جہیز:ایک لعنت

جہیز:ایک لعنت
جہیز:ایک لعنت
کیپشن: hakeem tehseen ahmad

  

ماشاءاللہ قلم اٹھاتے ہوئے مسرت محسوس کر رہا ہوں کہ آج بھی چند ایسے صاحب ثروت انسان موجود ہیں جو کسی کی مشکلات اور بے بسی کو نہیں دیکھ سکتے خاص طور پر بیٹیوں کے معاملے میں ان کی شادی اور جہیز کے بارے میں، اپنی جیب سے زرکثیر خرچ کر کے دنیا بھی کما رہے ہیں اور آخرت بھی سنوار رہے ہیں۔ اجتماعی شادیوں کا سلسلہ جب شروع ہوا تو لوگوں نے انگلیاں بھی اٹھائیں اور باتیں بھی بنائیں لیکن قابل تحسین ہیں وہ انسان جنہوں نے اجتماعی شادیوں کے عمل کو جاری و ساری رکھا۔ ان سے کئی غریب یتیم اور بے بس بچیوں کی زندگی سنور گئی اور وہ سب اپنے پیا گھر سدھار گئیں۔

ہمارے معاشرتی نظام میں جو کچھ بھی خامیاں ہیں سب ہی سدھر سکیں لیکن جہیز کی لعنت کا سدباب بہت ہی ضروری ہے جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بے شمار بچیاں گھروں میں بیٹھی ہیں یہاں تک کہ کثیر تعداد میں بچیوں کے سر پر چاندی بھی چمک آئی ہے ۔ میں ان سب اہل ثروت انسانوں کو ہدیہ سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے بے شمار والدین کی داد رسی کرتے ہوئے ان کی بیٹیوں کو نہ صرف جہیز دیا اور بارات کی آمد کی دعوت بھی دی۔ کچھ این جی اوز بھی ہیں جو اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں وہ بھی قابل تعریف ہیں۔ رہا مسئلہ شادی پر ولیمہ کا تو اللہ بھلا کرے حکومت کا جس نے ون ڈش سسٹم کو رواج دیا۔ لیکن رئیس زادے اب بھی کھانے کا اہتمام کسی نہ کسی طرح کر ہی لیتے ہیں۔ بھلا نیکی کا عمل ایسے تو نہیں پنپتا بڑی دشواریوں اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری پولیس اپنے حلقہ میں گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے اور کئی دلہا اور شرفاءکو گرفت میں لائے اس کے باوجود امراءرئیس زادوں اور نئے امراءکو کون ہاتھ ڈالتا ہے کاش ان کو بھی سمجھ آ جائے کہ غریب بھی انسان ہوتے ہیں۔ شادی ولیمہ اور جہیز کے بارے حکومت کو مزید بہتر اقدامات اور نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ ہر کس و ناکس ان لازمی حیات عامہ سے بہرہ ور ہو سکے۔

کچھ ذکر حوّا کی بیٹی کا جو بے آبرو ہو رہی ہے اس مسلم معاشرے میں کیا وہ آپ کی بیٹی نہیں۔ ہائے صد افسوس کہ وقت کیا سنہرہ وقت تھا کہ خلفائے راشدین کے زمانہ میں آئمہ اظہار کے زمانہ میں ہر کسی کی بہو بیٹی کی عزت محفوظ رہتی تھی حالانکہ وہ معاشرہ نیا اسلامی معاشرہ تھا اور اس میں بھی منفی سوچ کے حامل لوگ موجود تھے لیکن کسی کو بھی اتنی جرا¿ت نہ ہوئی تھی کہ وہ کسی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے لیکن آج کے مسلم معاشرے میں کیا ہو رہا ہے سبھی جانتے ہیں میری دعا ہے اللہ پاک ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

اللہ پاک اپنے اسماءحسنہ کے مطابق کتنا خوبصورت ہے کبھی کریم ہے کبھی رحیم ہے کبھی غنی ہے کبھی وہاب ہے اور کبھی رزاق ہے۔ رزاق بھی اللہ پاک کا ہی نام ہے اور نام کی نسبت ہر ذی روح کو رزق بھی عطا فرماتا ہے بلاتفریق کوئی امیر ہے یا غریب سب ہی کو رزق عطا فرماتا ہے۔ موجودہ دور میں معاشی حالات کس نہج پر جا رہے ہیں۔

ہم سب ہی واقف ہیں کسی کے پاس 10ملازمین ہیں تو وہ مالک حقیقی اس آجر کو اتنا رزق عطا کر دیتا ہے کہ وہ اپنے ان ملازمین کے لئے بھی بشکل تنخواہ یا اجرت ادا کرے یہ بھی اللہ کا خاص کرم ہے آجر کو یہ توفیق بھی اللہ کریم نے ہی عطا فرمائی ہے خوش قسمت ہے وہ انسان جس کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو رزق تقسیم کراتا ہے۔ اب ہمارے معاشرے میں جو عمل رواں دواں ہے اجتماعی لنگر کے تو کیا ہی کہنے شہر بھر میں مزدور تو سبھی ہیں کسی کی دیہاڑی لگتی ہے کوئی نامراد ہی لوٹتا ہے لیکن اللہ پاک کسی کو بھوکا نہیں رہنے دیتا۔ اس کے بندے اپنے علاقہ میں غرباءمساکین کیلئے کھانے کا اہتمام کرتے ہیں جسے زبان زد عام میں لنگر کہا جاتا ہے آپ تو ملک خداداد کے تقریباً سب بڑے بڑے شہروں میں یہ سلسلہ چل نکلا ہے اور غربا مساکین اس لنگر سے استفادہ کر رہے ہیں اور ان اہل انسانوں کے لئے دعا بھی کرتے ہیں۔ سنا ہے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو حیثیت کے باوجود بھی ان لنگر خانوں میں صبح دوپہر و رات کو نازل ہو جاتے ہیںجو شرم کی بات ہے۔ جن کا حق ہے ان کو ہی ملنا چاہئے اور رب کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اللہ عزوجل نے انہیں یہ خدمت کرنے کا موقع عطا فرمایا۔ میری دعا ہے بھوکے کو کھانا کھلانے والے کو اللہ اپنے سایہ رحمت میں رکھے اور اس عمل کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین

مزید :

کالم -