ۔ ان کیمرہ سیشن میں عسکری اور سول قیادت نے بریفنگ دی اور دو مرتبہ متفقہ قرار دادیں منظور ہوئیں،لیکن عملدرآمد کی ہمت اور عزم نہیں یہ صورت حال جس سے فاٹا ، بلوچستان ، کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں جذبات کی شدت ردعمل کی آگ بڑھتی جارہی ہے اسی سے ہمارا دشمن کے لئے عوام کو باہم دست و گریبان کرنے کا ماحول میسر آرہاہے ۔ نئی حکومت کے لئے اب یہ بڑا چیلنج ہے کہ نائن الیون کے بعد فوجی ڈکٹیٹر نے اغیار کو خوش کرنے ، اپنے عوام پر طاقت مسلط کرنے ، افراد کو لاپتہ کرنے ، غائب کئے افراد کی مسخ شدہ لاشیں ،جو پسند نہیں اسے ٹارگٹ بنا کر قتل کرنے کی یہ پالیسی اور رجحانات ختم کرنا ہوں گے ۔

7۔ساتویں وجہ یہ ہے کہ ملک میں نظام احتساب باقی نہیں رہا۔ حالیہ عرصہ میں احتساب کے نام پر سنگین مذاق کئے گئے ہیں ۔ احتساب کو سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے دباﺅ کاذریعہ بنایا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں نظام احتساب کے حوالے سے جو فیصلے دیئے ہیں اس سے سب کی آنکھیں کھل گئی ہیں کہ احتساب کے نام پر کیا بھیانک کھیل کھیلے گئے ہیں ۔ عوام میں اعتماد کی بحالی ، نفرتوں کے خاتمہ اور عوام میں شدت اور انتہا پسندی کے جذبات کے خاتمہ کے اور برداشت کے جذبے پیدا کرنے کے لئے ہمہ گیر نظام احتساب خواہ وہ پارٹی کے اندر ہو ، حکومتی سطح پر ہو ، پارلیمنٹ یا عدالت کی سطح پر ہو اسے بحال ہوناچاہیے۔ یہ وہ ذریعہ ہے، جس سے ہم منافرت ، شدت اور انتہا پسندی کی آگ کو ٹھنڈا کرسکتے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ ملک و ملت انتہائی سنگین صورت حال سے دوچار ہےں ۔ حکومت ، سیاسی اور دینی جماعتوں ، پارلیمنٹ پوری قوم اور پوری قیادت کو اس کا احساس ہوناچاہیے ۔ اس ملک کی بقا استحکام اور ترقی میں سب کی زندگی ہے ۔ خدانخواستہ اب بھی اس کا احساس نہ کیا گیا اور قیادت کی بے حسی یا وژن میں محدود یت کی وجہ سے صورت حال متاثر ہوئی تو غالب امکان ہے کہ افراد ملک میں اعتماد کھو بیٹھیں گے تو خدانخواستہ ہمارا مستقبل بڑا تاریک ہے ۔   ٭

مزید :

کالم -