منگل باغ کا اعلان، مذاکرات کے لئے اچھا عمل!

منگل باغ کا اعلان، مذاکرات کے لئے اچھا عمل!

منگل باغ کا اعلان، مذاکرات کے لئے اچھا عمل!

  

برسر پیکار کالعدم شدت پسند تنظیموں میں سے ایک لشکر اسلام نے عارضی طور پر خیبر پختونخوا میں تشدد کی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کالعدم لشکر اسلام کے امیر منگل باغ نے اپنے ایف ایم ریڈیو کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے اپنے حمایتیوں سے کہا ہے کہ وہ فی الفور کارروائیاں معطل کر دیں، تاکہ نئی حکومت کی منصوبہ بندی سامنے آسکے جو مذاکرات کے حق میں ہیں۔ اطلاع کے مطابق امیر منگل باغ نے کہا کہ ان کی جنگ امریکہ کے خلاف ہے جو افغانستان سے جا رہا ہے۔ ایسے میں جب اسلام مخالف دو جماعتوں پیپلز پارٹی اور اے این پی کو انتخابات میں شکست ہو چکی ہے اور اب جو حکومت برسر اقتدار آئی ہے وہ امریکہ کی حامی نہیں۔ منگل باغ کے مطابق ان کی تنظیم کا مقصد غیر ملکیوں کو افغانستان اور پاکستان سے نکالنا ہے اس لئے موجودہ حکومت کے رویے کا انتظار کرنا چاہئے۔

یہ اپنی جگہ درست ہے کہ تحریک انصاف ہو یا مسلم لیگ (ن) اور کوئی دوسری جماعت، سبھی مسئلہ کا حل بات چیت سے چاہتے ہیں چنانچہ مذاکرات کے لئے فضا کا ہموار ہونا بھی ضروری ہے۔

منگل باغ کی طرف سے کارروائیوں کی معطلی ایک اچھا اقدام ہے اور یہی وہ طریقہ اور راستہ ہے جس کے ذریعے مذاکرات ممکن ہو سکتے ہیں۔ اس لئے یہی بہتر ہے کہ مزاحمت کرنے والے دوسرے دھڑے بھی یہی راستہ اختیار کریں۔ اگر سبھی تنظیمیں کارروائیاں معطل کر دیں تو یہ امکان ہو سکتا ہے کہ مذاکرات کے طریقہ کار کے بارے میں بات چیت شروع ہو سکے اور یہ مسئلہ حل ہو جائے۔ حکومت کو بھی اس پیش رفت پر نظر رکھنا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -