غیر ملکی ہاتھ بے نقاب ہونا چاہیے

غیر ملکی ہاتھ بے نقاب ہونا چاہیے

وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کچھ شواہد مل گئے ہیں، حملے کے اشارے ایک ملک کی طرف جا رہے ہیں، صرف تصدیق ہونا باقی ہے۔وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے بھی کہا ہے کہ کراچی ائرپورٹ پر حملے میں غیر ملکی ہاتھ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک انصاف کے سینئر رہنما جاوید ہاشمی نے کہا ہے حملے میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں، حملہ آوروں سے برآمد ہونے والا اسلحہ بھارتی ساختہ ہے ان سے فیکٹر سیون انجکشن برآمد ہوئے ہیں جو زیادہ خون کے بہاﺅ کو روکنے کے کام آتے ہیں اور رگوں میں خون کو منجمد کر دیتے ہیں۔ عام طور پر اسرائیلی، امریکی اور بھارتی فوجی اس انجکشن کا استعمال کرتے ہیں۔ادھر پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھوان نے کہا ہے کہ بھارت ہر سطح اور ہر طرح کی دہشت گردی اور تخریب کاری کی مذمت کرتا ہے۔ ہم پاکستان سے دوطرفہ تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔بھارتی ہائی کمشنر نے کراچی ائرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کی اور کہا ہم خود بھی دہشت گردی کا شکار ہیں، انہوں نے کراچی ائرپورٹ پر حملے سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔

کراچی ائرپورٹ پر حملے میں کون ملوث ہے اور کون نہیں، ابھی تک حکام کسی نتیجے پر نہیں پہنچے، لیکن وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ اشارے ایک ملک کی طرف جا رہے ہیں، واضح کرتا ہے کہ اس حملے میں براہ راست یا بالواسطہ غیر ملک ملوث ہو سکتا ہے۔مرنے والے دہشت گردوں سے جو اشیاءبرآمد ہوئی ہیں ان میں اسلحہ اور انجکشن بھارتی ساختہ ہیں جس سے بھارتی کنکشن کا سراغ ملتا ہے، لیکن جب تک مکمل تحقیقات اور ثبوت مہیا نہ ہو جائیں اس وقت تک تیقن کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ وزیرداخلہ اوردوسرے پاکستانی رہنماﺅں کے بیانات میں کھل کر بھارت کا نام نہیں لیا گیا حالانکہ بھارت ایسے مواقع پر ہر طرح کی احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتا ہے اور پاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دے دیتا ہے،حالانکہ بھارت میں زعفرانی دہشت گردی بھی عام ہے اور پاکستان آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کو آگ لگانے کے واقعہ میں بھارتی حاضر سروس فوجی افسر ملوث نکلا تھا جس کا کھرا ناپتے ناپتے ایک پولیس افسر اسے گرفتار کرنے کے قریب پہنچا تو خود پراسرار حالت میں مارا گیا، حالانکہ بھارت نے اس کا الزام بھی شروع شروع میں پاکستان ہی پر جڑ دیا تھا۔

دوسری جانب کراچی ائرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی ہے اور مستقل جنگ بندی تک حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان اس واقعے کو حکیم اللہ محسود کا بدلہ قرار دے رہے ہیں، ایسے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اگر طالبان حملے کی ذمے داری قبول کررہے ہیں تو کیا انہیں القاعدہ کا تعاون حاصل ہے کیونکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس انداز میں یہ حملہ کیا گیا اس کی صلاحیت طالبان کے پاس نہیں ہے اس لئے القاعدہ نے ان کی معاونت کی ہوگی۔ان حالات میں یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں کہ واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے، پاکستان میں ان عناصر کی کمی نہیں ہے جو کُھلم کُھلا کہہ رہے ہیں کہ اس حملے میں چونکہ بھارتی اسلحہ برآمد ہوا ہے اس لئے بھارت لازماً ملوث ہے۔ایسی صورت میں یہ ضروری ہے کہ اس بیرونی ہاتھ کا سراغ لگایا جائے جس کی جانب وزیرداخلہ نے اشارہ کیا ہے اور اگر یہ ”بیرونی ہاتھ“ بھارت کا ہے تو کُھل کر بھارت کا نام لینا چاہیے۔افغانستان میں امریکہ اپنا سازوسامان سمیٹ رہا ہے اور چھ ماہ کے اندر واپس جانے کی تیاری کررہا ہے۔اس خلاءکو پُر کرنے کے لئے بھارت پر تول رہا ہے اور افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے۔وہےں سے پاکستان کے خلاف مداخلت کرتا ہے، افغانستان میں بھارت نواز عبداللہ عبداللہ کے صدارتی انتخاب جیتنے کا امکان ہے جن پر دو قاتلانہ حملے بھی ہو چکے ہیں۔ صدر حامد کرزئی نے ان حملوں میں بھی پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کی ہے۔تصور کیا جا سکتا ہے کہ جب خود عبداللہ عبداللہ صدارتی منصب سنبھال لیں گے تو الزام تراشیوں کی سطح کیا ہوگی اور افغانستان میں بڑھتی ہوئی بھارتی موجودگی کیا رنگ لائے گی، ایسے میں بھارت میں نریندر مودی کی حکومت سے بھی کوئی اچھی توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتیں، ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اگلا دور پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے مشکل دور ہی ثابت ہوگا اور تعلقات کی بہتری کے لئے جو توقعات وابستہ کی گئی ہیں وہ نقش برآب ثابت ہوں گی۔

تحریک طالبان کے بیان سے مترشح ہوتا ہے کہ وہ مزید کارروائیوں کے لئے بھی تیار ہیں اور ان سے نیک امیدیں وابستہ نہیں کی جا سکتیں، حیرت کی بات ہے ان حالات میں بھی کچھ خوش فہم حلقوں نے مذاکرات مذاکرات کی گردان شروع کررکھی ہے۔اب معلوم نہیں ان کی خوش فہمی کی کوئی بنیاد بھی ہے یا پھر وہ حالات کا صحیح ادراک کرنے کی صلاحیت ہی سے عاری ہو چکے ہیں۔ان سے کوئی پوچھے کہ ایک طرف تو طالبان نہ صرف کراچی ائرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کررہے ہیں، بلکہ مزید حملوں کا اعلان بھی کررہے ہیں ایسے میں مذاکرات کی رٹ لگانے کا فائدہ ؟ایک طرف اگر آگ اور خون کا کھیل کھیلا جا رہا ہوگا تو کیا ان حالات میں مذاکرات کی میز بچھائی جا سکتی ہے؟ہماری مذاکرات کے حامی حلقوں سے گزارش ہے کہ وہ معروضی حالات دیکھ کر بات کریں تو بہتر ہے۔

کراچی ایئرپورٹ کا واقعہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ اس میں جو بھی لوگ ملوث ہیں انہیں طشت ازبام کیا جائے اور اگر بیرونی ہاتھ ملوث ہے تو اس ملک کا نام بھی کھل کر لیا جانا چاہیے۔ائرپورٹ سیکیورٹی فورس نے کراچی ائر پورٹ پر حملہ کرنے والوں کے عزائم ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو مبارکباد دی ہے جس کی وہ بجا طور پر مستحق ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لئے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو بہتر بنایا جائے۔

مزید : اداریہ