کراچی ایئرپورٹ: چند غور طلب پہلو

کراچی ایئرپورٹ: چند غور طلب پہلو
کراچی ایئرپورٹ: چند غور طلب پہلو
کیپشن: ashraf qureshi

  

مَیں رات دیر گئے تک ٹی وی چینلز پر کراچی ائرپورٹ پر حملے کے سلسلے میں گفتگو اور مذاکرے سنتا رہا۔مَیں اسے سیکیورٹی کی ناکامی سمجھنے پر مجبور ہوں۔دس اجنبی رنگ و نسل کے لوگ یکساں لباس میں ملبوس ڈھیروں ڈھیر بھاری اسلحہ لے کر ائرپورٹ کے اندر کیوں کر اور کیسے پہنچ گئے۔اگر پہلوان گوٹھ کی طرف سے دیوار توڑی گئی تو اس دیوار اور اس سمت کی حفاظت کی ذمہ داری کس کی تھی۔یقینا سیکیورٹی کی تھی یا پہلوان گوٹھ کی سمت اور اس سمت کی دیوار کو اللہ توکل یا پھر پہلوانوں کے سپرد کر رکھا تھا، جو بھنگ پی کر سو رہے تھے اور دہشت گرد دیوار توڑ کر اندر داخل ہوگئے۔

مَیں ذاتی طور پر اس نتیجے پر بھی پہنچا ہوں کہ سیکیورٹی اہلکار دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے وقت اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئے سب کے سب دہشت گردوں کو ہلاک کر دینے کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔اس طرح ایک تو دہشت گردوں کی کچھار تک رسائی کے امکانات مسدود ہو جاتے ہیں۔دوسرے اگر دہشت گردوں کو اندر سے کسی نے مدد فراہم کی ہو تو اس کا بھی کوئی نشان کوئی ثبوت نہیں رہتا۔ دنیا بھر میں ایسی وارداتوں کے ذمہ داروں کو زندہ پکڑنے کی کوشش کو اولین ترجیح دی جاتی ہے اور پھر گرفتار دہشت گردوں کے ذریعے ان کے ٹھکانوں اور ان کے پس پردہ ہاتھوں کو سامنے لایا جاتا ہے۔دنیا بھر میں خفیہ ایجنسیاں اول تو خطرناک گروہوں میں نفوذ کرکے انہیں اندر سے توڑتی ہیں۔ان کی مسلسل نگرانی کرکے ان کے عزائم کو قبل از وقت ناکام بنا دیتی ہیں۔ان گروہوں میں اپنے مخبر پیدا کرتی ہیں اور ان سے ان کے عزائم کے بارے میں باخبر رہتی ہیں۔ان کی نقل و حمل اور اطلاعات کی مسلسل چھان پھٹک کرتی رہتی ہیں۔ہمارے ہاں ایسی ایجنسیاں جن کی تعداد چھبیس بتائی جاتی ہے۔یہ سب کچھ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔مجھے یہاں ایجنسیوں کو مجرم زندہ پکڑنے کی ترکیبیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے،وہ خود جانتی ہیں۔

مَیں جن مذاکروں اور گفتگوﺅں کو سنتا رہا، ان میں کہیں نہ کہیں سے فورسز اور ایجنسیوں کی نااہلی اور عدم کارکردگی کا ذکر آ ہی جاتا رہا اور پھر فورسز اور ایجنسیوں کی وکالت کرنے والوں اور گن گانے والوں کو یہ الزام ذرا سے ہیر پھیر سے تسلیم کرنا پڑا۔مثلاً ایک شریکِ مذاکرہ کا زور اس بات پر تھا کہ جو لوگ یعنی فورسز کے ارکان ان دہشت گردوں کے آگے کھڑے تھے(مقابلہ کررہے تھے) اور شہید اور زخمی ہو گئے۔ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔اس نکتے پر کم و بیش سب کو اتفاق تھا۔مجھے بھی اس سے کامل اتفاق ہے ،مَیں نہ صرف ان کی بہادری جان سپاری اور حوصلے کی داد دینا چاہتا ہوں، بلکہ ان سے دلی اظہار ہمدردی بھی کرنے کو جی چاہتا ہے کہ اس مقابلے اور موت کے منہ میں انہیں دہشت گردوں نے نہیں، ان کے اپنے اداروں اور اپنے ساتھیوں نے دھکیلا ،جنہوں نے دہشت گردی کی اس کارروائی کو اس مرحلے پر نہیں روکا،جس کی ان سے توقع کی جاتی تھی۔یہ جوان رعنا اگرچہ دہشت گردوں کی گولیوں سے شہید ہوئے ہیں، لیکن ان گولیوں کے چلنے کے اسباب خود ان کے اپنے اداروں کی سستی اور نااہلی میں مضمر ہیں۔کاش ان کی شہادت اور وطن کو محفوظ بنانے کے لئے ان کے بہنے والے خون سے ہماری فورسز اور ایجنسیوں کی فرض شناسی کی حِس بیدار ہو جائے۔

میرا یہ کالم چونکہ ٹی وی مذاکرات کے حوالے سے ہے۔اس لئے ایک دفعہ پھر اس طرف آتے ہوئے ایک اور شریکِ گفتگو جنرل (ر) حمید گل کی بات چیت کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں۔ موصوف کو مَیں مفکر جرنیل سمجھا کرتا تھا، لیکن جب کسی ادارے کے بڑوں پر اپنے ادارے کے تقدس اور بالادستی کا خیال حاوی ہو جائے تو پھر وہاں سے فکر کوچ کر جاتی ہے۔جنرل صاحب نے سب سے پہلے تو ایجنسیوں کو ڈی مورالائیز کرنے کی شکایت کی۔ پھر بتایا کہ امریکہ میں نائن الیون کے بعد ایسی کوئی واردات اس لئے نہیں ہو سکی کہ وہاں اربوں ڈالر سے ہوم لینڈ سیکیورٹی قائم کر دی گئی اور پیٹریاٹ ایکٹ کے نام سے ایک سخت قانون بنا دیا گیا۔جی ہاں امریکہ میں دولت کی کمی نہیں ہے ۔امریکہ اربوں ڈالر خرچ کرسکتا ہے۔پاکستان اس قدر رقم نہیں خرچ کر سکتا،اب اگر ہم امریکہ کے برابر رقم خرچ نہیں کرسکتے تو پھر ہمیں اپنے دفاع سے ہاتھ اٹھا لینا چاہئیں۔امریکہ میں تو ایسے کاموں کے نام پر ہر ادارہ زیادہ سے زیادہ بجٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی نے تو 2ہزار 700چھوٹے ٹینک بھی خرید ڈالے اور تین لاکھ ساٹھ ہزار گولیاں بھی خریدیں، جن پر ہمیشہ سوالات اٹھتے رہے۔ امریکی ایجنسی NSAاگر محدود اور مشکوک لوگوں کی ای میلز، فون اور خط کتابت کی جاسوسی کرتی تو زیادہ آسانی سے غلط کاروں کو پکڑ سکتی تھی یا سارے امریکہ اور دنیا بھر کی جاسوسی کرکے بھوسے کے ڈھیر سے سوئی تلاش کرنے میں زیادہ آسانی تھی، لیکن NSA کا اصل مقصد غلط کار لوگوں کو پکڑنے سے کہیں زیادہ اس قدر وسیع و عریض اور پھیلے ہوئے کام کے نام پر حکومت سے زیادہ سے زیادہ فنڈز حاصل کرنا تھا۔ پیٹریاٹ ایکٹ سے زیادہ تر غیر ملکی تارکین وطن متاثر ہوتے ہیں، اس لئے اس غیر آئینی اور کالے قانون پر زیادہ لوگوں نے آواز نہیں اٹھائی، لیکن اب بھی اس قانون کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں اور حالیہ دنوں میں کانگریس میں ری پبلیکن اکثریت میں نہ آجاتے تو یہ قانون خاتمے کے قریب تھا۔آئین سے متصادم اور انسانی حقوق کو پامال کرکے کوئی حکومت اور کسی بھی حکومت کی کوئی بھی فورس عوام کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، جنرل صاحب ایک غلط قانون کی غلط وکالت فرما رہے ہیں۔

اسلام ہنگامی صورت حال میں مراعات میں اضافے کی روایت تو رکھتا ہے۔جیسا کہ عہد فاروقی میں قحط کے دوران چوری کی سزا معطل کر دی گئی، لیکن ہنگامی صورت حال میں انسانی بنیادی حقوق کے خاتمے کی روایت ہر گز نہیں رکھتا۔حضرت علامہ اقبالؒ نے محاصرئہ اورنہ کے حوالے سے ایک واقعہ نظم کیا ہے۔محاصرے کے دوران محصور مسلمان لشکر کا سامان خوراک ختم ہو جاتا ہے تو کچھ لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ ذمّیوں کا مال حاصل کر لیا جائے، کیونکہ ہنگامی (اضطراری) حالت میں اس کا جواز ہے، لیکن مفتی اعظم نے اس دلیل کو مسترد کردیا اور فتویٰ دیا کہ ذمّیوں کا مال مسلمانوں پر کسی حال میں حلال نہیں ہے۔سپہ سالار نے اس فتوے کو خوش دلی سے قبول کیا اور کہا کہ پھر ایک ہی راستہ ہے کہ جان لڑا دی جائی اور محاصرہ ختم کرا لیا جائے اور بالآخر مسلمان لشکر نے جان لڑا کر محاصرہ کرنے والوں کو شکست دے کر بھاگنے پر مجبور کردیا۔عوام کے جان و مال اور سرحدوں کی حفاظت کے نام پر انہیں حقوق سے محروم کرنا غیر انسانی غیر اخلاقی اور غیر جمہوری طرزعمل ہے، جو حکومتیں اپنے عوام کے حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتیں، وہ سرحدوں کی حفاظت اور عوام کے جان و مال کی حفاظت بھی نہیں کر سکتیں، بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ وہ سرحدوں اور جان و مال کے تحفظ میں بُری طرح ناکام رہتی ہیں۔

ہمیں ہر شعبے میں اپنی کارکردگی کی جانچ کرکے اسے بڑھانے کی کوشش کرنا چاہیے اور کارکردگی کا جائزہ لیتے رہنے کا نظام وضع کرنا چاہیے، ورنہ نام نہاد انقلابی اور نظام کو تبدیل کرنے کے درپے مہم جو قوم کو غلط سمت لے جانے کے لئے پرتول رہے ہیں اس یلغار سے ہم بچ بھی گئے تو برسوں پیچھے جا پڑیں گے۔ہماری عزتیں ،ہمارے وقار اور ہمارے موریل ہماری کارکردگی سے وابستہ ہیں اور کارکردگی وہی ہے جو مثبت ہے، جو ملک و قوم کی فلاح اور بہبود اور عوام کے حقوق کی ضامن ہے۔

مزید :

کالم -