الوداع ،پیپلزپارٹی الوداع!

الوداع ،پیپلزپارٹی الوداع!

الوداع ،پیپلزپارٹی الوداع!

الوداع ،پیپلزپارٹی الوداع!

  

کیا پاکستان پیپلز پارٹی ختم ہوگئی؟ کیا لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کرتے وقت، پارٹی پر ناجائز قابضین کا ٹولہ، شہید ذوالفقار علی بھٹو کے پھانسی گھاٹ کو جاتے قدموں کی مقصدیت کو بھلا بیٹھا تھا؟ کیا ہوس پرستوں کے سردار اور ہمنوا ، لالچ کی اس منزل پر پہنچ چکے تھے، جہاں وہ شہید بے نظیر بھٹو کا خون آلود دوپٹہ تک بیچ کھانے پر آمادہ ہو گئے؟ کس قدر بے شرمی، ڈھٹائی سے کہا جا رہا ہے ”پیپلزپارٹی کو عالمی و ملکی اسٹیبلشمنٹ نے ہروایا“۔ جھوٹ، صریحا جھوٹ۔ پیپلز پارٹی کو اپنے ہی تخلیق کردہ ”کرداروں“ اور عوامی ناپسندیدگی نے ہروایا۔ عبدالرحمن ملک جیسا لازوال کردار جیالوں کو دس پندرہ سال تک مزید رگڑا دلواتا رہے گا۔ ملکی و عالمی منظر نامے پر عبدالرحمن ملک کی حدوں کو توڑتی مداخلت پیپلز پارٹی کے تشخص کو تباہ و برباد کر گئی۔ طالبان کو تڑیاں لگانے کا معاملہ ہو یا الطاف حسین کے پاﺅں پکڑنے کا مرحلہ۔ اپوزیشن کے کیس کھلوانے کی دھمکیاں ہوں یا پی پی پی وزراءکی کرپشن کے ثبوت مٹانے کی سعی، اس کردار نے مختلف روپ دھار کر حیرت انگیز ایکٹنگ کا مظاہرہ کیا، لیکن بدقسمتی سے یہ ایک ایسا مظلوم کردار بھی تھا، جس کی ہیئت کو دیکھتے ہوئے نہ تو طالبان نے بلٹ ضائع کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی اپوزیشن نے کبھی سنجیدگی سے لیا۔

پی پی پی کی تباہی میںہچکچاہٹ، تذبذب پر مبنی اَن گنت ایسے فیصلے بھی شامل ہیں جو صریحا ًرائے عامہ کے برخلاف تھے۔ کیا ضرورت پڑی تھی جیل کی یاریاں نبھانے کی۔ کس زعم میں کرپشن کے کلچر کو فروغ دیا گیا۔ کہیں یوں تو نہیں تھا اقتدار سنبھالنے کے چند دنوں بعد ہی پارٹی قائدین بھانپ چکے تھے کہ یہ پیپلزپارٹی کا آخری دور حکومت ہے؟ کیا دوبارہ نہ پلٹنے کے انہی خدشات کے پیش نظر ہر قابل ذکر شخصیت کو زیادہ سے زیادہ لوٹ مار کرنے کی غیر اعلانیہ چھوٹ دے دی گئی؟ بالخصوص آخری سالوں میں جو اودھم مچا وہ سیاسی خودکشی سے کہیں آگے کی چیز تھی۔ پیپلز پارٹی کا تھنک ٹےنک بھی چغدوں کا ٹولہ ثابت ہوا۔ نہ ہی انہیں آزاد میڈیا کی تباہ کن طاقت کا احساس ہوسکا اور نہ ہی وہ افواہوں کے قلعے سوشل میڈیا کی اہمیت کو بھانپ سکے۔ ان کی نظروں میں بھٹو، کوڑے اور پھانسی گھاٹ سے اٹھتی داستانیں زیادہ اہم تھیں۔ انہیں تو یہ توقع تھی المیاتی داستانوں میں چھپا درد ووٹرز کو تیر پر مہر لگانے پر مجبور کر دے گا۔ یوں ساٹھ ستر نشستیں اور بلاول بھٹو زرداری کی لانچنگ مل کر پی پی پی کو مستقبل میں زندہ رہنے کا جواز فراہم کر دیں گی۔

کون بلاول؟ ایک بہت ہی دُور بیٹھا نوجوان، جس کا پاکستانی سیاست کی چوٹیوں پر چمکتی سفیدی سے کوئی تعلق نہیں، جسے سمندر کی تہوں میں رقصاں سنہری مچھلیوں جیسی عوامی خواہشات کا کوئی ادراک نہیں،جس کی اجڑے قصبوں کے چائے خانوں پر بیروزگاری کا ماتم کرتے نوجوانوں تک کوئی رسائی نہیں،جس کی بنجر کھیتوں کے کنارے حقہ گڑگڑاتے بوڑھے کسانوں سے کوئی شناسائی نہیں۔ وہ فی الوقت ایک سیدھا سادا برٹش گرومڈ نوجوان ہے، جو جھوٹ، مکاری اور عیاری سے کوسوں فاصلے پر اور تحت الشعور میں سیاست سے دور رہنے کی خواہش دبائے بیٹھا ہے۔ پارٹی قائدین کی زنگ آلود ساکھ کا بوجھ لادے وہ بھلا کس طرح پیپلز پارٹی کے تاریک مستقبل کو روشنیوں میں بدل سکتا ہے؟ کیا اس کے اعصاب اتنے مضبوط ہیں کہ پر آسائش زندگی چھوڑ کر بھیانک کرپشن میں ڈوبی پارٹی کو ابھارنے کی تگ و دو کر سکے؟ وہ سفر کہاں سے شروع کرے گا؟ کیا پرائمری یونٹس سے تعارف اور بحالی سے؟ پرائمری یونٹس کس حال میں ہیں؟

صرف عہدوں اور لسٹوں کی حد تک، یا ان گلا کھنگارتے بوڑھوں تک جو جوانی کی یادوں کے سائے تلے بقیہ ایام پورے کر رہے ہیں۔ ان پرائمری یونٹس کے نوجوان اراکین پکے ہوئے سرخ بیروں کی مانند ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہے ہیں۔ اچھے دانے تحریک انصاف کی جھولی میں جانے کے خواہش مند ہیں، جبکہ داغی اور کٹے پھٹے زمانے کے پاﺅں تلے کچلے جا رہے ہیں۔ بہت مشکل، بہت ہی مشکل ہوگا پیپلز پارٹی کے لئے کم بیک کرنا۔ہاں البتہ ایک صورت ہو سکتی ہے۔ جناب آصف علی زرداری مکمل طور پر پس پردہ چلے جائیں۔ میر مرتضی بھٹو کی اولاد میں سے جونیئر بھٹو یا فاطمہ کو آگے لایا جائے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو بالآخر پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک نئی شناخت دے سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کیا ایسا ممکن ہو سکے گا؟ جواب یہ کہ تقریباً ناممکن۔ نتیجہ، ہر گزرتا دن پی پی پی کی عدم مقبولیت میں اضافہ ہی کرے گا۔ تاوقتیکہ راکھ کے ڈھیر میں بدلتے نظریات زمانے کی آندھیوں کا شکار ہو کر صحراﺅں، ویرانوں میں بکھر جائیںگے۔ کبھی کبھار صحرائی ہوا شہروں کا رُخ کرے گی تو بھولے بھٹکے سے فضاﺅں میں بھٹو کی سرگوشی سنائی دے گی”نظریے کی موت ہی اصل موت کہلاتی ہے“۔

کیا پاکستان پیپلز پارٹی نظریاتی موت کی جانب بڑھ چکی ہے؟خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں پارٹی انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا۔ چھوٹے بڑے یونٹس، ضلعی و صوبائی عہدیداران کا پیٹ اتنا بھر چکا کہ وہ سرور و مستی کی آرام گاہوں سے نکلنے پر آمادہ ہی نہیں۔ خواتین ونگ، مزدور رہنما، کلچرل عہدیداران پذیرائی نہ ملنے کے باعث اخباری بیانات تک محدود ہوچکے ہیں۔ کہاں گیا پیپلز پارٹی کا یوتھ ونگ؟ کہاں غائب ہوگئے جیالوں کے ٹولے جو پہروں سیاسی رقیبوں پر بھٹو ازم کا سحر پھونکا کرتے تھے؟........کوئی کہیں نہیں گیا۔ سبھی یہیں موجود ہیں۔ بھٹو ازم بھی اور جیالے بھی........البتہ پیپلز پارٹی کے قائدین ، اک نئی خاندانی پارٹی شناخت کی خاطر، خود ہی ان جیالوں سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں، جو 2013 ءمیں بسنے کے باوجود بھٹو بھٹو کی دہائی دیے پھرتے ہیں۔ یہ وقت بھٹو کا نہیں زرداریوں کا ہے۔ یہی وجہ تھی پارٹی کی انتہائی ٹاپ لیول قیادت نے نئے ممبرز کو نہ تو بھٹو ازم سے متعارف کروایا اور نہ ہی حقیقی جیالوں کو مخصوص حد سے آگے بڑھنے دیا گیا۔ بھٹو ازم کو ”زرداری ازم“ میں ڈھالنے کے لئے ضروری تھا پرانے کارکنوں کو فاصلے پر ہی رکھا جائے۔ نئے نظریے کے حامیوں کی نظروں میں بھٹو کی خاطر قید ، کوڑے کھانے والوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔درجنوں نہیں، سینکڑوں نہیں، بلکہ ہزاروں کارکنوں نے صرف بھٹو کی خاطر اپنی زندگیاں، مستقبل کے خواب اور کاروبار تباہ و برباد کر لئے۔ کیا ان سختیوں سے گذرنے والے بے زبان حیوان تھے؟ کیا بھٹو کی خاطر احتجاجا آگ لگانے والوں کو اپنی زندگی سے پیار نہیں تھا؟ کیا 14سال کی عمر میں گرفتاری دینے والے زبیر شاد کی بھٹو سے عقیدت کا جرم کینسر کے ہاتھوں بے بسی کی موت تھا۔ بڑی تذلیل کی پیپلز پارٹی کے نئے قائدین نے پرانے ورکروں کی۔

اب زمانہ بدل گیا ہے۔ طاقت کے نئے مراکز پر پاکستان تحریک انصاف بھی ابھر آئی ہے۔ پنجاب میں بدترین شکست کے بعد عمران خان ہر صورت جیتنے والے گھوڑوں کی طرف لپکیں گے۔ یہ گھوڑے وسیع تعداد میں پیپلز پارٹی کے بوسیدہ اصطبل میں بندھے ہوئے ہیں۔ اب پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف ، دونوں کے لئے ہی، المیوں کا ایک نیا سفر شروع ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے ہارنے والے ایم این اے اور ایم پی اے حضرات بھانپ چکے ہیں پارٹی انتہائی سرعت سے زوال پذیر ہو رہی ہے۔ اپنی علاقائی سیاست کی بقاءکی خاطر بظاہر ان کے پاس تحریک انصاف کے سواکوئی چوائس نہیں بچی۔ مستقبل میں یہ ممبرز بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کا رخ کریں گے۔ دوسری جانب عمران خان بھی اپنے لنگڑے ٹائروں کی کارکردگی سے سکتے کی کیفیت میں ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر آنے والوں کو کھلی بانہوں سے خوش آمدید کہیں گے۔ بظاہر پاکستان تحریک انصاف مضبوط ہو جائے گی، لیکن تحریک مخالف نظریات کے حامل اجنبیوں کا ہجوم اس قدر بڑھ جائے گا کہ بالآخر تحریک انصاف بھی اندرونی اختلافات کا شکار ہو جائے گی۔ تحریک انصاف کے قائدین نے بھی پی پی پی کی طرح کارکنوں سے اجتناب برتنا شروع کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا حشر سب کے سامنے ہے۔ محبت، عقیدت، احترام تو ایک طرف فقیر تک پی پی پی کا نام سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگانے لگتے ہیں۔ فقیروں، مظلوموں اور غریبوں سے بڑا پروپیگنڈہ سیل آج تک منظر عام پر نہیں آسکا۔ بھٹو کو ”افسانوی بھٹو“ بنانے والے یہی فقیر ،غریب غرباءتھے، اور انہی فقیروں کو بھٹو کے وارثوں نے چن چن کر اپنی آرام گاہوں سے پرے دھکیل ڈالا ہے۔    ٭

مزید :

کالم -