کیا فیصلہ کن معرکہ ضروری ہو گیا؟

کیا فیصلہ کن معرکہ ضروری ہو گیا؟
کیا فیصلہ کن معرکہ ضروری ہو گیا؟

  

غالباً دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن معرکے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردی کی بڑی کارروائی کے بعد بظاہر اس کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا۔لیکن یہ معرکہ اتنا آسان نہیں۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج اس عفریت سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور پوری طرح تیار بھی ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا دیگر ادارے بھی اسی طرح چوکس و فعال ہیں، جس طرح پاک آرمی ہے۔ یہ کوئی ایسی جنگ تو ہے نہیں کہ جو صرف سرحدوں پر لڑی جائے گی یہ تو دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ جو گلی محلوں تک پھیل سکتی ہے، کیونکہ دہشت گردوں کے تانے بانے ہمارے شہروں تک پھیلے ہوئے ہیں کراچی ایئرپورٹ پر ہونے والی دہشت گردی کو اگر ایک ٹیسٹ کیس مان لیا جائے تو اس میں سوائے دہشت گردوں کا فوری قلع قمع کرنے کے باقی سارے معاملات معیار سے کمتر نظر آتے ہیں۔ مثلاً ہمارا انٹیلی جنس نیٹ ورک ناکام ہوا اور اس کے بعد بحالی کا کام بھی انتہائی ناقص اور بدترین انتظامات کی نذر ہو گیا۔ حتیٰ کہ کولڈ سٹوریج میں پھنسے ہوئے سات افراد کو اٹھائیس گھنٹے بعد نکالا جا سکا اور وہ بھی اس صورت میں کہ ان کی لاشیں سوختہ ہو چکی تھیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کو 22 گھنٹے اس بات کا ہوش ہی نہیں آیا کہ کولڈ سٹوریج میں لگی ہوئی آگ کو بجھایا جائے جب الیکٹرانک میڈیا نے مسلسل دہائی دی تو وزیر اعظم نوازشریف کی ہدایت پر سندھ حکومت اور دیگر ادارے حرکت میں آئے۔ اس کام کا سب سے پہلے بیڑہ سول ایوی ایشن کو اٹھانا چاہئے تھا، وہ فوری متعلقہ محکموں سے رابطہ کر کے آگ بجھانے کا بندو بست کرتی مگر افسوس ایسا نہیں ہو سکا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سب سے مشکل جنگ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں آپ کا دشمن سامنے نہیں ہوتا یہ درست ہے کہ فیصلہ کن معرکہ آرائی کے وقت شمالی علاقوں میں فوج دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گی مگرپاکستان کے دیگر علاقوں میں ان کا جونیٹ ورک پھیل چکا ہے اور جس کی مدد سے وہ ہر جگہ اپنا مقصد پورا کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، اس کے لئے کیا ہم چوکنا ہیں، ہمارے محکمے اور ادارے ایک دوسرے کے ساتھ کیا وہ مربوط انتظام قائم کر چکے ہیں جو ممکنہ دہشت گردی کی وارداتوں کو روکنے کے لئے ضروری ہے۔ کراچی واقعہ کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کرتے ہوئے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ ایسے مزید حملے کئے جائیں گے کیا اس بات کو نظر اندار کیا جا سکتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا نیٹ ورک پورے پاکستان میں ہے۔ ایسا تو ممکن نہیں کہ وہ ان حالات میں وزیرستان سے دہشت گردوں کو پاکستان کے مختلف شہروں تک پہنچا سکیں کیونکہ سخت حفاظتی انتظامات کی وجہ سے شاید اب یہ ممکن نہ ہو لیکن جو پہلے سے ہمارے شہروں اور دیہات میں روپوش ہیں، ان کا کھوج کون لگائے گا۔ ڈی جی رینجرز کراچی نے بڑے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ کراچی میں غیر ملکیوں پر نظر رکھنے کا کوئی مربوط نظام نہیں ہے۔ گویا وہ بڑی آسانی سے جہاں چاہیں روپوش ہو سکتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک میں موجود غیر ملکی قانونی دستاویزات پر پاکستان نہیں آتے۔ مثلاً کراچی میں جن ازبک دہشت گردوں نے حملہ کیا امکان ہے کہ وہ افغانستان یا ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے ہوں گے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے لوگ بغیر قانونی دستاویزات یا ملکی شناخت کے پاکستان میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک کیسے پہنچ جاتے ہیں پشاور یا کوئٹہ سے چل کر کراچی تک پہنچنا اور درمیان میں سینکڑوں ناکوں، چیک پوسٹوں اور حساس مقامات سے گزرنا اور کسی ادارے کے نوٹس میں نہ آنا ہماری ایک ایسی نا اہلی اور ناکامی ہے کہ جس کا کوئی جواز پیش ہی نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان میں بعض مذہبی و سیاسی جماعتیں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت اس لئے کرتی ہیں کہ وہ اسے پاکستان کے لئے تباہ کن قرار دیتی ہیں، ان کے نزدیک اگر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہوا تو یہ لڑائی ہمارے گلی محلوں تک پھیل جائے گی۔ اس موقف کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس کی وجہ سے اب مزید گومگو کی کیفیت میں رہنا بھی مناسب نہیں۔ خود آپریشن کے مخالفین کی رائے بھی اب اس ضمن میں تبدیل ہو رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے آپریشن کی مشروط منظوری دیدی ہے کہ جو گروپ دہشت گردی میں ملوث ہیں اور مذاکرات نہیں کرنا چاہتے ان کے خلاف آپریشن کیا جائے آپریشن کے حوالے سے دو تین پہلو انتہائی توجہ کے متقاضی ہیں۔ اگر ان کی پیش بندی نہ کی گئی تو جلد ہی اس آپریشن کے خلاف رائے عامہ بیدار ہو جائے گی۔ اول نکتہ یہ ہے کہ آپریشن میں معصوم شہریوں کی جانیں ضائع نہ ہوں۔ اس کے لئے ظاہر ہے شمالی و جنوبی وزیرستان سے بڑے پیماے پر سول آبادی کا انخلاءضروری ہے۔ اس کے لئے کیا انتظامات اور منصوبہ بندی کی گئی ہے، س کا پتہ تو حکومت کو ہوگا تاہم یہ بذاتِ ،خود ایک بہت بڑا ٹاسک ہے۔ اگر آبادی کا انخلاءنہیں ہوتا، لوگ وہیں بیٹھے رہتے ہیں اور آپریشن کی وجہ سے ان کی جانوں کا اتلاف بھی ہوتا ہے تو یہ بات دہشت گردوں کے حق میں جائے گی۔ کیونکہ مختلف اطراف سے حکومت اور فوج پر دباﺅ بڑھے گا۔ اس پہلو پر کس قدر ہوم ورک کیا گیا ہے، اس بارے میں عوام کو کچھ علم نہیں، لیکن اس معاملے کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسی سے جڑا ہوا دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ آپریشن کے ردعمل میں دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لئے مختلف اداروں کے درمیان کیا ہم آہنگی موجود ہے؟ کیا وہی حال تو نہیں ہوگا جو کراچی کے حالیہ واقعہ کے بعد دیکھنے میں آیا۔ پھر اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ ملک میں جہاں جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی انٹیلی جنس اطلاعات ہیں ان پر کڑی نظر رکھی جائے پورے ملک میں ریڈ الرٹ جاری کیا جائے۔ اگر دہشت گرد آپریشن کے دوران دہشت گردی کی سرگرمیاں جاری رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ بات بھی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرے گی، اس سے عوامی ردعمل آپریشن کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔

اس میں تو دو رائے ہو نہیں سکتیں کہ ہم تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑے ہیں ہمیں امن کے لئے ایک ایسا دریا پار کرنا ہے جو آگ و خون سے بھرا ہوا ہے۔ امن کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں، نجانے وہ کیوں بار آور ثابت نہیں ہوئیں۔ یقیناً اب بھی سبھی کی خواہش ہے کہ ملک میں بغیر کسی آپریشن کے امن ہو جائے۔ لیکن خلیج اس قدر گہری ہے جسے پاٹنا آسان نہیں۔ طالبان جو کچھ مانگتے ہیں وہ ہم انہیں دے نہیں سکتے اور ہم طالبان سے جو تقاضا کرتے ہیں وہ اس پر آمادہ نہیں، یوں مذاکرات کی بیل منڈھے چڑھ ہی نہیں سکتی۔ ایسے میں جب کراچی جیسے سنگین ترین اور مملکت کی سلامتی پر حملے کے مترادف واقعات ہوتے ہیں، تو ریاست کی رٹ قائم رکھنے کے لئے فوجی آپریشن ہی واحد راستہ بچتاہے۔ میں ابھی یہاں تک لکھ پایا تھا کہ ٹی وی چینلز پر یہ بریکنگ نیوز چلنے لگی کہ دہشت گردوں نے کراچی میں ایئر پورٹ کے قریب اے ایس ایف اکیڈمی پر حملہ کیا جسے ناکام بنا دیا گیا ہے اور دہشت گرد قریبی آبادی میں فرار ہو گئے ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ اب کوئی بتائے کہ کیا یہ حالت جنگ نہیں اور اس سے نظریں چرا کر کیا ہم امن کی توقع رکھ سکتے ہیں؟

مزید : کالم