تحقیقاتی کمیشنوں کا قیام دھوکہ ہے: یاسین ملک

تحقیقاتی کمیشنوں کا قیام دھوکہ ہے: یاسین ملک

سرینگر(اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چےئرمین محمد یاسین ملک نے بھارت اور اسکی کٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے قائم تحقیقاتی کمیشنوں کے قیام کو دھوکہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث بھارتی فوجیوں کوبچاناقابض انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محمد یاسین ملک بارہمولہ سے آئے ہوئے ایک وفد سے ملاقات کررہے تھے ۔ وفد نے فرنٹ سربراہ کو آگاہ کیاکہ 2013میں بھارتی فوجیوں کی بلاجواز فائرنگ سے طاہر رسول صوفی کی شہادت کے بعدلوگوں کے شدید احتجاج کی وجہ سے قابض انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کرانے کے احکامات جاری کئے اور لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اس سلسلے میں اپنی شہادتیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بارہمولہ کے روبرو پیش کریں۔وفد نے کہا کہ پانچ افراد جو اس واقعے کے چشم دید گواہ تھے نے ہمت باندھ کر مجسٹریٹ کے پاس اپنی شہادتیں درج کرادیں۔

شہادتیں درج کرانے کے فوراً بعد پولیس،فوج اور ایجنسیوں نے ان گواہوں کے خلاف محاذ جنگ کھول دیا اور ان کی تلاش شروع کردی گئی۔ ان میں سے دو گواہ جاوید حسین نجار اور زبیر بشیر بٹ کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اْن پر بھارتی پولیس پر پتھر اؤمیں ملوث ہونے کے الزامات عائد کردئے گئے ہیں اور پولیس ان کی مدت اسیری کو طول دینے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے جبکہ دوسرے گواہاں پردباؤ ڈالنے کے لیے ان کے خلاف بھی پولیس کاروائیاں، تلاشیاں اور چھاپے جاری ہیں۔وفد سے باتیں کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ1947سے آج تک اس قسم کے کئی کمیشن بنا کر معاملات کی تحقیقات کرانے کے اعلانات کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ 2008 سے لیکر2011تک اور پھر 2013میں سیکڑوں لوگوں کی شہادتوں کے بعد ایسے ہی تحقیقاتی کمیشن تشکیل د یے گئے اور ملوث لوگوں کو سزا دلانے کے اعلانات کئے گئے لیکن آج تک نہ ہی کسی کو سزا دی گئی اور نہ کسی کو گرفتار کیا گیا بلکہ الٹا گواہاں اور مظلومین کو ہی جیلوں اوراذیت خانوں میں ڈالا گیا۔

مزید : عالمی منظر