ایران اور ترکی کاخونریزی کے خاتمے کے لیے مل کرکام کرنے پر اتفاق

ایران اور ترکی کاخونریزی کے خاتمے کے لیے مل کرکام کرنے پر اتفاق

انقرہ(آن لائن)ایران اور ترکی نے شامی بحران کے حل پر اختلافات کے باوجود مشرق وسطی میں انتہا پسندی اور خونریزی کے خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے پر اتفاق کر لیا ۔ترک دارالحکومت انقرہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ خطے کے دو اہم ممالک ایران اور ترکی، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف لڑائی میں پر عزم ہیں۔“ ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں عدم استحکام سے دونوں ہی ممالک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔اس موقع پر ترک صدر عبداللہ گ±ل نے حسن روحانی کی اعتدال پسندانہ سوچ اور ایران کو عالمی سطح پر زیادہ فعال بنانے سے متعلق کوششوں کی تعریف کی۔یہ امر اہم ہے کہ خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے موضوع پر دونوں ممالک میں واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ایران کی شیعہ حکومت شامی صدر بشار الاسد کی حامی ہے۔ اس کے برعکس سنی مسلمانوں کی اکثریت پر مبنی ملک ترکی کی حکومت اسد کی سخت مخالف ہے۔ روحانی نے شام میں منعقدہ حالیہ الیکشن میں اسد کی کامیابی اور تیسری مرتبہ مدت صدارت پر فائز ہونے پر انہیں مبارک باد پیش کی جبکہ انقرہ انتظامیہ نے انہی انتخابات کو مسترد کر دیا ہے۔ترکی کے اس تاریخی دورے پر ایرانی صدر کے ہمراہ کئی وزراءاور کاروباری شخصیات بھی تھیں۔ دورے کے دوران معیشت، سیاحت، ثقافت اور مواصلات کے شعبوں میں دس معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

 ان معاہدوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو 2015ئ تک دوگنا کرنا ہے۔ دونوں ملک مقررہ وقت تک تجارتی حجم کو تیس بلین ڈالر تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ایران اور ترکی نے اعلی سطحی تعاون کی ایک کونسل کے پہلے اجلاس میں بھی شرکت کی، جس کا مقصد تجارتی و علاقائی انضمام کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔

مزید : عالمی منظر