نہ تم بدلے نہ ہم

نہ تم بدلے نہ ہم
نہ تم بدلے نہ ہم

  

بعض لڑائیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں جیت کر بھی فتح نہیں ملتی،الٹا کمزوری کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک جنگ اس وقت ملک کی مختارکل اسٹیبلشمنٹ اور سب سے بڑے میڈیا گروپ کے درمیان چھڑی ہوئی ہے۔ فی الوقت تو اسٹیبلشمنٹ کی کامیابی کی پیشگوئی کرنا ہی مشکل ہے لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو اس نقصان کا ازالہ نہیں جو اب تک کی دھینگامشتی میں اسے پہنچ چکا ہے۔ یہ نقصان شاید کچھ لوگوں کو دیکھنے میں چھوٹا لگے مگر حقیقت میں ایسا نہیں۔ سکیورٹی کے اسلحہ بردار ادارے ہوں یا انٹیلی جنس ایجنسیاں‘ طاقت کے ساتھ ساتھ ان کی اصل قوت رعب و دبدبہ ہوتی ہے۔ لاپتہ افراد کے معاملے پر اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے بڑے بڑے باوردی افسران کی طلبی اور سرزنش پر مبنی ریمارکس اسٹیبلشمنٹ کو واضح طور پر پریشانی میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ اوپر سے میڈیا گروپ کے ساتھ جاری کشمکش نے تنقید اور اعتراضات کے موضوع کو اور زیادہ وسیع کر دیا ہے۔ محب وطن افراد کی غالب اکثریت نہیں چاہتی کہ یہ بھرم کھل جائے یا ٹوٹ جائے لیکن اسے بچائے رکھنے کے لئے فریقین کو جس صبروتحمل اور بصیرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اس کے آثار ابھی نظر نہیں آ رہے۔ اسٹیبلشمنٹ پوری طرح سے ڈٹی ہوئی ہے تو میڈیا گروپ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ 19اپریل کو کراچی میں حامدمیر پر قاتلانہ حملے کی واردات کے بعد جو موقف اختیار کیا گیا اس میں ذرہ برابر تبدیلی آئی نہ ہی لچک۔ کسی غیرجانبدار ریفری نے باہم دست و گریبان فریقین کو سلیقے سے چھڑانے کی کوشش نہ کی تو یہ کھیل مزید خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ جو فریق خود کو مظلوم ثابت کرانے میں کامیاب ہو گیا وہ عوامی ہمدردی اور حمایت سمیٹنے کے راستہ پر زیادہ تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ شاید یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ایسے تصادم میں وہ مقام بھی آ سکتا ہے جہاں طاقت کا استعمال بھی بے معنی ہو سکتا ہے۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے اقدامات کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے دور میں ہی شروع ہو گیا تھا۔ ایک موقع پر سابق آرمی چیف جنرل کیانی نے عدلیہ کے حوالے سے بعض تحفظات کا علانیہ اظہار کیا تو چیف جسٹس نے اگلے ہی روز کورٹ روم میں ریمارکس کے ذریعے ترکی بہ ترکی جواب دے ڈالا۔ اگر کوئی یہ سوچ رہا تھا کہ افتخار محمد چودھری کے جانے کے بعد پھر سے اسٹیبلشمنٹ کی ماتحت عدلیہ معرض وجود میں آ جائے گی تو وہ جاگتے ہوئے خواب دیکھ رہا تھا۔ اب کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ اعلیٰ عدلیہ اپنے آئینی اختیارات پر کوئی سمجھوتہ کرے گی۔ سو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے قانونی اختیارات سے کہیں آگے بڑھ کر من مانیاں کرنے کی عادی اسٹیبلشمنٹ پر ایک مستقل نگرانی آ چکی۔ جو عدلیہ عمومی مقدمات میں بھی اسٹیبلشمنٹ کو رعایتی نمبر دینے پر تیار نہیں وہ کسی غیرجمہوری اور خلاف آئین اقدام پر کیا فیصلہ دے گی ؟یہ جاننے کے لئے کسی راکٹ سائنس سے واقفیت ضروری نہیں۔

عدلیہ اور میڈیا کے حوالے سے درپیش ”چیلنجوں“ کے تناظر میں یہ تاثر ابھر کر سامنے آنا کہ حکومت کو الٹانے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں،قدرے حیرت انگیز ہے۔ خصوصاً ان حالات میں کہ جب اس بڑے کام کے لئے محض ق لیگ اور قادری میسر آئے ہیں۔ قائد تحریک الطاف حسین کو بھی اس کام میں استعمال کرنے کا منصوبہ تھا مگر سکاٹ لینڈ یارڈ آڑے آ گئی اور انہیں لینے کے دینے پڑ گئے۔ ماسٹرپلان میں تو کپتان عمران خان، فنکشنل لیگ اور کراچی میں دبکے بیٹھے جنرل (ر)پرویز مشرف کو بھی یکجان کرنا تھا مگر منصوبہ ادھورا رہ گیا۔ عمران خان فوری طور پر اقتدار تو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن خود کو ”فائنل اتھارٹی“ سمجھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی ہر بات تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تاہم فی الحال تحریک انصاف کو عدلیہ کے حوالے سے جو کردار سونپا گیا اس پر وہ سکرپٹ کے عین مطابق کام کر رہے ہیں۔ کپتان صاحب پہلے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر برستے تھے اب کہہ رہے ہیں کہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے عدلیہ نے انصاف نہ دیا تو سڑکوں پر ہونگے۔ دوسرے معنوں میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ فیصلہ میری مرضی کے مطابق آنا چاہیے۔

 مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف ایک مو¿ثر تحریک تو اسی صورت بن سکتی ہے کہ جب پرویزمشرف آمریت کے دوران ان کے اتحادی رہنے والے یہ تمام عناصر اکٹھے ہو کر زور لگائیں۔ بصورت دیگر میڈیا،عدلیہ ،سول سوسائٹی‘ پریشر گروپوں اور آمریت مخالف سیاسی جماعتوں کے علاوہ بڑھتے ہوئے عوامی شعور کے سامنے جمہوری حکومت کا خاتمہ کسی طور آسان ہدف نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے وطیرے دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے اپنی سوچ نہیں بدلی تو نوازشریف بھی اپنی عادات ترک کرنے پر تیار نہیں۔ چند ہفتے قبل انتہائی سنجیدہ ماحول میں ہونے والی ایک ملاقات کے حوالے سے گرم ہونے والی خبریں اسی جانب نشاندہی کر رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے تین بڑے مطالبات یوں مسترد کر دیئے، جیسے ان کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ یارلوگوں کا کہنا ہے کہ سول حکومت سے کہا گیا تھا کہ (1) پرویز مشرف کو عدالتی کارروائی سے بچا کر باہر بھجوایا جائے۔ (2) بڑے میڈیا گروپ پر مستقل پابندی لگائی جائے۔ (3) وزیردفاع کے عہدے سے خواجہ آصف کی چھٹی کرائی جائے۔

سول اور عسکری قیادت کی ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والی تصاویر میں تنے ہوئے چہرے دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات زیادہ اچھے نہیں۔ لیکن یہ سمجھنا حماقت ہو گی کہ ممکنہ خرابی کی لپیٹ میں آنے والے خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ قرائن سے تو ایسا نہیں لگتا۔ صورتحال کی نزاکت سے پوری طرح باخبر مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے بھی شاید مکمل منصوبہ بندی کے تحت ایک بار پھر بہت آگے تک جانے کا ارادہ کر رکھا ہے۔

ممکنہ حکومت مخالف تحریک کو ناکام بنانے کے لئے خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت اسلامی سمیت پیپلزپارٹی‘ اے این پی‘ شیرپاﺅ گروپ‘ بلوچستان اور سندھ کی قوم پرست جماعتوں سے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی وزراءکے تیزوتند بیانات اس امر کی عکاسی کر رہے ہیں کہ حکومت الٹانے کی کوئی بھی کوشش ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کی جائے گی۔ طاہرالقادری نے الیکشن 2013ءرکوانے کے لئے اسلام آباد میں جو سیٹ لگایا تھا اس کی مخالفت میں ملک کی بیشتر سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر آ گئی تھیں سو ڈرامہ برے طریقے سے فلاپ ہوا۔ اس وقت پیپلزپارٹی کی حکومت نے طاہرالقادری کو نہ صرف شو کرنے کا پورا موقع دیا بلکہ ہر ممکن سہولتیں بھی فراہم کیں۔ انہیں ریاستی طاقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کا ٹریک ریکارڈ اس حوالے سے مگر زیادہ تابناک نہیں۔ باقی سب واقعات ایک طرف صرف 1992ءکا لانگ مارچ ہی یاد کر لیں۔ آصف نواز جیسے دبنگ جنرل کے ایما پر بینظیربھٹو جیسی بڑی لیڈر کی قیادت میں ان کی اتحادی سیاسی جماعتوں کا لانگ مارچ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ریاستی طاقت کے بل بوتے پر ہی تتربتر کر دیا تھا۔

 اب یہ دیکھنا ہو گا کہ حکومت ہٹانے کے لئے چلائی جانے والی ممکنہ تحریک جس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہو سکتی ہے ،کا سامنا مسلم لیگ (ن) کیسے کرے گی۔ کیا سیاسی حلیفوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ ریاستی طاقت کا استعمال بھی کیا جائے گا؟ ایسا ہوا تو نتائج کیا ہونگے؟ مسلم لیگ (ن) میں موجود کئی عقاب صفت رہنما تلے بیٹھے ہیں کہ حکومت مخالف مہم روکنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا جائے گا۔ ان رہنماﺅں کو یہ بھی اعتماد ہے کہ اس بار جمہوری عمل ختم ہوا تو آمریت کے خلاف ردعمل سامنے آنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ ماضی کے مارشل لاء7 سے 8 سال تک کی اوسط سے وقت نکالتے رہے۔ آئندہ یہ دورانیہ سکڑ کر 7یا 8 ماہ تک محدود ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ لیگی عقابوں کا یہ اعتماد محض خام خیالی ہو لیکن حکومت مخالف سیاسی رہنماﺅں کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ ساجھے کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹ سکتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو سوچ لینا چاہیے کہ اب پہلے والے حالات نہیں رہے۔ ساتھ دینے والے سیاستدان حصہ مانگنے کے لئے اس شدت سے سامنے آئیں گے کہ سر پیٹنا پڑ سکتا ہے۔ ”بے لوث سیاستدانوں“ کے اس لشکر کے ساتھ باغی میڈیا،آزاد عدلیہ، متحرک سول سوسائٹی اور آمریت مخالف بڑے سیاسی اتحاد کا سامنا کرنا سوفیصد مس ایڈونچر ثابت ہو سکتا ہے۔ ”سیاسی کارگل“ برپا کرنے سے بہت بہتر ہے کہ صبر ہی کر لیا جائے۔

اسٹیبلشمنٹ کو گمراہ کن مشورے دینے والوں میں ”اینکرکریسی“ کے عظیم دانشور ہی نہیں بلکہ ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر باں باں کرنے والے بعض لکھاری بھی شامل ہیں۔ کچھ ایسے بھی جنہیں زمینی حقائق کا علم ہے نہ سیاسی ادراک‘ خود کو عقل کل کے مقام پر ازخود فائز کرنے والے ایسے نابغے....جن کی ہر بات انوکھی اور نرالی ہوتی ہے۔ ایسے ہی ایک ”دانشور“ کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں کے بیرون ملک اثاثے ضبط کرنے کے لئے ایک ٹاسک فورس بنائی جائے۔ ٹاسک فورس کا سربراہ آرمی چیف کو بنایا جائے۔ ایسے سقراط سے کوئی یہ پوچھے:”بیرون ملک اثاثے صرف سیاستدانوں کے ہیں کیا“؟....ایک دوسرے نے ٹی وی چینل پر بیٹھ کر تبصرے کا بیڑہ ہی غرق کر دیا۔ ارشاد کرتے ہیں کہ کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد حکومت میں کچھ بھی شرم ہوتی تو استعفیٰ دے دیتی۔ دیسی مرغیوں کے شوقین بزرگ سے بھی پوچھنے کی جسارت کی جا سکتی ہے کہ اپنے مربی جنرل کیانی کے دور میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

مزید : کالم