گڈ گورننس کی لہر اور کراچی کے حالات

گڈ گورننس کی لہر اور کراچی کے حالات

گڈ گورننس کی لہر اور کراچی کے حالات

گڈ گورننس کی لہر اور کراچی کے حالات

  

سندھ میں پیپلز پارٹی اگر قائم علی شاہ کی پانچ سالہ حکومت کو نہ دُہراتی تو شاید یہ کہا جاسکتا کہ اس بار چھوٹے صوبے گڈ گورننس قائم کرنے جا رہے ہیں، تاہم اب بھی اگر دیکھا جائے تو بلوچستان میں ڈاکٹر عبدالمالک اور خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک کی موجودگی میں اس امر کی توقع رکھنا بے جا نہیں ہوگا کہ حکومتی رٹ کے لحاظ سے ماضی میں بری شہرت رکھنے والے یہ صوبے اب مو¿ثر حکومت کی آماجگاہ بن جائیں گے۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے تو واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ ہرگز ایسی حکومت نہیں چاہتے جو اسلام آباد یا ملک کے دیگر صوبوں میں بلوچستان کی بدنامی کا باعث بنے۔ وزیراعظم نواز شریف کی یہ حکمت عملی کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے کہ بلوچستان میں مرکز کی مداخلت کم سے کم رکھی جائے اور اکثریت میں ہونے کے باوجود خود حکومت بنانے کی بجائے بلوچ قوم پرست جماعتوں پر یہ ذمہ داری ڈال دی جائے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے جس انداز سے حکومت کے اصول گنوائے ہیں، اگر وہ ان پر عمل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، تو کوئی بعید نہیں کہ 66برسوں سے انتشار کی زد میں رہنے والا یہ صوبہ امن و خوشحالی کا گہوارہ بن جائے۔ آج پیپلز پارٹی ان خدشات پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہے کہ سندھ میں گورنر راج لگانے کی باتیں ہو رہی ہیں ،لیکن پیپلز پارٹی کے اکابرین کو سوچنا چاہیے کہ اگر بلوچستان جیسا صوبہ جو ہمیشہ گورنر راج کی زد میں رہا ہے، آج اس قسم کی افواہوں سے نکل آیا ہے، تو سندھ کے حوالے سے آخر ایسی افواہیں گردش ہی کیوں کر رہی ہیں؟سپریم کورٹ قائم علی شاہ کی حکومت کو پچھلے دور میں نا اہل قرار دے چکی ہے۔ وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت نہ ہوتی تو یہ ریمارکس ہی وہاں گورنر راج لگانے کے لئے کافی تھے، مگر اب کون سے حالات بہتر ہیں؟

جب سے سندھ میں انتخابات کے بعد حکومت قائم ہوئی ہے ،ٹارگٹ کلنگ اور لیاری میں گینگ وار جاری ہے۔ اس حکمت عملی اور سیٹ اپ کے ساتھ جو گذشتہ پانچ سال موجود رہا، کراچی میں کوئی بہتری یا قانون کی عملداری کیسے قائم کی جاسکتی ہے؟اس بار تو صورت حال اس لئے بھی یکطرفہ ہے کہ ایم کیو ایم سندھ حکومت میں شامل نہیں، پیپلز پارٹی تنہا حکومت چلا رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اس کا حق ہے، کیونکہ اسے اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے ،لیکن اسے یہ آزادی تو حاصل نہیں کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے، شہری گولیوں کا نشانہ بنتے رہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کو بھی دندناتے قاتل سر عام موت کے گھاٹ اتاریں اور فرار ہو جائیں، کوئی پوچھنے والا نہ ہو، اور اگر کوئی حکومت کی ناکامی کا سوال اٹھائے تو اسے یہ جواب دیا جائے کہ کسی نے سندھ حکومت کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو سندھ کے عوام نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں!سندھ کے عوام تو بے چار ے مر رہے ہیں، قاتلوں کو سندھ حکومت کیوں لگام نہیں ڈال رہی، کیا خود اس نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں؟ذرا اس منظر نامے پر نگاہ ڈالئے جو بدلے ہوئے حالات کے تناظر سے ابھرتا نظر آ رہا ہے۔

 بلوچستان میں اگر ڈاکٹر عبدالمالک ایک مو¿ثر حکومت قائم کرکے صوبے کے امن کو بہتر بنا دیتے ہیں، قبائلی سرداروں اور عسکری گروپوں کو اعتماد میں لے کر اپنا ہمنوا بنا لیتے ہیں ،نیز ترقی و خوشحالی کے نئے سفر کا آغاز کرنے میں کامیاب رہتے ہیں ،تو وفاقی حکومت کی ایک بہت بڑی اور دیرینہ سر دردی ختم ہو جائے گی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت یقینا ایک اچھی انتظامی مشینری کے ساتھ صوبے کو چلائے گی۔ امن و امان کی صورت حال بھی بہتر ہوگی اور سرکاری اداروں میں کرپشن کا خاتمہ بھی ہوگا، یوں خیبر پختونخوا بھی وفاق کے لئے اس حوالے سے کوئی مسائل پیدا نہیں کرے گا۔ رہی پنجاب کی بات تو وہاںخود مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے۔ وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے گزشتہ پانچ برسوں میں ایک اچھی حکومت کے تاثر کو برقرار رکھا، گو امن و امان کے حوالے سے مسائل درپیش رہے، تاہم کبھی یہ تاثر نہیں ابھرا کہ وہاں رٹ آف گورنمنٹ موجود نہیں۔ اس بار تو وہ زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں، انہیں اسمبلی میں دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل ہے اور مرکز میں ان کی پارٹی برسر اقتدار ہے۔ یوں دیکھا جائے تو پنجاب میں پھر ایک اچھی حکومت دیکھنے کو ملے گی ،بلکہ اس بار تو پنجاب کا اچھی حکمرانی کے حوالے سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے مقابلہ بھی جاری رہے گا، جو عوام کے لئے یقینا سود مند ثابت ہوگا۔

اب اس منظر نامے میں اگر سندھ حکومت کی کارکردگی وہی رہی جو ماضی میں تھی اور جس کا تسلسل برقرار ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وفاقی حکومت اور قومی سلامتی کے ادارے اس سے صرف نظر کریں۔ کراچی میں لوگ ابھی سے دہائی دے رہے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لیں۔ اس میں اب ایم کیو ایم کی آواز بھی شامل ہوچکی ہے۔ اگر کراچی کے حالات اسی طرح رہے تو نواز شریف حکومت پر دباﺅ بڑھتا جائے گا۔ صوبائی خود مختاری اپنی جگہ ایک حقیقت ہے ،مگر عوام کے جان و مال کی قیمت پر اسے فروغ نہیں دیا جاسکتا۔ آج یہ بات زباں زدِ عام ہے کہ کراچی میں تو کچھ بھی نہیں بدلا۔ وہی حکومت، وہی ٹارگٹ کلنگ، وہی گینگ وار، وہی نو گو ایریاز، وہی لاشیں، وہی بین کرتی مائیں اور بہنیں، وہی اسلحہ لہراتے قاتل، وہی بے بس قانون۔ اب ایسے میں اگر کوئی اس خوش فہمی کا شکار رہتا ہے کہ سندھ میں اس کی اکثریت ہے اور وہ جس طرح چاہے حکومت چلائے، کوئی اسے نہیں پوچھ سکتا، تو یہ اس کی بہت بڑی خوش فہمی ہے۔ اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ماضی میں بھی کراچی کے مسئلے پر اصولی سٹینڈ لے کر نواز شریف اپنی حکومت گنوا چکے ہیں، اب بھی وہ کراچی سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ پھر انہوں نے تو انتخابی مہم کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آکر کراچی کو اسلحہ سے پاک کریں گے۔ یقینا سندھ حکومت کا ابھی ہنی مون پیریڈ چل رہا ہے، اس لئے شاید درگزر کیا جائے، مگر حقیقت یہی ہے کہ اگر بدامنی اور قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا، تو وفاقی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ ابھی تو یہ بات ایک مفروضہ نظر آتی ہے، لیکن کوئی بعید نہیں کہ جب حالات خرابی کی انتہا کو پہنچ جائیں تو سندھ میں وفاق کو گورنر راج جیسا انتہائی آپشن استعمال کرنا پڑے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کس حکمت عملی پر کار فرما ہے، اس بارے میں کچھ بھی کہنا آسان نہیں، البتہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب پورے ملک میں بدلے ہوئے حالات کے تحت گڈ گورننس کی ضرورت کو محسوس کیا جا رہا ہے اور خود وفاق ،تین صوبوں میں قائم حکومتوں کے ذمہ داران اس حوالے سے چوکس اور پرعزم نظر آتے ہیں، تو پیپلز پارٹی سندھ میں ایک اچھی اور مو¿ثر حکومت سے کیوں پہلو تہی کر رہی ہے؟یوں ان تجربات کو دہرا رہی ہے جو ماضی میں ناکام ہوچکے ہیں۔ ابھی سے لگ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی بوقت ضرورت سندھ کارڈ کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سندھ کا رڈ وہ سندھی عوام کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے یا اس جمہوری نظام کے خلاف جو نئے انتخابات کے بعد وجود میں آیا ہے۔ کراچی کے عوام ہاتھ جوڑ کر کہہ رہے ہیں کہ خدارا !ااشہر کے امن کو سیاسی مصلحتوں اور مفادات کی نذر نہ کیا جائے، آخر اس آواز کو کب تک دبایا جاسکے گا اور کب تک سندھ حکومت کی نااہلی پر وفاقی حکومت آنکھیں بند رکھے گی؟      ٭

مزید :

کالم -