بت گری، بت فروشی اور بت پرستی

بت گری، بت فروشی اور بت پرستی
بت گری، بت فروشی اور بت پرستی
کیپشن: hakeem syed sabir ali

  

امت مسلمہ کی ایک پہچان صدیوں سے یہ رہی ہے کہ یہ امت بت پرستی کے خلاف اور بت شکنی پر کاربند رہی ہے۔جب نئی رحمتﷺ نے فتح مکہ کے روز بیت اللہ کو بتوں سے پاک کیا تو اس امت کے لئے قیامت تک یہ پیغام پہنچایا گیا کہ یہ امت آئندہ بت پرسی سے اجتناب کرے اور محمود غزنوی کی طرح بت شکنی کی روایت پر عمل کرے۔ایک وقت تھا کہ علماءفوٹوگرافر حضرات کو دوران تقریب فوٹو لینے سے روک دیتے تھے، خواتین حتیٰ کہ بورڈ میں پوزیشن حاصل کرنے والی بیٹیوں کی تصویر بھی اخبار میں شائع کرنے سے اجتناب کیا جاتا تھا، وقت کا دھارا بدل گیا اور اب علماءبھی بیوٹی پارلر سے نوجوان بن کر فوٹو شائع کرانے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور خواتین کی جو حرمت ٹیلی ویژن اور اخبارات میں ہو رہی ہے، وہ قابل شرم ہی نہیں، قابل مذمت اور قابل غوروفکر بھی ہے۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران پہلے بڑے شہروں اور بڑی مارکیٹوں میں کلاتھ مرچنٹ حضرات خال خال خواتین کے بت.... خصوصاً نسوانی حسن نمایاں کرکے سلے سلائے کپڑے اور عمدہ ورائٹی پہناوے کے طور پر ان بتوں کو پہناتے تھے، تاکہ گاہک کے لئے کشش بھی ہو اور کپڑے کی ورائٹی بھی نمایاں ہو۔پھر خواتین کے بعد مردوں کے بتوں پر بھی دولہا کا لباس سجایا گیا۔بچوں کے گارمنٹس بھی نمایاں کرنے کے لئے خوبصورت بچوں کے بت بنائے گئے۔آہستہ آہستہ حوصلہ افزائی پاکر اب بڑے شہر یا قصبے یا دیہات ،مَیں ہر کلاتھ مرچنٹ کی دکان اس وقت تک مکمل نہیں ہو پاتی جب تک کہ دلہا اور دلہن کے بت لباس پہن کر شیشے کے فریموں میں آراستہ نہیں کئے جاتے۔یورپ یا ہندوستان میں یہ بت گری، بت فروشی اور بت پرستی تو گوارا کی جاتی ہے، لیکن یہ مملکتِ خداداد جس کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے، اس میں یہ بتوں کی پوجا، کس حد تک درست یا جائز ہے؟ ہر بازار اور ہر کلاتھ مرچنٹ کے ہاں کاروبار کے لئے بت پرستی کی یہ صورت اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔

حکمران طبقہ پہلے ہی سودی نظام اور نوجوانوں کو سود پر قرضے دے کر اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ پر آمادہ ہے۔خدا کی رحمت کا نزول کیسے ہو؟ اللہ کے غضب میں من حیث القوم ہم پہلے ہی عذاب الٰہی میں جکڑے جا رہے ہیں۔غیر محسوس طریقہ سے ”بتوں کی پرستش“ کا یہ سلسلہ ختم کرنے کی ضرورت ہے۔اس غرض کے لئے سب سے پہلے تمام ملک کے کلاتھ مرچنٹ ایسوسی ایشن رضا کارانہ طور پر خود فیصلے کریں کہ ان بتوں کو فی الفور ختم کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کو رزاق سمجھتے ہوئے اس غیر اسلامی روش کا خاتمہ کیا جائے۔ملکی سطح پر حکومت ہر ڈی سی او کو حکم دے کہ وہ تمام کاروباری مراکز کا دورہ کریں اور ان بتوں کو توڑ کر ختم کیا جائے۔اس سلسلے میں قانون سازی کی بجائے عمل کی ضرورت ہے!یہود و ہنود ہم مسلمانوں کو اپنی تہذیبی روایات کے برعکس ان تہذیبی رنگینوں میں رنگنا چاہتے ہیں جو انہیں اسلامی شعائر سے دور کردے! کیا حکمران اپنی دینی، اخلاقی اور ملی ذمہ داری پوری کریں گے؟

مزید :

کالم -