خودکش بمباری کا علاج (3)

خودکش بمباری کا علاج (3)
خودکش بمباری کا علاج (3)
کیپشن: l cornal ghulam jilani khan

  

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ افغانستان میں امریکیوں اور ناٹو فورسز کے فوجی دستوں نے جو مار کھائی ہے اور 2014ءکے اواخر تک واپس جانے کا جو روڈ میپ دیا ہے، اس کی پشت پر افغانستان کے سارے ہی باشندے شامل نہیں۔یہ کارنامہ صرف اور صرف افغانستان کے پشتونوں نے انجام دیا ہے۔

افغانستان کی آبادی تقریباً اڑھائی کروڑ ہے۔اس آبادی کے بڑے بڑے نسلی گروپ نو (9) ہیں جو پشتون، بلوچ، ہزارہ، نورستانی، ایمک، ترکمان، ازبک، تاجک، کرغز اور پا میری کہلاتے ہیں۔ان میں سب سے بڑا گروپ ”پشتون گروپ“ ہے جو افغانستان کی کل آبادی کا 42% ہے۔اس کے بعد تاجک (27%)، ہزارہ (9%)، ازبک (9%)،ایمک (4%)،ترکمان (4%)،بلوچ (2%) اور دیگر چھوٹے چھوٹے گروپ شامل ہیں۔پشتون، ملک کے مشرقی، وسطی، جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں میں آباد ہیں۔ان کی زبان زیادہ تر پشتو اور دری ہے۔شمالی علاقوں کے افغان جن کو امریکہ کے چلے جانے کے بعد حکومت دی جا رہی ہے وہ فارسی وان کہلاتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو امریکہ (اور انڈیا) کے پالتو ہیں۔ان کا امریکی فورسز کے اس انخلاءمیں کوئی رول نہیں.... یہ ایک کروڑ سے زیادہ پشتون تھے ، جنہوں نے اپنے ہزاروں نوجوانوں، عورتوں اور بچوں کی قربانی دی اور ناٹو اور ایساف کو بھاری جانی نقصان اٹھا کر واپس جانے پر مجبور کیا۔ان افغان پشتونوں کے جو عزیز و اقارب درانڈ لائن پر آباد ہیں اور پاکستان کے فاٹا میں جن کی ایک تعداد بستی ہے، وہ پاکستان کا اثاثہ ہیں۔لیکن اس اثاثے کے شفاف تالاب میں چند گندی مچھلیاں بھی آ گئی ہیں، جو سارے جل کو گندہ کرنے پر تُلی ہوئی ہیں۔ان گندی مچھلیوں کی غالب تعداد دوسرے دریاﺅں اور جوہڑوں سے آکر ہمارے تالاب میں شامل ہوگئی ہے۔ان کو چھانٹی کرکے نکالنے کے لئے پاکستان کو تدبیر اور تدبر دونوں سے کام لینا پڑے گا۔

ایک حقیقت جس میں مجھے کوئی شبہ نہیں وہ یہ ہے کہ اگر افغانی طالبان کے لئے پاکستان کا وہ عقبی صحن نہ ہوتا جس کو فاٹا کہتے ہیں تو آج افغانستان کی تقدیر مختلف ہو سکتی تھی اور ساتھ ہی پاکستان کی بھی!

ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ خودکش بمباروں کی جیکٹ سے لے کر اس جیکٹ کے پہننے والوں تک اور پھر IEDs تیار کرنے والوں تک سب کا سب علم و ہنر اور نوجوانوں کی فراہمی اور ان کی ڈاکٹرینیشن کا سارا ٹاسک غیر ملکیوں سے افغانستان اور پاکستان میں درآمد کیا گیا۔اگر سادہ لوح ، نو عمر، اَن پڑھ اور نوجوان پشتونوں/ تاجکوں/ ازبکوں وغیرہ کی کھیپ فراہم نہ ہوتی تو خودکش بمبار جیکٹ کس کام کی ہوتی؟یہ جیکٹ پہن کر اور کسی کار میں ایکسپلوسوز بھر کر دشمن کے نزدیک جا پہنچنا، ایک ایسا فن ہے جس کو پشتونوں نے کاملیت (Perfection)سے ہم کنار کیا۔یہ دوسری بات ہے کہ اس کا استعمال بعض پشتونوں نے اپنے دشمنوں کے علاوہ اپنے دوستوں کے خلاف بھی کیا۔ابھی چند روز پہلے فتح جنگ روڈ پر آئی ایس آئی کے دو کرنل صاحبان کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ شمالی اتحاد والے، انڈیا اور امریکہ سے مل کر اس پیش منظر کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں جو دسمبر 2014ءکے بعد سامنے آنے والا ہے۔اور کراچی کے جناح ٹرمینل پر دو روز پہلے کا حملہ شائد پاک فوج کے صبرو شکیبائی کا آخری امتحان ہو!

مَیں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ خودکش بمباروں اور IEDsبنانے کی اصل فیکٹریاں افغانستان کے علاوہ پاکستان میں بھی ہیں۔یہ اگر صرف افغانستان میں ہوتیں تو امریکہ کبھی بھی افغانستان سے نہ جاتا ۔وہ جو مغربی دنیا کے فوجی جرنیل اور نامور سیاستدان پاکستان میں آ آ کر کہتے رہے ہیں کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان میں ہیں تو وہ کچھ زیادہ غلط نہیں کہتے رہے۔

اب امریکہ، افغانستان سے نکل رہا ہے تو پاکستان کے لئے یہ ایک بہت بڑا امتحان ہے۔کچھ دن پہلے یہ خبر آئی تھی کہ پاکستانی تحریک طالبان (TTP)دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے۔اس کی یہ تقسیم اور ایسے وقت میں، پاکستان کے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔پاکستان کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ طالبان کے ایک دھڑے کو اعتماد میں لینا چاہیے۔اس کام میں ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں اور فاٹا کے پولیٹیکل ایجنٹ ایک بڑا رول ادا کرسکتے ہیں۔فاٹا کے وہ اراکین قومی اسمبلی جو ہمیشہ حکومتِ وقت کے ساتھ رہتے ہیں ان کو ساتھ ملانا چاہیے اور اس ”اتحادی گروپ“ کو یہ فریضہ سونپنا چاہیے کہ وہ طالبان کے دوسرے گروپ (حریف دھڑے) کی انٹیلی جنس فراہم کرے۔اس انٹیلی جنس میں مندرجہ ذیل عناصر کو اولیت دینی چاہیے۔

1۔ وہ علاقے جو حریف طالبان گروپ کے کنٹرول میں ہیں، ان میں خودکش بمبار تیار کرنے والی ”فیکٹریاں“ کہاں کہاں واقع ہیں؟

2۔ان کی عقیدہ سازی (Indoctrination)کون لوگ کرتے ہیں؟

3۔ان کو ایکسپلوسوز اور دھماکے کرنے والا متعلقہ Parapharnaliaکہاں کہاں سے دستیاب ہوتا ہے؟

4۔ان عناصر میں کون سے لوگ غیر پشتون ہیں(ازبک، تاجک، عرب وغیرہ) اور کون سے پشتون ؟

5۔ان کی مواصلاتی لائن کہاں کہاں سے پاکستان کے Settledعلاقوں سے جڑی ہوئی ہے اور وہ لوگ کون ہیں جو پاکستان کے Settled علاقوں میں اس حریف دھڑے کے ساتھ ہیں؟

6۔ اس حریف دھڑے کے پاکستانی میڈیا سے کیا لنک ہیں اور ”وچولے“ کون لوگ ہیں؟

جب اس قسم کی انٹیلی جنس اکٹھی ہو جائے تو پھر ایک خفیہ گرینڈ آپریشن ترتیب دیا جائے، جس کے ذریعے حاصل شدہ معلومات کے مطابق بیک وقت اچانک چھاپے مارے جائیں۔ غیر ملکی طالبان کو الگ کرکے ان سے مزید انٹیلی جنس حاصل کی جائے اور مزیدچھاپے مارے جائیں۔

شمال میں چترال، دیر ،باجوڑ، مہمند ، اورک زئی، کرم اور خیبرایجنسیوں تک اور پھر شمالی اور جنوبی وزیرستان تک کے علاقے طالبان کی آماجگاہیں ہیں۔حکومت کو ایک نئی اینٹی ٹیررازم فورس قائم کرنا ہوگی(شائد یہ ہو چکی ہے)جو ان آماجگاہوں کی چھان بین (Combing) کرے۔اس فورس کی پشت پر بھاری ریگولر لڑاکا نفری مختص ہونی چاہیے۔

ہمارا اصل ہدف ان IEDsاور خودکش سازوسامان تیار کرنے والوں کو ختم کرنا ہونا چاہیے جو پاکستان کے Settled Districtsمیں آکر تباہی مچاتے اور عوام میں خوف و ہراس کی لہریں دوڑاتے ہیں۔

اس حریف دھڑے کے ڈانڈے کراچی اور پاکستان کے دوسرے اضلاع (بالخصوص جنوبی پنجاب) میں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ان سب کونیست و نابود کرنا ایک بڑا کٹھن ،لیکن بڑا اہم کام ہے۔ جب تک فوج اور سول حکومت اس معاملے میں ایک صفحہ پر نہیں ہوں گے تب تک یہ ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا۔

ہمیں تاریخ سے سبق لینا چاہیے اور پاکستان کو اس دوگونہ عذاب سے نجات دلانی چاہیے۔

میں یہ سفارش بھی کرنا چاہوں گا کہ اس کام میں میڈیا کو شریک کار نہ بنایا جائے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میڈیا کسی بھی راز کو راز نہیں رکھ سکتا۔ ہمارے درجنوں چینل، ایک دوسرے کے ”خون کے پیاسے“ ہیں۔اوپر سے ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے ہیں، لیکن اندر سے ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔اس رقابت میں پیشہ ورانہ پہلو کم اور اقتصادی اور معاشی پہلو زیادہ انوالو ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں ہر دو ماہ کے بعد ایک نیا نیوز چینل کیوں کھل رہا ہے؟ پاکستان تو پہلے ہی بریلی ہے اس کو بانسوں کی کیا ضرورت ہے؟سیاسی رقابتیں اپنی جگہ ہوں گی لیکن معاشی رقابتیں اور تحصیلِ زر کی ہوس نے اس کاروبار کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ اس کے ذریعے حکومت کے کسی بڑے کام کو پایہ ءتکمیل تک پہنچانے میں میڈیا سے مدد لی جائے۔ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے لوگ قوم پرست کم اور مطلب پرست زیادہ ہیں!

ایسا نہ سمجھا جائے کہ میں میڈیا کے خلاف لکھتا رہتا ہوں.... بات یہ ہے کہ ماضی ءقریب میں میڈیا نے آزادیءاظہار کا جو شترِبے مہارا نہ مظاہرہ کیا ہے، وہ میرے اس دعوے کی دلیل سمجھی جانی چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے میڈیا کار پردازوں کو ابھی سنِ بلوغت تک پہنچنے میں کافی وقت لگے گا۔

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہمیں تدبر اور تدبیر سے کام لینا ہوگا۔ایساکرنے میں گاجر اور چھڑی دونوں کو استعمال کرنا چاہیے۔چھڑی کو گاہے گاہے لیکن بڑے موثر انداز میں بروئے عمل لانا چاہیے۔حکومت کی Writاگر بحال کرنی ہے تو چھڑی کو ”سوٹا“ بنانا اور گاجر کو شہد میں ڈبو کر استعمال کرنا پڑے تو ضرور کریں۔

ہمارے ہاں ایک بڑا ستم یہ بھی ہے کہ کالم نگاروں کو وہ وقعت اور وہ توقیر حاصل نہیں جو لکھے پڑے معاشروں کا عام وتیرہ ہے۔میڈیا منفی باتوں کو زیادہ اجاگر کرکے سنسنی خیزی کی کیفیت پیدا کررہا ہے۔اس سے عوام میں اضطراب و ہیجان کی فضا ڈویلپ ہو رہی ہے۔ایسا کرنے سے معاشرہ سدھرتا نہیں، مزید بگڑتا ہے۔پرنٹ میڈیا میں میری طرح کے کالم نویسوں کو زیادہ گھاس نہیں ڈالی جاتی.... اس کی ایک بدیہی وجہ ہے:

کسی بھی مسئلے پر حکومت کی اپنی ایک رائے ہوتی ہے۔اس کے وزراءاور مشیران کرام بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔اس کی بیورو کریسی حکومت کے اشاروں پر چلتی ہے۔اگر نہ چلے تو اس کو ”کھڈے لائن“ لگانے کی آپشن دستیاب ہوتی ہے۔مجھے اس بات کی امید نہیں کہ میری ان معروضات کو پڑھ کر کوئی سرکاری افسر، وزیرِ با تدبیر یا مشیر ذوالتوقیر اپنی حکومتی اینٹی ٹیررازم پالیسی میں اس کالم سے کوئی Inputلے گا۔لیکن پھر بھی امیدکا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جاتا۔ممکن ہے حکومت یا فوج کے متعلقہ ادارے اس نہج پر آل ریڈی کام کررہے ہوں یا ان کے اربابِ اختیار کے اذہان میں میری معروضات سے ملتا جلتا کوئی ایکشن پلان ترتیب پا رہا ہو....اگر ایسا ہو تو چشم ما روشن....(ختم شد)

مزید :

کالم -